| 89282 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
ایک تحقیقی ادارہ طلبہ کرام کو تحقیقی مقالہ (Research Paper) تیار کر کے فراہم کرتا ہے، اور مقالے کا مواد بھی خود ادارہ مہیا کرتا ہے۔ تاہم، ادارہ یہ شرط عائد کرتا ہے کہ یہ مواد صرف رہنمائی اور تعلیمی مدد کے لیے ہے، جیسا کہ حل شدہ پرچے یا کتابوں کی شروحات دی جاتی ہیں، لیکن ادارہ یہ شرط عائد کرتا ہے کہ اسے تعلیمی ادارے میں جوں کا توں جمع کروانا سختی سے ممنوع ہے۔یہ شرط ادارے کی ویب سائٹ پر بھی واضح طور پر درج ہے، جس کی عبارت یہ ہے:ہماری پریمیم کسٹم رائٹنگ اور تعلیمی معاونت کی خدمات مطالعے، تحقیق اور سمجھ بوجھ کے مقاصد کے لیے ہیں۔ ہمارے مواد کو جوں کا توں تعلیمی اداروں میں جمع کروانا سختی سے ممنوع ہے۔ صارفین کے لیے تعلیمی دیانت کے اصولوں پر عمل کرنا لازمی ہے۔مزید تفصیلات درج ذیل ہیں: 1. ادارے سے مقالہ حاصل کرنے والے افراد عمومًا 18سال سے زائد عمر کے ہیں اور اپنے نفع و نقصان سے واقف ہیں۔ 2. حاصل ہونے والی ڈگری صرف اسی مواد پر منحصر نہیں، بلکہ طالب علم کا اپنا کام بھی شامل ہوتا ہے۔ 3. ریسرچ ادارہ طلبہ کی استعداد اور علمی قابلیت کو جانچنے کا پابند بھی نہیں ہے۔ 4. اہم بات یہ ہے کہ اس ادارے نے یہ شرائط قانونی اعتبار سے نافذ کی ہیں، جو دیگر تعلیمی یا تحقیقی ادارے عام طور پر نہیں کرتے۔ یہ شرائط صارفین کے حقوق و فرائض کو واضح کرتی ہیں اور ادارے کی نیت اور ذمہ داری کو قانونی دائرہ میں رکھتی ہیں۔ 5. طلبہ کو یہ مواد حوالہ کرتے وقت ان سے واضح حامی لی جاتی ہے کہ وہ اس شرائط کا خیال رکھیں۔ اب سوال یہ ہیکہ یہ تمام شرائط عائد کرنے کے باوجوداگر کوئی طالب علم ان شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بعینہً وہی مقالہ تعلیمی ادارے میں جمع کروا دے، تو کیا اس مواد کی تیاری کے بدلے ادارے کا اجرت لینا جائز ہے یا ناجائز؟ بعض علماء اسے جائز اور بعض ناجائز قرار دیتے ہیں۔ برائے مہربانی اس مسئلہ پر مکتوب فتویٰ جاری کریں تاکہ دلی تشفی حاصل ہو۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
تحقیقی مقالہ تیار کرکے اُس پر اجرت لینا فی نفسہٖ جائز ہے۔ جو لوگ اس مقالے کو ناجائز طریقے سے استعمال کرتے ہیں، اس گناہ کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔ تاہم اگر کسی شخص کے بارے میں غالب گمان یا یقینی علم ہو کہ وہ اس مقالے کو ڈگری یا نا اہل ہونے کے باوجود نوکری حاصل کرنے لیے استعمال کرے گا، تو ایسے شخص کو مقالہ تیار کرکے دینا اور اس پر اجرت لینا جائز نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
الدر المختار:۳/۱۵۶
"و الأجرة إنما تكون في مقابلة العمل."
الدر المختار:۴/۲۶۸
ويكره) تحريما (بيع السلاح من أهل الفتنة إن علم) لأنه إعانة على المعصية (وبيع ما يتخذ منه كالحديد) ونحوه يكره لأهل الحرب (لا) لأهل البغي لعدم تفرغهم لعمله سلاحا لقرب زوالهم، بخلاف أهل الحرب
فتاوی محمودیہ:۱۷/۱۱۰
ریڈیو نہ نجس ہے، نہ حرام ، نہ حرام کام کے لئے اصالۃ ً بنایا گیا ہے، جو لوگ اس کو نا جائز کام کے لئے استعمال کرتے ہیں وہ اپنے فعل کے خود ذمہ دار ہیں (۱) ، اس لئے اس کا بنانا اور بنا کر آمدنی حاصل کرنا حرام نہیں، نہ ایسی آمدنی حرام ہے۔ اس سے بہتر حلال روزی کی کوئی دوسری صورت ہو تو وہ مقدم ہے، اس لئے کہ بکثرت لوگ اس کو لہو و لعب کے لئے استعمال کرتے ہیں، لہذا اگر کوئی اس کی آمدنی سے احتیاط کرے تو بہتر ہے (۲) ۔ فقط واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم
(حاشیہ) لیکن اگر کسی شخص کے بارے میں یہ یقین ہو کہ یہ آدمی اس کو لہو ولعب اور گانا سننے کے لئے استعمال کرتا ہے تو اس صورت میں اس شخص کے لئے ریڈیو بنانا اور مرمت کرنا جائز نہیں ہوگا، لقوله تعالى: ﴿ولا تعاونوا على الإثم والعدوان الآية =
کفایت المفتی:۱۱/۴۶۹
”سوال: کاتب الرہن کو رہن نامے کے لکھنے پر اجرت لینی جائز ہے یا نہیں؟جب کہ یہ معلوم ہو کہ رہن رکھنے والا شیئ مرہون سے یقیناً فائدہ اٹھائے گا۔
جواب: اگر رہن نامہ میں بھی نفع اٹھانے کی شرط لکھی جائے تو اس کی کتابت اور کتابت کی اجرت ناجائز ہے، اور یہ شرط تحریر نہ ہو تو پھر کاتب کے لیے رہن نامہ کی کتابت اور اس کی اجرت لینی جائز ہے۔
عبداللہ المسعود
دارالافتا ء،جامعۃالرشید کراچی
۱۵/جمادی الاخری ⁄۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالله المسعود بن رفيق الاسلام | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


