| 89161 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
میرا نام شیزان علی ہے، میں راولپنڈی کا رہائشی ہوں۔ میری بیوی نے ایک جگہ سے یہ فتویٰ لیا کہ عدالتی یک طرفہ خلع حرام ہوتا ہے یا نہیں؟ تو اسے جواب دیا گیا کہ یہ حرام ہے۔ اس کے باوجود اس نے عدالت سے خلع لے لی۔ خلع لیے ہوئے اب تک تین ماہ گزر چکے ہیں۔سوال یہ ہے کہ اب میں اور وہ دوبارہ ساتھ رہنا چاہتے ہیں، لیکن میرے گھر والے کہتے ہیں کہ عدالتی خلع کے بعد ساتھ رہنا جائز نہیں ہے، جبکہ میں نے کبھی طلاق نہیں دی۔ اس نے عدالت سے یک طرفہ خلع لی ہے۔اب دریافت طلب بات یہ ہے کہ کیا ہمارا ساتھ رہنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عدالتی یک طرفہ خلع شرعاً اس وقت معتبر ہوگا جب فسخِ نکاح کی شرعی وجوہ میں سے کوئی وجہ پائی جائے۔ مثلاً: شوہر نامرد ہو ،یا متعنت ہو،یعنی( نان نفقہ نہ دیتا ہو)،یا مفقود ہو،یعنی( ایسا لاپتہ ہو کہ اس کی زندگی اورموت معلوم نہ ہو)،یا بیوی پر نا قابلِ برداشت ظلم کرتاہو،ان مذکورہ وجوہات میں سے کسی بھی وجہ کی بنیاد پر اگر عورت فسخِ نکاح کا دعویٰ دائر کرے، اور دو شرعی گواہوں کی گواہی سے اپنا دعویٰ جج کے سامنے ثابت بھی کر دے، تو عدالت کی جانب سے جاری کردہ یک طرفہ خلع شرعاً فسخِ نکاح کے حکم میں معتبر ہوگا، اور اس کے نتیجے میں ایک طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی، جس سے نکاح ختم ہو جائے گا۔ایسی صورت میں ساتھ رہنے کے لیے دو شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہو گا۔لیکن اگر مذکورہ شرائط میں سے کوئی شرعی وجہ موجود نہ ہو،یا موجود ہو مگر عورت نے گواہوں سے ثابت نہ کیا ہواور شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت نے یک طرفہ خلع کا فیصلہ جاری کیا ہو، تو یہ شرعاً معتبر نہیں ہوگا، اور نکاح بدستور قائم رہے گا۔البتہ ایسی صورت میں بھی احتیاطاً تجدیدِنکاح (دو شرعی گواہوں کی موجودگی میں )کر لیا جائے،تو بہتر ہوگا۔
حوالہ جات
قال علامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ :وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.(رد المحتار :3/ 441)
وفی تکملة فتح الملهم: قد قصرت الشريعة الإسلامية حق الطلاق على الزوج، ولم يجعله بيد المرأة في الظروف العادية؛ لأن المرأة من طبيعتها الاستعجال في الأمور، فلو كان خيار الطلاق بيدها لكانت تقع الفرقة لأسباب بسيطة، وأغراض تافهة، ولكنها لم تسدد باب الفرقة من جهة المرأة بالكلية، وإنما أباحت لها ذلك في ظروف خاصة، فيمكن لها مثلاً: أن تعقد النكاح بشرط تفويض الطلاق إليها، ولو لم تشترط ذلك في العقد فلها أن تختلع من زوجها برضاه، وإن لم يكن ذلك فلها أن تطلب من القاضي فسخ النكاح إذا كان زوجها عنيناً، أو مجنوناً، أو متعنتاً، أو مفقوداً. (تکملة فتح الملهم:134/1)
قال علامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ :لأن الخلع عقد معاوضة من جهتها فإنها تملك نفسها بما تدفعه له، ولذا كان الطلاق على مال بائنا. (رد المحتار :3/ 465)
سخی گل بن گل محمد
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
/10جماد الثانی،1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سخی گل بن گل محمد | مفتیان | سعید احمد حسن صاحب / مفتی محمد صاحب |


