03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حالت ِاحرام میں انڈر ویئر پہننے کا شرعی حکم
89162حج کے احکام ومسائلاحرام اور اس کے ممنوعات کا بیان

سوال

میرا عمرے پر جانے کا ارادہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ احرام کی حالت میں مرد سلا ہوا کپڑا نہیں پہن سکتے، جبکہ میں عام طور پر انڈر ویئر لازمی پہنتا ہوں، تاکہ اگر شہوت یا کسی وجہ سے مذی وغیرہ نکل بھی جائے تو فوراً پتہ چل سکے اور نماز وغیرہ دہرائی جا سکے۔ دورانِ نماز بھی اکثر و بیشتر کوئی بری بات ذہن میں آجاتی ہے، تو فکر نہیں ہوتی کہ اگر ناپاکی ہوئی بھی ہو تو اس کا علم ہو جائے گا اور نماز یا کپڑے کی پاکی کے حوالے سے کوئی مسئلہ نہ ہوگا۔  مگر حالتِ احرام میں انڈر ویئر نہ پہننا میرے لیے مشکل معلوم ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے عبادت میں بھی خلل واقع ہوتا ہے۔  ایسی صورت میں میں کیا کروں؟ براہِ کرم مشورہ دیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عمرہ ایک عظیم عبادت اور اللہ تعالیٰ کے گھر کی حاضری ایک بڑی سعادت ہے، جس کا مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا، اپنے گناہوں کی معافی مانگنا اور نفس کا تزکیہ و اصلاح کرنا ہے۔ اس لیے اس بابرکت سفر میں انسان کو حتی الامکان گناہوں اوربرے خیالات سے بچنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے، اور بار بار شیطان کے وساوس سے اللہ کی پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ اگر احرام کی حالت میں دل ودماغ میں شہوانی خیالات آنا شروع ہوں، تو فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف  متوجہ ہونا،اوراللہ تعالی کے ذکر میں مشغول ہو جانا چاہیے، ان شاء اللہ اس پر عمل کرنے سے ذہنی پاکیزگی بھی حاصل ہوجائے گی اور  درپیش مسئلہ  بھی ختم ہو جائے گا ۔ تاہم اگر  پھر بھی کسی بیماری یا خاص حالت کی وجہ سے رطوبت کے اخراج کا مسئلہ  ہو، تو ایسی صورت میں  بغیر سلا ہوا لنگوٹ یا کپڑا باندھ سکتے ہیں ۔اس کے اندر ٹشو یا روئی رکھ لینا بہتر ہوگا تاکہ اگر کوئی رطوبت خارج ہو بھی جائے تو وہ احرام کے کپڑے تک نہ پہنچے۔ اگر ٹشو پر قطرے لگیں تو اس سے احرام ناپاک نہیں ہوگا، اور ٹشو کو نکال کر وضو کر کے نماز یا طواف  ادا کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر قطرے براہِ راست احرام کے کپڑے پر لگ جائیں تو اس جگہ کو دھونا ضروری ہوگا۔

نیزسوال میں بیان کردہ صورتِ حال کے مطابق، حالتِ احرام میں انڈر ویئر یا کوئی بھی سلا ہوا کپڑا استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں ۔

حوالہ جات

قال علامۃ الکاسانی رحمہ اللہ :‌فالمحرم ‌لا ‌يلبس ‌المخيط ‌جملة، ولا قميصا ولا قباء، ولا جبة، ولا سراويل، ولا عمامة، ولا قلنسوة ولا يلبس خفين. (بدائع الصنائع:2/ 183)

وفی مرعاة المفاتيح: وقد نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يلبسه المحرم) قال القاري: فجعل طرحه عليه لبسًا، ومذهبنا أنه يحرم على المحرم لبس المخيط وتغطية بعض الأعضاء بالمخيط وغيره على الوجه المعتاد، والمخيط ‌الملبوس ‌المعمول ‌على ‌قدر ‌البدن أو قدر عضو منه بحيث يحيط به سواء بخياطة أو نسج أو لصق أو غير ذلك، وتفسير لبس المخيط على الوجه المعتاد أن لا يحتاج في حفظه إلى تكلف عند الاشتغال بالعمل، وضده أن يحتاج إليه۔ (مرعاة المفاتيح: 9/ 383)

وفی فقه العبادات على المذهب الحنفي:يحرم على الرجل لبس ما يحيط ببدنه، سواء نتيجة غرز أو لصق أو نسج، أو أي ثوب ‌لبساً ‌معتاداً كالقميص والسراويل والعمامة والقباء. لما روي عن ابن عمر رضي الله عنهما أن رجلاً قال: يا رسول الله ما يلبس المحرم من الثياب؟ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (لا يلبس القُمُص ولا العمائم ولا السراويلات، ولا البرانس، ولا الخفاف، إلا أحد لا يجد نعلين فليلبِس خفين وليقطعهما أسفل الكعبين..). أما إذا لم يكن اللبس على الهيئة المعتادة، كأن ألقيت عليه عباءة وهو نائم فلا مانع. وإذا وضع العباءة على كتفيه دون أن يزرِّر أو يدخل يديه في كميها فيكره، وإن زرّر يحرم.( فقه العبادات :183)

سخی گل بن گل محمد             

دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی                                            

/10جماد الثانی،1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سخی گل بن گل محمد

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب