03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا حیلہ کے ذریعےسود ی معاملہ جائز ہوجاتاہے؟
89209سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ :یہ تو معلوم ہے کہ قرض دے کر اسے قسطوں میں واپس حاصل کرنا اور  اس پر اضافی رقم حاصل کرنا جائز نہیں ۔ لیکن اگر کوئی شخص قرض دے ، قرض کے ساتھ کوئی شیئ بھی مقروض کو دے مثلا قلم وغیرہ۔ اور یہ قلم اس قیمت پر قرض دار کو فروخت کرے جو قیمت وہ(قرض دینے والا) پیسوں پر اضافی لگانا چاہتا تھا۔ اب قرض دینے والا جب اقساط کی صورت میں  اصل قرض واپس وصول کرے ،تو ساتھ ساتھ قلم کی پیسے بھی وصول کرتاہے۔  تو کیا یہ سود کے زمرے میں آئے گا۔ عملی مثال : ایک شخص دوسرے شخص کو پانچ لاکھ روپے قرض دینا چاہ رہا ہے۔لیکن وہ سود کی وجہ سے مقروض سے اضافی رقم نہیں لے سکتا ۔ لیکن اگر اسے قرض کے ساتھ کوئی چیز قلم وغیرہ ایک لاکھ روپے پر فروخت کرے( مقروض اس قیمت سے مطمئین ہو)۔اور اب وہ مقروض سے کل چھ لاکھ اقساط کی صورت میں وصول کرے گا۔ یا پھر قلم کی قیمت کی قسط الگ ہو اور روپےکی الگ ۔کیا یہ صورت جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ذکرکردہ صورت بالکل نہ جائز  ہے، کیونکہ  شریعت مطہرہ نے سود کو بہت سختی سے منع کیا ہے ، اس کو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کا مترادف قرار دیا ہے ۔  شریعت نے جس چیز کو حرام قرار دیاہے اس کا ارتکاب جس طرح حرام ہے اسی طرح اس کو حاصل کرنے  کے لیے  محض حیلہ کرنا بھی جائز نہیں ہے ۔

حوالہ جات

قال الله تعالى: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (278) فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ. [البقرة: 278، 279]

المغني لابن قدامة (4/ 43)

والحيل كلها محرمة، غير جائزة في شيء من الدين، وهو أن يظهر عقدا مباحا يريد به محرما، مخادعة وتوسلا إلى فعل ما حرم الله، واستباحة محظوراته، أو إسقاط واجب، أو دفع حق، ونحو ذلك

الموافقات (3/ 124)

فالحيل التي تقدم إبطالها وذمها والنهي عنها ما هدم أصلا شرعيا وناقض مصلحة شرعية، فإن فرضنا أن الحيلة لا تهدم أصلا شرعيا، ولا تناقض مصلحة شهد الشرع باعتبارها؛ فغير داخلة في النهي ولا هي باطلة.

الهداية في شرح بداية المبتدي (4/ 379)

نهى رسول الله عليه الصلاة والسلام عن قرض جر نفعا

النتف في الفتاوى للسغدي (1/ 484)

الربا في القروض: فأما في القروض فهو على وجهين:أحدها ....والآخر أن يجر إلى نفسه منفعة بذلك القرض أو تجرإاليه وهو أن يبيعه المستقرض شيئا بأرخص مما يباع أو يؤجره أو يهبه أو يضيفه أو يتصدق عليه بصدقة أو يعمل له عملا يعينه على أموره أو يعيره عارية أو يشتري منه شيئا بأغلى مما يشتري او يستأجر إجارة بأكثر مما يستأجر ونحوها ولو لم يكن سبب ذلك هذا القرض لما كان ذلك الفعل فإن ذلك ربا وعلى ذلك قول ابراهيم النخعي "كل دين جر منفعة لا خير فيه".

محمد امداداللہ بن مفتی شہیداللہ

دارالافتاءجامعۃ الرشید ، کراچی

15/جمادی الآخرۃ 1447

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

امداد الله بن مفتی شہيد الله

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب