| 89269 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
شادی کے وقت نکاح فارم میں مہر بیس ہزار روپے، تین تولہ سونا طلائی زیورات (1.5 تولہ غیر معجل اور 1.5 تولہ معجل) تھا۔ نکاح فارم میں سسر کے مطالبہ پر والد کے گھر میں شوہر محمد نبی ولد سلسلت خان کا حصہ اہلیہ کے نام مہر میں لکھوا دیا تھا۔ نکاح فارم میں والد کے گھر میں حصہ کا ذکر کیا گیا تھا، لیکن یاد رہے کہ اس وقت والد کے پاس کوئی گھر یا زمین نہیں تھی۔ اور اب بھی نہیں ہے۔ ہم سب بڑے بھائی کے ساتھ ان کے خریدے ہوئے گھر میں رہ رہے ہیں۔ والد اب بوڑھے ہیں اور بیمار بھی ہیں۔ ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے، نہ تو وہ گھر لے سکتے ہیں، اور نہ زمین۔ اور میرے پاس بھی رقم نہیں تھی، لہذا میرے پاس بھی کوئی الگ سا گھر یا زمین نہیں ہے۔ آپ حضرات کی خدمت میں عرض ہے کہ اہلیہ کی انتقال کے بعد درج بالا تفصیل کی شرعی حل کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نکاح فارم میں مہر مقرر کرتے وقت جو کچھ لکھا جائے وہ سب مہر شمار ہوتا ہے۔البتہ مہر میں معلوم اور مجہول چیزطے کرنے کی وجہ سے معلوم چیز ہی مہر متعین ہوجاتی ہےجب وہ اقل مہر کی مقدار ( دس درہم )کے برابریا اس سے زیادہ ہو۔لہذا صورت مسئولہ میں بیوی کے نام جو گھر کا حصہ بطور مہر لکھوایا گیاتھا اس کا مجہول ہونے کی وجہ سے کالعدم ہوگیا تھا اور معلوم چیز یعنی بیس ہزار روپے، تین تولہ سونا طلائی زیورات ہی مہر لازم ہوگیا تھا۔
لہذا اگر شوہر نے بیوی کو ان کی زندگی ہی میں مہر اداکردیاتھا تو اب اس سے مزیدکسی چیز کامطالبہ درست نہیں۔اور اگر ابھی تک ان کے ذمہ مہر کی ادائیگی باقی تھی کہ بیوی کی انتقال ہوگئی تو وہ مہر بھی بیوی کی من جملہ ترکہ میں شامل ہے جسے شرعی حصص کے بقدر تمام ورثہ میں تقسیم کیاجائےگا۔ جس میں شوہر کو بھی مرحومہ کی اولاد نہ ہونے کی صورت میں کل ترکہ کا آدھا ملے گا۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية ط: دار الفكر بيروت (1/ 310):
ولو تزوجها على دينار وشيء يجب مهر المثل، ولا يزاد على دينار إن ساوى عشرة الدراهم، كذا في غاية السروجي رجل تزوج امرأة على عشرة دراهم وثوب ولم يصف الثوب، كان لها عشرة دراهم ، كذا في فتاوى قاضي خان.
الفتاوى التاتارخانية ط: مكتبة زكريا بديوبند ،الهند (4/ 165):
"وإذا تزوجها على سكنى دار صح، وإن تزوجها على ما يكتسب العام، أو يرثه، أو على حنطة، أو شعير، ولم يسم كيله ووزنه فلها مهر مثلها."
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري ط: دار الكتاب الإسلامي (8/ 557):
"(يبدأ من تركة الميت بتجهيزه) المراد من التركة ما تركه الميت خاليا عن تعلق حق الغير بعينه... فيجب أن يعلم أن التركة تتعلق بها حقوق أربعة جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث."
رد المحتار ط : الحلبي (6/ 770):
"(والربع للزوج) ...(مع أحدهما) أي الولد أو ولد الابن (والنصف له عند عدمهما) فللزوج حالتان النصف والربع."
محمد جمال بن جان ولی خان
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
15/جمادی الثانیہ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد جمال بن جان ولی خان | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


