| 89228 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میرا ایک دوست پولیس میں ملازم ہے اور ڈی ایس پی کی سیکورٹی کے فرائض انجام دیتا ہے۔ وہ تقریباً دس افرادہیں۔ ڈی ایس پی اُن کو ماہانہ کھانے پینے کے لیے چالیس ہزار روپے دیتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس چالیس ہزار میں سے اگر پانچ چھ ہزار بچ جائیں، تو کیا ہم ان بچ جانے والی رقم کو اپنی دوسری ضروریات میں استعمال کرسکتے ہیں؟اگر کبھی کھانا بچ جائے تو کیا وہ کھانا ہم گھر لے کر جاسکتے ہیں؟ہمارے لیے ڈی ایس پی کی جیب سے دیا گیا پیسہ یا اس کے ذریعے دیا گیا کھانا کھانا شرعاً جائز ہے؟اکثر پولیس افسروں کی آمدنی میں رشوت وغیرہ کا مال شامل ہوتا ہے، اس بارے میں ہمیں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اس کا آسان حل یہ ہے کہ ڈی ایس پی صاحب سے معلوم کر لیا جائے کہ بچی ہوئی رقم یا بچا ہوا کھانا ہم کہاں استعمال کریں، پھر وہ جس بات کی اجازت دیں، اسی پر عمل کیا جائے۔باقی یہ کہنا کہ عموماپولیس والوں کی آمدن میں رشوت شامل ہوتی ہے،یہ بات تو صحیح ہے،لیکن بعض افسران ایسے بھی ہوتے ہیں جو رشوت نہیں لیتے۔ نیز یہ بھی ممکن ہے کہ ڈی ایس پی صاحب کو اپنی سیکورٹی کے لیے حکومت کی طرف سے کوئی فنڈ ملتا ہو، جس میں سے وہ آپ لوگوں کو دیتے ہوں۔
بہر صورت جب تک ان کی رقم کے مشکوک ہونے کا ظن غالب نہ ہو، آپ لوگ اطمینان سے اسے استعمال کر سکتے ہیں۔
حوالہ جات
مصنف ابن أبي شيبة (عوامة) (11/ 303)
عن ثوبان ، قال : "لعن النبي صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي والرائش ، يعني الذي يمشي بينهما".
الأشباه والنظائر للسيوطي (ص: 60)
قاعدة: الأصل في الأشياء الإباحة حتى يدل الدليل على التحريم.
مبسوط سرخسی (186/23)
"وللإنسان أن يتصرف في ملك نفسه مطلقا."
محمد شاہ جلال
دار الافتاء،جامعۃ الرشید، کراچی
19/جماد الاخری/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


