03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
     مستحاضہ کے وضوکا طریقہ
89422پاکی کے مسائلحیض،نفاس اور استحاضہ کا بیان

سوال

میں نے سنا ہے کہ اگر خاتون مستحاضہ ہو تو ہر وضو سے پہلے اسے واش کرنا ضروری ہے، مگر ڈسچارج اگر مسلسل آ رہا ہو تو کس طرح واش کیا جائے؟ کیونکہ کافی دیر واش کرنے کے بعد ہی کلین ہوتا ہے، جس کی وجہ سے کافی زیادہ دیر تک واش کرتے رہنا پڑتا ہے اور باتھ روم میں بہت ہی زیادہ وقت لگ جاتا ہے اور تکلیف بھی ہو جاتی ہےتو ایسے میں وضو کیسےکریں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر مستحاضہ  کو خون یامواد اس قدر مسلسل آ رہا ہو کہ  نماز کے پورے وقت میں اسے اتنی فرصت نہ ملے کہ وہ وضو کر کے پاکی کی حالت میں فرض نماز ادا کر سکے تو وہ معذور شرعی  شمار ہوگی۔ لہذا صورت مسئولہ میں اگر عورت شرعی  معذور ہے تو پورے وقت میں ایک بار وضو  کرے باربار وضو کرنے اور اتنی دیر تک واش روم میں بیٹھنے کی ضرورت نہیں ہے اور خون کے نکلنےسےوضونہیں ٹوٹےگا، بلکہ نمازکاوقت نکلنےسےاس کاوضو ٹوٹ جائے گا۔ معذور شرعی کایہ حکم اس وقت تک باقی رہےگا جب تک کسی بھی نماز کاوقت ایسےنہ گزرےکہ اس میں وہ عذرایک بار بھی پیش نہ آئے ۔ اگر مستحاضہ عورت شرعی معذور نہیں ہےیعنی نماز کے مکمل وقت میں  اتنی فرصت مل جاتی ہےکہ وضوکرکےپاکی کی حالت میں فرض  نماز ادا کرسکے تو  خون بند ہونے تک انتظار کرے جب خون بند ہوجائے  تو وضوکرکے پاکی کی حالت میں نماز ادا کرے۔

          البتہ احتیاط کی بنا پرایسی مستحاضہ عورت  خون سے بچنے کےلیے کرسف یعنی روئی ،کپڑےکا ٹکڑا یاٹیشو پیپراستعمال کرےاس کو شرم گاہ میں اندر رکھ لیاجائےاورنمازپڑھ لی جائےجب تک تری اس کپڑےیاٹشو وغیرہ کے باہرنظرنہ آئےوضونہیں ٹوٹےگا۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين: (1/ 305)

 (وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة)بأن ‌لا ‌يجد ‌في ‌جميع ‌وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل. (وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت ...(ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل).

البحر الرائق شرح كنز الدقائق : (1/ 226)

 (قوله:وتتوضأ ‌المستحاضة ومن به سلس بول أواستطلاق بطن أو انفلات ريح أو رعاف دائم أو جرح لا يرقأ لوقت كل فرض).

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 41)

المستحاضة ومن به سلس البول أو استطلاق البطن أو انفلات الريح أو رعاف دائم أو جرح لا يرقأ يتوضئون لوقت كل صلاة ويصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل هكذا في البحر الرائق.

رشیدخان

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

19/جمادی الاخری1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

رشید خان بن جلات خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب