03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کسی شرط پر معلق طلاق کا حکم
89338طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

 بیوی نے شوہر سے کہا کہ "آپ کی وجہ سے میرا موبائل ٹوٹا ہے، آپ اسے ٹھیک کر کے دیں گے"؟شوہر نے جواب دیاکہ"اگر میں نے ٹھیک کر کے دیا تو تم مجھ پر طلاق ہو گی "۔پھر شوہر نے بیوی کا وہ موبائل مکمل طور پر توڑ دیا۔ اس پر بیوی نے کہا کہ "میں آپ کا موبائل بھی توڑ دوں گی "۔تو شوہر نے کہاکہ"اگر تم نے میرا موبائل توڑا تو تم مجھ پر طلاق ہو گی "۔اس پر بیوی کو غصہ آیا اور اس نے کہاکہ"اب تو میں ضرور توڑوں گی، کیونکہ آپ نے طلاق کا کہا ہے"۔یہ سن کر شوہر اپنا موبائل لے کر باہر نکل گیا تاکہ بیوی اسے نہ توڑ دے۔کچھ دیر بعد شوہر واپس آیا اور بیوی کو موبائل پکڑایا کہ وہ اپنی بہن سے بات کر لے۔بیوی بات کر رہی تھی کہ اس کی بہن نے کوئی ایسی بات کہہ دی جو بیوی کو بری لگی، تو بیوی نے غصے میں موبائل زمین پر دے مارا۔شوہر نے موبائل اٹھایا اور کہا"کل میں دوسرا موبائل لے لوں گا، پھر تم یہ توڑ دینا"۔اس وقت تک موبائل ٹوٹا نہیں تھا۔اب سوال یہ ہے:

       کیا بیوی کے موبائل زمین پر مارنے سے طلاق واقع ہو گئی تھی؟اور اب اگر بیوی شوہر کا کوئی بھی موبائل توڑے گی تو طلاق واقع ہو جائے گی؟بعض مفتیان کے مطابق طلاق اسی وقت کے ساتھ خاص تھی۔بعض کے مطابق طلاق اسی موبائل کے ساتھ خاص تھی جو اس وقت شوہر کے پاس تھا۔اور بعض کا کہنا ہے کہ بیوی شوہر کا کوئی بھی موبائل توڑے تو طلاق ہو جائے گی۔تو اب کس فتوے پر عمل کیا جائے؟اور اگر غلطی سے بیوی سے شوہر کا موبائل گر کر ٹوٹ جائے، یا غصے میں اس نے پھینک دیا مگر توڑنے کی نیت نہیں تھی اور وہ ٹوٹ گیاتو کیا طلاق ہو جائے گی؟اسی طرح بیوی دو تین مرتبہ شوہر کا وہی مخصوص موبائل گرا چکی ہے، لیکن وہ ٹوٹا نہیں تو کیا موبائل گرانے سے طلاق واقع ہو گئی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

       صورت مسئولہ میں چونکہ بیوی کا موبائل  زمین پر مارنے سے  ٹوٹا نہیں تھا، اس لیے طلاق واقع نہیں ہوئی۔ نیز چونکہ شوہر کے الفاظ مطلق تھے، اس لیے بیوی اگر شوہر کا کوئی بھی موبائل توڑے گی تو طلاق واقع ہو جائے گی۔یاد رہے کہ طلاق کے معاملے پر جس غیر محتاط انداز سے میاں بیوی مکالمہ کرتے ہیں وہ انتہائی افسوسناک ہے۔محتاط گفتگو کی عادات ڈالیں تاکہ طلاق جیسی نا پسندیدہ بات تک نوبت نہ پہنچے۔

حوالہ جات

   الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 244)

   "...وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق " وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط فيصح يمينا أو إيقاعا " ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك " ..." فإن قال لأجنبية إن دخلت الدار فأنت طالق ثم تزوجها فدخلت الدار لم تطلق "لأن الحالف ليس بمالك ولا أضافه إلى الملك أو سببه ولا بد من واحد منهما.

    المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 362)

   ألا ترى أنَّ من قال لامرأته: أنتِ طالق إن دخلت الدّار، أو قال: لعبده أنت حرّ إن دخلت الدّار يتعلّق الطلاق بالدخول والعتاق بالدخول...إنَّ من قال لامرأته: إن دخلت الدار فأنتِ طالق يتعلق الطلاق بالدخول.ولو قال إن دخلت الدّار أنتِ طالق يقع الطلاق للحال إلا إذا قال: عنيت به التعليق...

   تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (2/ 231)

   قال - رحمه الله - (إنما يصح في الملك كقوله لمنكوحته إن زرت فأنت طالق أو مضافا إليه) أي إلى الملك (كإن نكحتك فأنت طالق فيقع بعده) أي يقع الطلاق بعد وجود الشرط وهو الزيارة في الأول والنكاح في الثاني...

 محمد شاہ جلال

دار الإفتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

19/جماد الا خری/1447ھ   

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب