03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حیض آنے کے بعد اسے دوائی سے روک کر عمرہ کرنے کا حکم
89229پاکی کے مسائلحیض،نفاس اور استحاضہ کا بیان

سوال

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ایک عورت کو 10 نومبر کو ایامِ حیض شروع ہوئے۔ 12 نومبر کو اس نے ذوالحلیفہ سے احرام باندھا۔ 12 نومبر کی شام کے بعد کوئی خون کا داغ نہیں دیکھا (خون روکنے کی دوائیاں کھانے کی وجہ سے)۔ جس ڈاکٹر سے مشورہ کیا گیا اُن کا کہنا ہے کہ کوئی ضمانت نہیں، بیچ میں کبھی بھی اسپاٹنگ ہو سکتی ہے۔ اور اس عورت کے ایامِ عادت 9 دن کے ہیں۔ تو اب سوال یہ ہے کہ: کیا یہ عورت آج غسل کر کے عمرہ کر سکتی ہے؟ اور اگر بعد میں خون دوبارہ جاری ہو گیا اور وہ اس کی ایامِ عادت کے اندر ہی ہو، تو کیا اس کا عمرہ صحیح ہوگا یا بعد میں اس پر اس عمرہ کی قضا لازم ہوگی؟اس عورت کی 17 نومبر کو مکہ سے روانگی ہے۔ تو اس عورت کے لیے احتیاط کس میں ہے؟ کیا ابھی عمرہ کر لینا بہتر ہے یا روانگی سے کچھ دیر پہلے عمرہ ادا کرنا زیادہ مناسب ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 صورت مسئولہ کے مطابق جب عورت نے خون روکنے کے لیے دوائی کھالی اور خون رک گیا،تودوصورتیں ہیں :

1)تین دن کےاندرخون ختم ہوا۔

2)خون تین دن سے تجاوزکرگیا۔

پہلی صورت میں عورت پاک  ہے،لہذاعمرہ کرلے۔ دوسری صورت میں ایام عادت تک رکے،پھرعمرہ کرے۔اگررکناممکن نہ ہو  اوراسی حالت میں عمرہ کرلیاتواگراگلے15دن طاہر رہی توعمرہ ٹھیک ہوگیا۔اگرعمرہ کرنےکےبعد15دن کےاندرخون آگیاتواس عورت کودم اداکرناہوگا  ۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (1/308):

فلو أحست به فوضعت الكرسف في الفرج الداخل ومنعته من الخروج فهي طاهرة كما لو حبس المني في القصبة.

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/53):

(وهو)أي ‌الحيض(‌يمنع ‌الصلاة والصوم)...(و) يمنع (دخول المسجد) لقوله عليه الصلاة والسلام "فإني لا أحل المسجد لحائض ولا جنب".(و) يمنع (الطواف) ؛ لأن الطواف في المسجد.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (2/519):

لو ‌هم ‌الركب على القفول ولم تطهر فاستفتت هل تطوف أم لا؟ قالوا: يقال لها لا يحل لك دخول المسجد وإن دخلت وطفت أثمت وصح طوافك وعليك ذبح بدنة، وهذه مسألة كثيرة الوقوع يتحير فيها النساء.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (1/290):

إن الطهر المتخلل بين الدمين لا يفصل، بل يكون كالدم المتوالي بشرط إحاطة الدم لطرفي الطهر المتخلل.

عزیزالرحمن

دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی

18/جمادی الآخرۃ   /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عزیز الرحمن بن اول داد شاہ

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب