03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
”اس زمین میں میرے بھائیوں کاحصہ بھی ہوگا“وصیت کے حکم میں ہے یانہیں؟
89297وصیت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

والدصاحب کی وفات کے بعدزمین ہم تین بھائیوں کی طرف منتقل ہوئی ہے،والدصاحب  نےاس زمین کے بارے میں زبانی طورپرایک دفعہ کہاتھا کہ اس زمین میں میرے بھائیوں کابھی حصہ ہوگا،لیکن والدصاحب نے اپنی زندگی میں بھائیوں کواس زمین میں سے  کچھ بھی نہیں دیا اورنہ ہی اس کے بارے میں کوئی تحریرلکھ کردی،اب اس زمین کے کچھ حصہ پرہمارے کزن عارف سلطان نے قبضہ کیاہواہے؟کیااس کاقبضہ درست ہے؟

تنقیح:زمین والدصاحب کی ذاتی ہے،جوکہ انہوں خود خریدی تھی،مرحوم داداکی میراث نہیں۔

2.زندگی اورحالت صحت میں یہ بات کہی تھی کہ زمین میں میرے بھائیوں کابھی حصہ ہوگا،موت کی طرف نسبت نہیں کی کہ میرے مرنے کے بعد اس میں سے دے دینا وغیرہ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

وصیت کے نفاذکاتعلق موت کے بعدہوتاہے، اس لئے وصیت میں ایسی نسبت کاہوناضروری ہے جس سےمعلوم ہوکہ یہ حکم مرنے کے بعد ہوگا،جیسے یہ کہاجائے کہ میری وفات کے بعدفلاں شخص کومیری یہ چیزدے دینا،اگرجملہ میں اس طرح کی نسبت نہ ہوتو شرعی لحاظ سے یہ وصیت نہیں،اس لئے صورت مسؤلہ میں مرحوم کایہ کہناکہ اس زمین میں میرے بھائیوں کابھی حصہ ہوگا،یہ وصیت کے حکم میں نہیں،یہ ساری زمین مرحوم کے ترکہ میں شمارہوکرمرحوم کےورثہ میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی،اس زمین پرکزن کاقبضہ کرناغصب کے حکم میں ہے کہ جوکہ سخت حرام اورگناہ کبیرہ ہے۔

حوالہ جات

 الفتاوى الهندية (ج 48 / ص 12):

الإيصاء في الشرع تمليك مضاف إلى ما بعد الموت يعني بطريق التبرع سواء كان عينا أو منفعة

 بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (ج 16 / ص 488):

 فالوصية اسم لما أوجبه الموصي في ماله بعد موته وبه تنفصل عن البيع  والإجارة والهبة۔

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

   ۱۵/جمادی الثانی۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب