| 89197 | جائز و ناجائزامور کا بیان | کھیل،گانے اور تصویر کےاحکام |
سوال
میرے پاس ایک عام سا معاملہ ہے، چاہتا ہوں آپ دیکھ لیں تاکہ میں شبہے میں نہ رہوں۔ میں ایک مسلمان تھری ڈی جنرلِسٹ ہوں۔ میرا اصل کام پروڈکٹ، انڈسٹریل اور مقصد والے ویڈیوز/تھری ڈی کام کا ہے، میں عموماً انسانوں یا جانوروں کے کردار نہیں بناتا۔) میں کسی ایک فقہی مکتب میں گہرائی سے پڑھا ہوا نہیں ہوں، لیکن میں ایسی جگہ رہتا ہوں جہاں عمومی طور پر حنبلی فقہ رائج ہے، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ میری کمائی ایسی چیز سے نہ ہو جو صاف منع ہو۔ہوا یوں کہ مجھے امریکہ کے ایک غیر مسلم کلائنٹ سے بہت اچھا پراجیکٹ ملا،وہ مجھ سے بیس(20) سے زیادہ الگ الگ تھری ڈی اسکلپٹس بنوانا چاہتے ہیں، اور ہر ایک کا معاوضہ 850 ڈالر ہے، تو کل رقم تقریباً 16,500 ڈالر بنتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جو چیز وہ چاہتے ہیں وہ یہ ہے: تھری ڈی، بالکل حقیقی جیسا، انسانی چہرہ ،سر اور وہ بھی مشہور شخصیات کے، یعنی عام چہرہ نہیں بلکہ پہچانے جانے والے سیلیبریٹیز۔ پھر یہ تھری ڈی فائل دبئی کے ایک مینوفیکچرر کے پاس جائے گی جو انہی اسکلپٹس کے مطابق چاکلیٹ کے مولڈ بنائے گا۔ یہ ایک لگژری چاکلیٹ برانڈ کی مہم کے لیے ہے، مطلب یہ کہ “یہ دیکھیں، یہ چاکلیٹ فلاں مشہور شخص کی شکل کی ہے۔تو اسے پہلے دکھایا جائے گا، پسند کیا جائے گا، تصویریں بنیں گی، اس کے بعد کھایا جائے گا۔ میں پہلا اسکلپٹ کر بھی چکا ہوں۔ میں نے چونکہ خود پورٹریٹ اسکلپٹنگ میں مہارت نہیں رکھی، اس لیے میں نے سستا آؤٹ سورس پکڑا، اس سے اسکلپٹ بنوا کر کلائنٹ کو دے دیا، اور انہوں نے اس کا پیسہ بھیج دیا وہ رقم اب میرے اکاؤنٹ میں ہے۔ اب جب میں نے تھوڑا سا اس مسئلے کو دینی نظر سے دیکھا تو مجھے خدشہ ہوا، کیونکہ جو وہ مانگ رہے ہیں وہ تقریباً وہی شکل ہے جس کے بارے میں احادیث میں سختی آئی ہے: تھری ڈی، جیتی جاگتی مخلوق کی شکل، پہچانی جانے والی، اور وہ بھی ایسی جو عزت نمائش کے ساتھ رکھی جا رہی ہو۔ اگرچہ یہ چاکلیٹ ہے، لیکن عملاً اس کو پہلے عزت کے ساتھ پیش کیا جائے گا، فوراً ضائع نہیں کیا جائے گا۔ تو میرے سوالات یہ ہیں:
1. کیا اس قسم کا کام یعنی زندہ، معروف انسانوں کے بالکل حقیقی تھری ڈی سر بنانا، اور وہ بھی اس نیت سے کہ اسے لگژری انداز میں دکھایا جائے اسی "تصویرتمثال سازی" میں آتا ہے جس سے نبی ﷺ نے روکا ہے؟ میں نے سنا ہے کہ حنبلی اور بہت سے دوسرے علما ءجب یہ چیز تھری ڈی، مکمل اور معزز ہو تو سختی کرتے ہیں، اور میرا کیس انہی خانے میں جا رہا ہے۔
2. کلائنٹ غیر مسلم ہے، اور آخر میں چیز کھا لی جائے گی ،کیا یہ دو باتیں حکم کو ہلکا کر دیتی ہیں، یا اصل مسئلہ یہ ہے کہ تصویرتمثال تو میں ہی بنا رہا ہوں، اس لیے حکم مجھ پر ہی آئے گا؟
تھری ڈی. میں ایک اسکلپٹ کر کے پیسے لے چکا ہوں۔ اب جب پتہ چلا کہ یہ کام شاید درست نہ ہو، تو اس رقم کے ساتھ کیا کروں؟ رکھ لوں اور اس میں سے کچھ صدقہ کر کے اسے صاف کروں؟ واپس کرنا ضروری ہے؟ یا توبہ کر کے آئندہ نہ کرنے کا پکا ارادہ کافی ہے؟
4. آگے کی رقم کافی بڑی ہے ،تقریباً 16.5 ہزار ڈالر، اگر اسی موجودہ شکل میں (یعنی فوٹوریئلسٹک، پورا سر، مشہور شخصیت) کرنا جائز نہیں، تو کیا میں پراجیکٹ کو رکھ کر ڈلیوری بدل سکتا ہوں؟ مثلاً میں چہرہ کم حقیقی بنا دوں، یا صرف ابھرا ہوا،بیس ریلیف طرز پر بنا دوں، یا ایسا اسٹائل دوں جس میں انسانی شکل پوری نہ بنے ،کیا اس طرح یہ تصویر کے سخت حکم سے باہر آ جائے گی؟
5. میں خود اپنے ہاتھ سے ہر اسکلپٹ نہیں بنا رہا، میں آؤٹ سورس کو آرڈر دے رہا ہوں۔ تو کیا یہ تعاون علی الإثم میں آتا ہے کہ میں کسی اور کو بھی وہی کام کروا رہا ہوں، اس لیے گناہ پھر بھی مجھ پر ہو گا؟
6. عملی طور پر کیا میں کلائنٹ کو یہ کہہ سکتا ہوں کہ “پیداواری/مینوفیکچرنگ وجوہات کی بنا پر ہمیں چہرے کو اتنا تفصیلی نہیں رکھنا چاہیے، اور پھر میں انہیں ایک نسبتاً اسلامی طور پر قابلِ قبول شکل دے دوں اور انہیں اصل وجہ نہ بتاؤں؟ کیا یہ جائز ہے؟ میری اصل کوشش یہ ہے کہ کام اور تعلق بچ جائے تو اچھا ہے، لیکن میں کسی ایسی کمائی میں نہ پڑا رہوں جو واضح طور پر ناپسندیدہ یا حرام ہو۔ اس لیے مجھے صاف بتا دیں: اس صورت میں مجھے یہ ریئلسٹک سر بنانا چھوڑ دینا چاہیے، یا میں اسٹائل بدل کر جاری رکھ سکتا ہوں؟ اور جو پیسے میں لے چکا ہوں، ان کے بارے میں بہتر طریقہ کیا ہے؟ جزاکم اللہ خیراً۔
نکتۃ الغور:مذکورہ عبارت سے چار امورکا جواب مطلوب ہیں۔
نمبر ۱:کیا زندہ اور معروف انسانوں کے بالکل حقیقی تھری ڈی سر بنانا تصویری تمثال سازی میں آتا ہے، جس سے نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے؟ اگر کلائنٹ غیر مسلم ہو، یا وہ تمثال بعد میں کھا یا جاتاہوتو اسکا کیا حکم ہوگا؟
نمبر ۲: اگر پروجیکٹ کو اس طرح رکھا جائے کہ پوری انسانی شکل نہ بنائی جائے بلکہ آدھا کام کرکے باقی آگے کوئی اور بنائے، تو کیا حکم ہوگا؟ یا اگر بندہ بذاتِ خود نہ بنائے بلکہ آؤٹ سورس کو صرف آرڈر دے، تو کیا ایسا کرنا جائز ہوگا؟
نمبر ۳: سابقہ اسکلپٹ جو انسانی شکل کے بنائے گئے تھے اور ان کے بدلے پیسے لیے گئے ہیں، ان پیسوں کا کیا حکم ہے؟
نمبر ۴:اگر چہرے کو تفصیلی نہ بنایا جائے اور اسے اسلامی حدود کے اندر رکھا جائے، اور کلائنٹ کو اصل وجہ نہ بتائی جائے، تو یہ کیسا ہے؟
تنقیح:سائل سے زبانی رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ اس کا کام صرف ڈیجیٹل حد تک محدود نہیں ہے، بلکہ وہ حقیقی تصویریں بناتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نمبر ۱: سائل کا کام صرف ڈیجیٹل حد تک محدود نہیں ہے، بلکہ وہ انسانوں کا تھری ڈی سر حقیقی شکل میں بناتا ہے، جو کہ حرام ہے۔ کسی بھی جاندار کا تھری ڈی سر بنانا جائز نہیں ہے، یہ تصویر کے حکم میں آتا ہے، اور جانداروں کی تصاویر بنانے سے احادیثِ مبارکہ میں سختی سے منع کیا گیا ہے۔
نمبر ۲: جس طرح کسی گناہ کا کام کرنا جائز نہیں ہے، ایسےہی گناہ کے کام میں کسی کی مدد کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ لہٰذا جس طرح انسانی شکل کے اسکلپٹ بنانا جائز نہیں ہے، اسی طرح کسی آؤٹ سورس کو اسکلپٹ بنانے کا آرڈر دینا یا اسکلپٹ کی تیاری کے کسی مرحلے میں شرکت کرنا بھی جائز نہیں ہے۔
نمبر ۳:سابقہ اسکلپٹس جو آپ نے انسانی شکل کے بنائے تھے اور ان کے بدلے پیسے بھی لیے تھے، چونکہ ایک حرام کام کرنے پر یہ پیسے لیے گئے تھے، اس لیے ان کو ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کرنا ضروری ہے۔ اگر ان پیسوں کو اپنی کسی حاجت میں خرچ کیا ہو اور اب آپ کے پاس استطاعت ہو، تو اتنی رقم ہی صدقہ کریں۔ اگر استطاعت نہیں ہے، تو جیسے جیسے استطاعت ہوتی جائے، صدقہ کرتے رہیں۔
نمبر ۴:اگر اسکلپٹس اسلامی حدود کے اندر بنائے جائیں، یعنی کسی جاندار کی شکل نہ دی جائے اور یہ کلائنٹ کی رضامندی سے بنایا جائے، تو یہ جائز ہے، اگرچہ کلائنٹ کو اصل وجہ معلوم نہ ہو۔ تاہم مذکورہ صورت میں سائل کو چاہیے کہ اپنے لیے کسی دوسری جگہ ایسا کام تلاش کرے جو شریعت میں ممنوع نہ ہو اور یہاں کا کام چھوڑ دے۔ اگر یہاں کام چھوڑنے سے کوئی اور چارہ نہ ہو، تو پھر ایسی اسکلپٹس بنائی جائیں جو شریعت میں ممنوع نہیں ہیں۔
حوالہ جات
صحيح البخاري (775/2):
حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب: حدثنا يزيد بن زريع: أخبرنا عوف، عن سعيد بن أبي الحسن قال:كنت عند ابن عباس رضي الله عنهما: إذ أتاه رجل فقال: يا أبا عباس، إني إنسان، إنما معيشتي من صنعة يدي، وإني أصنع هذه التصاوير. فقال ابن عباس: لا أحدثك إلا ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: سمعته يقول: (من صور صورة فإن الله معذبه حتى ينفخ فيها الروح، وليس بنافخ فيها أبدا). فربا الرجل ربوة شديدة واصفر وجهه، فقال: ويحك، إن أبيت إلا أن تصنع، فعليك بهذا الشجر، كل شيء ليس فيه روح.
شرح المشكاة للطيبي الكاشف عن حقائق السنن (9/ 2944):
قال أصحابنا وغيرهم من العلماء: تصوير صور الحيوان حرام شديد التحريم، وهو من الكبائر؛ لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث، وسواء صنعه في ثوب أو بساط أو درهم أو دينار وغير ذلك.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (1/ 647):
وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ فينبغي أن يكون حراما لا مكروها إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل بتواتره اهـ كلام البحر ملخصا.
بحوث فى قضايا فقهية معاصرة(347/1)
لا يجوز لمهندس مسلم أن يصمم معابد الكفَّار ؛ لقوله تعالى : وتعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ) [المائدة: ۳۸……[. إنَّ الإعانة على المعصية حرام مطلقاً بنص القرآن، .........ولكن الإعانة حقيقة ما قامت المعصية بعين فعل المعين ولا يتحقق إلا بنيَّة الإعانة، أو التّصريح بها، أو تعينها في استعمال هذا الشَّيء، بحيث لا يحتمل غير المعصية، وما لم تقم المعصية بعينه لم تكن من الإعانة حقيقة، بل من التَّسبب، ومن أطلق عليه لفظ الإعانة فقد تجوّز ؛ لكونه صورة إعانة، كما مر من السير الكبير.
الموسوعة الفقهيه الكويتية(39/36)
إذا كان المال الذي في يد المسلم حراما فإنه لا يجوز له إمساكه ويجب عليه التخلص منه.
كتاب الفقه الاسلامي و ادلته لزحيلی(7945/10)
إذا أخذ المال أجرة عن عمل محرم فإن الآخذ يصرفه في وجوه الخير ولا يرده إلى من أخذه منه.
کتاب الاختیار لتعلیل المختار(61/3)
والملك الخبيث سبيله التصدق به، ولو صرفه في حاجة نفسه جاز. ثم إن كان غنيا تصدق بمثله، وإن كان فقيرا لا يتصدق.
ابن امین صاحب دین
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
/12جمادی الثانية /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ابن امین بن صاحب دین | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


