03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ساس اور داماد کے رابطے اور تصاویر بنانے کا حکم
89176نکاح کا بیانحرمت مصاہرت کے احکام

سوال

اگر ساس اور داماد آپس میں فون پر کلوز باتیں کریں بغیر کسی غلط نیت کے یا کسی موقع پر ساس داماد کے کاندھے پر ہاتھ ڈال کر تصویر لیں اس سے تو بیوی شوہر پر حرام نہیں ہوگی؟

تنقیح: رابطہ کرنے  پر سائلہ نے  بتایا کہ کلوز باتوں سے مراد عام سی باتیں ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ساس اور داماد کا آپس میں فون پر بات کرنے یا کسی خاص موقع پر ساس کا  داماد کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر تصویر بنانے سے بیوی شوہر پر حرام نہیں ہوتی۔تاہم ساس اور داماد کو ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے جس سے لوگ ان کے بارے میں بدگمانی کے شکار  ہوں۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع:(2/260)

وكذا تثبت بالوطء في النكاح الفاسد وكذا بالوطء عن شبهة بالإجماع، وتثبت باللمس فيهما عن شهوة وبالنظر إلى فرجها عن شهوة عندنا ولا تثبت بالنظر إلى سائر الأعضاء بشهوة ولا بمس سائر الأعضاء إلا عن شهوة بلا خلاف.

الفتاوی الھندیۃ:(1/274)

ولا تثبت بالنظر إلى سائر الأعضاء إلا بشهوة ولا بمس سائر الأعضاء لا عن شهوة بلا خلاف، كذا في البدائع. والمعتبر النظر إلى الفرج الداخل هكذا في الهداية. وعليه الفتوى هكذا في الظهيرية وجواهر الأخلاطي. قالوا: لو نظر إلى فرجها وهي قائمة لا تثبت حرمة المصاهرة، وإنما يقع النظر في الداخل إذا كانت قاعدة متكئة، كذا في فتاوى قاضي خان.

الفتاروی التاترخانیۃ:(4/52)

وفی المضمرات: لایشترط شھوتھما جمیعا، بل یکفی اشتھاء أحدھما إذا کان الآخر محل الشھوۃ، واشتھاء أحدھما عند المس أیھما کان الذکر أو الأنثی الماس أو الممسوس.

زبیر احمد بن شیرجان

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

10/06/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب