| 89214 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، میری بہن کی شادی کو ڈیڑھ سال ہو چکے ہیں۔ اس دوران اس کے شوہر اور سسرالی لوگ اس کے ساتھ مسلسل ذہنی اذیت، بے عزتی اور نفسیاتی زیادتی کر تے رہے ہیں۔ شوہر کے کچھ غیر شرعی تعلقات کے پیغامات بھی موصول ہوئے ہیں، جن سے میری بہن شدید پریشان رہی۔ اس صورتحال میں میری بہن واپس گھر آ گئی اور ساتھ اپنے سونے کے زیورات لے آئی جو شادی کے موقع پر لوگوں نے بطور تحفہ دیے تھے یا ہم نے بطور تحفہ دیے تھے۔ اب شوہر سوشل میڈیا پر میری بہن اور ہمارے خاندان کے بارے میں گالیاں دیتا ہے اور طرح طرح کے الزامات لگاتا ہے اور کہتا ہے "گولڈ واپس دو، تب میں طلاق دوں گا۔ ورنہ نہیں دوں گا۔" اس کے علاوہ وہ ایک لاکھ روپے نقد اور موبائل کا بھی جھوٹا دعویٰ کر رہا ہے، جبکہ موبائل صرف میری بہن کے استعمال میں تھا۔
اب پوچھنا یہ تھا کہ: 1. کیا میری بہن کو شرعی طور پر یہ گولڈ واپس کرنا ضروری ہے؟ 2. ایسی ذہنی اذیت، بے عزتی اور ظلم کی صورت میں کیا اس کی طلاق یا خلع ممکن ہے؟ 3. کیا شوہر کا یہ غیر شرعی رویہ، گالی گلوچ اور دیگر الزامات شرعی اعتبار سے طلاق یا فسخ کی وجہ بن سکتے ہیں؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیر۔
تنقیح:
- سائل نے بتایا کہ شوہر جو فون واپس مانگ رہا ہے وہ شوہر ہی نے دلایا تھا۔
- اور بتایا کہ جو سونا واپس مانگ رہا ہے وہ ہم نے خود شادی کے وقت بہن کو دیا تھا۔
- غیر شرعی تعلقات کی وضاحت میں بتایا کہ بیوی نے شوہر کو مختلف دیگر عورتوں کے ساتھ تعلقات رکھتے ہوئے پکڑا تھا۔
- اذیتوں کی وضاحت میں بتایا کہ روزانہ ان پر باتیں کستا تھا اور عورتوں کی طرح طعنے دیتا تھا۔ ہر موقع پر کوشش کرتا تھا کہ لوگوں کے سامنے بیوی کو ایسی باتیں سنائے جس سے اس کی عزتِ نفس مجروح ہو اور وہ لوگوں کی نظروں سے گر کر ذلیل ہو۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اسلام حتی الوسع شادی کو برقرار رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔اگر میاں بیوی کو رشتہ نبھانا مشکل لگے اور انہیں ڈر ہو کہ ہم ایک دوسرے کے حقوق کا خیال نہیں رکھ پائیں گے تو اس صورت میں بیوی کو اختیار ملتا ہے کہ وہ شوہر سے خلع لیں۔خلع ایک عقد ہے جس کے لیے میاں بیوی کی رضامندی ضروی ہے، خواہ بدل میں مال ہو یا نہ ہو۔ مہر کا بطور بدل کے ہونا ضروری نہیں۔
نکاح فسخ کرنے کی چند مخصوص صورتیں ہے جن میں عدالت نکاح کو فسخ کرسکتی ہے، لیکن ذہنی اذیت، گالی دینے، یا بدتمیزی کرنے سے آپ کی بہن کو نکاح فسخ کرانے کا حق حاصل نہیں ہوتا اور نہ ہی ان امور سے طلاق واقع ہوتی ہے۔البتہ اگر میاں بیوی رضامندی سے خلع کرنا چاہیں تو خلع کرنا جائز ہے۔
نیز عدالت کا یکطرفہ خلع، شرعی خلع نہیں ہے، لہذا مذکورہ صورتحال میں اگر آپ عدالت سے یکطرفہ خلع لیتے ہیں تو اس کا اعتبار نہیں ہوگا۔شوہر کا اپنی بیوی کو موبائل دینا چونکہ ہبہ شمار ہوتا ہے اور میاں بیوی کے درمیان دیے جانے والے ہبہ میں واپس مانگنے کا حق حاصل نہیں ہوتا لہذا شوہر فون واپس نہیں مانگ سکتا ۔
حوالہ جات
درالمحتار علی الرد المختار:(3/439)
(هو ... إزالة ملك النكاح ... المتوقفة ... على قبولها ... بلفظ الخلع ... ما في معناه ... ولا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق (بما يصلح للمهر) بغير عكس كلي لصحة الخلع بدون العشرة وبما في يدها وبطن غنمها وجوز العيني انعكاسها.
فتح القدیر علی الھدایۃ:(4/211)
(وإذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به) لقوله تعالى {فلا جناح عليهما فيما افتدت به} (فإذا فعلا ذلك وقع بالخلع تطليقة بائنة ولزمها المال) لقوله صلى الله عليه وسلم «الخلع تطليقة بائنة.
الفتاوی الھندیۃ:(4/386)
أما العوارض المانعة من الرجوع فأنواع...(ومنها الزوجية) سواء كان أحد الزوجين مسلما أو كافرا، كذا في الاختيار شرح المختار. وإذا وهب أحد الزوجين لصاحبه لا يرجع في الهبة، وإن انقطع النكاح بينهما.
زبیر احمد بن شیرجان
دارالافتاءجامعۃ الرشید ، کراچی
12/06/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


