03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
متنازع موروثہ زمین چھڑانے کے اخراجات اور اس کی ملکیت کا حکم
88956میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

محترم علمائے کرام کی خدمت میں عرض ہے کہ میں اشرف بی بی بنتِ روشن وزیر یہ سوال کرنا چاہتی ہوں کہ ہم دو بھائی اور پانچ بہنیں ہیں۔ ہماری آبائی تین قسم کی زمینیں ہیں: (1) پہلی وہ زمین ہے جس میں ہمارا آبائی گھر اور کھیت وغیرہ شامل ہیں، جو مین روڈ سے کچھ فاصلے پر واقع ہے۔ (2) دوسری وہ زمین ہے جو روڈ کے کنارے دکانوں اور گوداموں کی صورت میں موجود ہے۔ یہ جگہ والد صاحب کے زمانے میں ضلعی حکومت کے پاس بطور "گودام " (کمرشل کرایہ) پر تھی۔ والد صاحب کی وفات کے بعد جب حکومت نے اپنے لیے مستقل گودام تعمیر کیا تو ہمارے بھائی نے ڈپٹی کمشنر چترال کے نام درخواست دے کر وہ دکانیں واپس حاصل کیں۔ درخواست میں صاف الفاظ میں لکھا گیا تھا کہ یہ ہماری پدری (آبائی) زمین ہے، اور اسی بنیاد پر ڈی سی چترال نے وہ زمینیں واپس کر دیں۔ (3) تیسری زمین دریا کے کنارے واقع ہے جو والد صاحب کی زندگی میں دو قبیلوں کے درمیان متنازعہ تھی۔ اس معاملے میں طویل عرصہ عدالتی مقدمہ چلتا رہا۔ ابتدا میں ہمارے قبیلے "وزیر بیگ" کی جانب سے والد محترم روشن وزیر وکیلِ مختار تھے، بعد ازاں ہمارے بھائی ڈاکٹر سرفراز نے یہ ذمہ داری سنبھالی۔ بالآخر عدالت نے فیصلہ ہمارے قبیلے وزیربیگ قبیلہ کے حق میں جاری کیا، اور اس زمین کو قبیلے کے تمام افراد میں تقسیم کر دیا گیا، جس میں ہمارے والد کے نام پر بھی حصہ آیا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ والد صاحب کی وفات کے بعد ہمارے بھائیوں نے ہم بہنوں کو وراثت سے محروم رکھتے ہوئے ساری جائیداد آپس میں تقسیم کر لی۔ جب ہمیں بعد میں اس کا علم ہوا اور ہم نے اپنے حق کا مطالبہ کیا تو بھائیوں نے صرف آبائی گاؤں والے گھر اور کھیتوں کے قریب کی زمین میں سے ہمیں حصہ دینے پر آمادگی ظاہر کی۔ باقی دو جگہوں یعنی (1) دکانوں والی زمین اور (2) عدالت کے ذریعے حاصل شدہ زمین میں سے وہ ہمیں حصہ دینے سے انکار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دکانیں ان کی ذاتی ملکیت ہیں، حالانکہ ان کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں، بلکہ حکومت سے زمین واپس لیتے وقت خود اقرار کر چکے ہیں کہ یہ آبائی زمین ہے۔ اسی طرح عدالتی زمین سے حصہ نہ دینے کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے مقدمے پر خرچ کیا تھا، لہٰذا وہ اس کے مالک ہیں۔ حالانکہ ہم بہنوں نے گھر کے تمام کام سنبھالے، بھائیوں کی خدمت کی، اور ہمیں تعلیم سے بھی محروم رکھا گیا۔ لہٰذا گزارش ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا ان دو جگہوں — یعنی (1) دکانوں کی زمین، اور (2) عدالت کے فیصلے کے ذریعے حاصل شدہ زمین — میں ہم بہنوں کو وراثت کا حصہ ملے گا یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چونکہ میراث مملوکہ اموال میں جاری ہوتی ہے ،اس لیے اگر ثابت ہوجائے کہ یہ تینوں زمینیں آپ کے والد کے انتقال کے وقت ان کی ملکیت میں تھیں ،تو اس صورت میں  بہنوں کا بھی اس  میں حق ہوگا۔تقسیم  اس طرح  ہوگی کہ  اگر کوئی اور  شرعی وارث نہ ہو توکل مال کے نو حصے کیے جائیں گے  ،جن میں سے ہر   بھائی کو دو حصے اور ہر بہن کو ایک حصہ ملے گا۔عدالت کے فیصلے کے ذریعے  حاصل ہونے والی زمین پر  اگر والد کی وفات کے بعد اخراجات آئے ہیں  تو بہنیں اپنے حصہ کے بقدر ان کی ادائیگی کی ذمہ دار ہیں۔

حوالہ جات

يا أيها الذين آمنوا لاتأكلو أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم(سورة النساء:29)

يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين(سورة النساء:11)

في شرح التنوير(522/10):

و يصير عصبة بغيره البناتُ بالابن، وبنات الابن بابن الابن و إن سفلوا.وفي الرد:قوله:(البنات)اسم يصير مؤخر،وخبره قوله:"عصبةبغيره".وقوله:"بالابن"قيد به ؛لأنهن عند عدمه صاحبات فرض دائماً،وابن الابن لايعصب ذات فرض.

و في مختصر القدوري(246/1):دارالكتب العلمية-بيروت،لبنان-وأقرب العصبات :البنون و بنوهم ثم الجد،،،إلى أن قال:والابن وابن الابن والإخوة يقاسمون أخواتهم ،للذكر مثل حظ الأنثيين.

احسان اللہ گل محمد

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

 13/جمادی الاولی/7144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

احسان ولد گل محمد

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب