03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رہائش گاہ نہ ہونے کی صورت میں پلاٹ پر زکوۃ
89077زکوة کابیانان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی

سوال

میرا ذاتی گھر نہیں ہے، لیکن میرا ایک پلاٹ ہے جو اس نیت اور ارادے سے خریدا گیا تھا کہ جب اس پلاٹ کی اچھی قیمت ملے گی تو اس کو بیچ کر اپنا گھر خرید لوں گا۔ مگر ابھی ملکی حالات کی وجہ سے اگر اسے قیمتِ خرید پر بھی بیچوں تو نقصان ہوگا۔ اس لیے فی الحال انتظار میں ہوں کہ جب حالات بہتر ہوں تو اسے بیچ کر اپنا ذاتی گھر خرید لوں۔سوال یہ ہے کہ کیا اس نیت کے ہونے کی بنا پر مجھ پر اس پلاٹ کی زکوٰۃ واجب ہے یا  نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کی پلاٹ بیچنے کی نیت ابھی تک ختم نہیں ہوئی، فقط سودانہ بننے کی وجہ سے بیچنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ پلاٹ بیچنے کی نیت سے خریدا گیا ہےاور ابھی تک نیت بھی برقرار ہے، تو یہ پلاٹ قابلِ زکوٰۃ اثاثوں میں شمار ہوگا۔ سال گزرنے پر اس دن کی قیمتِ فروخت پر زکوٰۃ لازم ہوگی۔ اگر موجودہ قیمت کم ہو چکی ہے تو اسی کم قیمت پر ہی زکوٰۃ واجب ہے۔  اگر آپ بیچنے کی نیت ختم کر کے اس پر تعمیر کی نیت کر لیں گے تو اس دن کے بعد اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

الدر المختار شرح تنوير الابصار( 2/267:

(وما اشتراه لها) أي للتجارة (كان لها) لمقارنة النية لعقد التجارة۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(أو ‌نية ‌التجارة) في العروض، إما صريحا ولا بد من مقارنتها لعقد التجارة كما سيجيء، أو دلالة بأن يشتري عينا بعرض التجارة۔۔۔۔وشرط مقارنتها لعقد التجارة وهو كسب المال بالمال بعقد شراء أو إجارة أو استقراض.

)المحیط البرھانی :(2/247

ثم نية التجارة لا عمل (لها) ما لم ينضمَّ إليها الفعل بالبيع والشراء أو السوم فيما يسام، حتى إن من كان له عبد للخدمة أو ثياب للبذلة نوى فيهما التجارة لم تكن للتجارة حتى يبيعها، فيكون في الثمن الزكاة مع ماله.

)الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ:(23/271

اتفق الفقهاء على أنه يشترط في زكاة مال التجارة أن يكون قد نوى عند شرائه أو تملكه أنه للتجارة، والنية المعتبرة هي ما كانت مقارنةً لدخوله في ملكه؛ لأن التجارة عمل فيحتاج إلى النية مع العمل، فلو ملكه للقنية ثم نواه للتجارة لم يصر لهاولو ملك للتجارة ثم نواه للقنية وأن لايكون ۔۔۔۔۔للتجارة صار للقنية.

حنبل اكرم

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

27/جمادی الاولیٰ /1447ھ                                                     

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب