03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سوسائٹی کے فارم کی خریدوفروخت اور قسط میں ایڈجسٹمنٹ کا حکم
89222خرید و فروخت اور دیگر معاملات میں پابندی لگانے کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

اکثر ہاؤسنگ سوسائٹیز والے کالونی کاٹتے وقت "فارم" بیچتے ہیں، فارم ایک کاغذ/دستاویز ہوتا ہے جو سوسائٹی کے پروجیکٹ میں ملکیت کو ظاہر کرتا ہے، فرض کر لیتے ہیں کہ ایک فارم کی قیمت 10 ہزار ہے۔ فارم نکالنے کے کچھ عرصے بعد (مثلا ایک سال بعد) سوسائٹی والے اس فارم کی ایک ویلیو کا اعلان کرتے ہیں، فرض کر لیتے ہیں کہ سوسائٹی والے ایک سال کے بعد کہتے ہیں کہ اس 10 ہزار والے فارم کی ویلیو20 ہزار ہے، اب فارم خریدنے والے کو فائدہ اس طرح ہوگاکہ مثلااگر ایک فارم 10 ہزار کا ہوگا اور ایک شخص نے 100 فارم خریدے ہیں تو اس کی کل انویسٹمنٹ دس لاکھ ہوگی، ان فارمز کو خریدنے کا فائدہ اس شخص کو پلاٹ خریدتے وقت ہوگا۔ مثال کے طور پر یہ شخص اس سوسائٹی میں 20 لاکھ کا پلاٹ قسطوں پر خریدتا ہے اور ماہانہ قسط 30 ہزار بنتی ہے تو ایک سال کے بعد جب سوسائٹی والے فارم کی ویلیو کا اعلان کریں گے (مثلا 20 ہزار) تو اس شخص کو ماہانہ قسط میں صرف 10 ہزار دینے ہوں گے اور باقی 20 ہزار فارم کی ویلیو میں ایڈجسٹ ہو جائیں گے، اس سکیم سے سوسائٹی کو سال کے آغاز میں پیسے مل جاتے ہیں اور فارم خریدنے والے کو کچھ عرصہ بعد قسطوں کی ادائیگی میں رعایت مل جاتی ہے۔ قسطوں میں رعایت کے علاوہ ان فارمز کو خریدنے کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر کسی نے 10 ہزار کا فارم خریدا ہے۔ اب مارکیٹ میں اس فارم کی قیمت بڑھ گئی۔ فرض کر لیتے ہیں کہ یہ 11 ہزار کا ہوگیا۔ فارم خریدنے والا اسے آگے 11 ہزار میں بیچ دیتا ہے، جس سے اسے ایک ہزار کا منافع ہوگیا۔ اسی طرح اگر کچھ عرصے بعد مزید قیمت بڑھتی ہے تو یہ نیا خریدار کسی اور شخص کو بیچ دیتا ہے۔ اس طرح فارمز کی خرید و فروخت بھی جاری رہتی ہے۔ یہ بات ملحوظ رہے کہ ہماری معلومات کے مطابق یہ فارم کسی خاص پلاٹ میں ملکیت کو ظاہر نہیں کرتا،بلکہ سوسائٹی کے کل پروجیکٹ میں ایک عمومی ملکیت کو ظاہر کرتا ہے، فارم ساتھ منسلک ہے، اوپر والی تفصیلات کو مدنظر رکھتے ہوئے درج ذیل سوالات ہیں:

1۔ مارکیٹ میں فارمز کی قیمت بدلنے کے بعد ان فارمز کو اپنی اصل قيمت سے ہٹ کر اضافی قیمت پر بیچنے اورخریدنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

2۔  فارمز کو خرید کر رکھنا اور پھر سوسائٹی کی طرف سے اس کی قیمت  اناؤنس ہونے کی وجہ سے قسطوں کی ادائیگی میں ملنے والے رعایت سے فائدہ اٹھانے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  1. ہماری معلومات کے مطابق ریئل اسٹیٹ سے متعلق شیئرز جاری(issue) کرنے کے حوالے سے سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے قواعد وضوابط طے کیے ہوئے ہیں،لہٰذا عوام کے اموال کی حفاظت کے پیش نظر سب سے پہلے قانونی تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہے، اس لیے مذکورہ صورت میں اگر ہاؤسنگ سوسائٹیز والے قانونی تقاضوں کو پورا کیے بغیر شیئرز کو ممبر شپ فارم(Member Ship Form) کے طور پر جاری کرنا جائز نہیں۔

جہاں تک مذکورہ فارم کا تعلق ہے تو اس پر ایسی کوئی صراحت نہیں کی گئی کہ یہ فارم کمپنی کے مجموعی اثاثوں کی مشاع طور پر ملکیت کی نمائندگی کرتا ہے، بلکہ اس میں صرف فارم کی قیمت بیس ہزار روپیہ درج کی گئی ہے اور حاملِ فارم کو اس کا مالک تصور کیا گیا ہے، اس لیے اس فارم کو اسٹاک ایکسچینج میں بیچنے جانے والے کمپنیز کے شیئرز پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، اور سوال میں تصریح کے مطابق یہ فارم کسی خاص پلاٹ کی ملکیت کی نمائندگی بھی نہیں کرتا، اس لیے  شرعاًاس فارم کی حیثیت محض قرض کی رسید کی ہے، جس کو اس کی اصل قیمت سے کم وبیش پر فروخت کرنا جائز نہیں، بلکہ کم وبیش قیمت پر خریدوفروخت سود شمار ہو گی۔

       2. مذکورہ فارم چونکہ اصل میں کمپنی کو دیے گئے قرض کی نمائندگی کرتا ہے اور قرض پر کسی قسم کا نفع حاصل کرنا سود ہے، اس لیے فارم کی قیمت بڑھ جانے پر اضافی رقم کو پلاٹ کی واجب الاداء قسطوں میں ایڈجسٹ کرنا بھی جائز نہیں،کیونکہ یہ اضافی رقم قرض پر نفع شمار ہو گی،  البتہ فارم کی اصل قیمت کے حساب سے پلاٹ کی قیمت کمی کی جا سکتی ہے اور پلاٹ کی اتنی قیمت کا خریدے گئے فارم کی اصل قیمت (جوکمپنی کو پہلے ادا کی جا چکی ہے)کے ساتھ مقاصہ یعنی تبادلہ ہو جائے گا۔

حوالہ جات

البناية شرح الهداية (11/ 402) دار الكتب العلمية – بيروت:

المديون يجبر على القضاء من أن الديون تقضى بأمثالها. فصار ما يؤدى بدلا عما في ذمته، وهذا جبر في المبادلة وقد جاز فلأن يجوز فيما لا قصد فيها إليه أولى.

مسند الحارث = بغية الباحث عن زوائد مسند الحارث (1/ 500) الناشر: مركز خدمة السنة والسيرة النبوية - المدينة المنورة:

عن عمارة الهمداني قال: سمعت عليا يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كل قرض جر منفعة فهو ربا»

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 315) دار الكتاب الإسلامي، بيروت:

(قوله وفسد بيع عشرة أذرع من دار لا أسهم)، وهذا عند أبي حنيفة، وقالا هو جائز كما لو باع عشرة أسهم من دار ومبنى الخلاف في مؤدى التركيب فعندهما شائع كأنه باع عشر مائة وبيع الشائع جائز اتفاقا وعنده مؤداه قدر معين والجوانب مختلفة الجودة فتقع المنازعة في تعيين مكان العشرة فيفسد البيع فلو اتفقوا على مؤداه لم يختلفوا فهو نظير اختلافهم في نكاح الصابئة. فالشأن في ترجيح المبنى هو يقول الذراع اسم لما يذرع به فاستعير لما يحله ومعين بخلاف عشرة أسهم؛ لأن السهم اسم للجزء الشائع فكان المبيع عشرة أجزاء شائعة من مائة سهم أطلقه فشمل ما إذا بين جملة الذرعان كأن يقول من مائة ذراع أو لم يبين وبه اندفع قول الخصاف إن محل الفساد عنده فيما إذا لم يبين جملتها وليس بصحيح، ولهذا صور المسألة في الهداية فيما إذا سمى جملتها لكن اختلف المشايخ على قولهما فيما إذا لم يسم جملتها والصحيح الجواز عندهما؛ لأنها جهالة بأيديهما إزالتها وقوله لا أسهم معناه لا يفسد بيع عشرة أسهم من دار وهو مقيد بما إذا سمى جملتها؛ لأن عند عدمها يفسد البيع للجهالة؛ لأنه لا يعرف نسبته إلى جميع الدار.

فقه البيوع للشيخ محمد تقي العثماني (377/1) مكتبة معارف القران كراتشي:

وقد تباع قطعة من الأرض مقدرة بالخطوات أو الأمتار، ولكن يترك تعيينها للمستقبل وهذا يكون عادة في أرض واسعة تشتريها شركة، ثم تبيع قطعاتها لعامة الناس تقدر بالخطوات أو الأمتار، فمثلا: كل قطعة منها بقدر خمس مائة متر، ولكن لا يتعين محل تلك الخمسمائة عند الشراء. وإنما يتعين حسب التصميم الذي تعمله الشركة فيما بعد.

فالسؤال: هل يصح هذا البيع على أنه بيع حصة مشاعة من تلك الأرض الواسعة؟ وهل يجوز لمن يشتريها أن يبيعها إلى آخر؟ وتخرج هذه المسئلة على ما ذكره الفقهاء الحنفية من أن من باع عشرة أذرع غير معينة من دار، فإن هذا البيع فاسد عند الإمام أبي حنيفة رحمه الله تعالى، لجهالة قدر المبيع،

فإن جوانب الدار مختلفةالجودة، فتقع مشاعة من الدار، وبيع المشاع جائز. ثم فسر بعض الفقهاء قولهما بأنه يصح البيع عندهم على أساس الشيوع بشرط أن يعلم مقدار جملة الدار، ولکن قال اخرون: قولهما لايقتصر علي تلك الصورة، بل الصحيح أنه يجوز البيع عندهما، وإن لم يكن مقدار الكل معلوما، لإن هذه جهالة بيدهما إزالتها.

وعلى هذا، فإن بيع قطعة غير معيّنة من جملة القطعات لايجوز عند الامام أبي حنيفة رحمه الله تعالى، ويجوز عند صاحبيه. والظاهر أنه إن كانت جهالة التعيين تفضي إلى المنازعة، فالإخذ بقول الإمام أبي حنيفة أولى، وإن لم تكن مفضية إلى المنازعة فقول الصاحبين أولى.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

12/جمادی الاخری1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب