| 89251 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
میرا نام ..................ہے میرا سوال یہ ہے کہ میری شادی کو نو سال کا عرصہ گزر چکا ہے روحانی اور طبی علاج کے باوجوداولاد سے محروم ہوں میری بیوی نے شادی کے چند سال گزرنے کے بعد کہا تھا کہ پانچ سال اولاد نا ہوئی تو آپ دوسری شادی کر لینا یا کسی سے بچہ لیکر پال لیں گے ۔میں نے رضا مندی کا اظہار کیا اب جبکہ نو سال گزر چکے ہیں شادی کو اور اب مجھے شدت سے اولاد کی محرومی محسوس ہوتی ہے میں نے اپنی بیوی کو کہا کہ ہم کسی سے بچہ گودلے لیتے ہیں گویا اب وہ نا بچہ گود لینے کیلئے رضا مند ہے اور نا ہی میری دوسری شادی کیلئے رضا مند ہے اور اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ دوسری شادی کرنے پر مجھے طلاق دے دینا ۔برائے مہربانی مجھے شرعی نقطہ نظر سے اس کا حل بتائیں کیا میں شادی کر سکتا ہوں یا بچہ گود لےسکتا ہوں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت نے مرد کو شرعی اور فطری ضرورت کی بناء پر چار نکاح کرنے کی اجازت دی ہے ۔نیز کسی بچے کو گود لینا اور اس کو متبنٰی بنانا بھی جائز ہے لیکن اس میں چند باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے ، کہ اس متبنٰی کی نسبت اس کے حقیقی والد کی طرف ہوگی اور اگر وہ متبنٰی نامحرم ہے تو بالغ ہونے کے بعد اس سے پردہ کرنا ضروری ہوگا صرف گود لینے سے وہ محرم نہیں بن جاتا ہے ،لہٰذا صورت مسئولہ میں آپ کے لیے اولاد نہ ہونے کی وجہ سے دوسری شادی کرنا جائز ہے۔ پہلی بیوی کا اس وجہ سے طلاق کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ۔ البتہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ حکمت، صبر اور نرمی کے ساتھ بیوی کو بات سمجھائیں،اور پہلی بیوی کوچاہیے کہ شوہر کی دوسری شادی میں رکاوٹ نہ ڈالے ۔
حوالہ جات
فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِن خِفتُم أَلَّا تَعدِلُواْ فَوَٰحِدَةً أَو مَا مَلَكَت أَيمَٰنُكُم ذَٰلِكَ أَدنَىٰٓ أَلَّا تَعُولُوا [النساء: 3]
وَمَا جَعَلَ أَدعِيَآءَكُم أَبنَآءَكُم ذَٰلِكُم قَولُكُم بِأَفوَٰهِكُم [الأحزاب: 4]
صحيح البخاري (5/ 1951):
4782 - حدثنا علي بن الحكم الأنصاري: حدثنا أبو عوانة، عن رقبة، عن طلحة اليامي، عن سعيد بن جبير قال:قال لي ابن عباس: هل تزوجت؟ قلت: لا، قال: فتزوج، فإن خير هذه الأمة أكثرها نساء.
صحيح مسلم (7/ 131):
يعقوب بن عبد الرحمن القاري ، عن موسى بن عقبة ، عن سالم بن عبد الله ، عن أبيه أنه كان يقول: ما كنا ندعو زيد بن حارثة إلا زيد بن محمد، حتى نزل في القرآن: ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 340):
ومما يجب على الأزواج للنساء العدل والتسوية بينهن فيما يملكه والبيتوتة عندها للصحبة والمؤانسة لا فيما لا يملك وهو الحب والجماع كذا في فتاوى قاضي خان.
المبسوط للسرخسي (5/ 217):
اعلم بأن الزوج مأمور بالعدل في القسمة فيما بين النساء، وذلك ثابت بالكتاب والسنة، أما الكتاب فقوله تعالى {فإن خفتم ألا تعدلوا فواحدة} [النساء: 3] إلى قوله {ذلك أدنى ألا تعولوا} [النساء: 3] معناه: أن لا تجوروا،..............................................
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 201):
(يجب) وظاهر الآية أنه فرض نهر (أن يعدل) أي أن لا يجور (فيه) أي في القسم بالتسوية في البيتوتة (وفي الملبوس والمأكول) والصحبة (لا في المجامعة) كالمحبة بل يستحب.
وسیم اکرم بن محمد ایوب
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
15/جمادی الثانیہ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | وسیم اکرم بن محمد ایوب | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


