| 89330 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
ہم چار بہن بھائی ہیں اور ہمارے والدین الحمدللہ حیات ہیں۔ میری والدہ کے دو گھر تھے جو والد صاحب نے انہیں دیے تھے اور ان پر باقاعدہ قبضہ بھی دے دیا تھا۔ ایک گھر چھوٹا تھا اور ایک بڑا۔
بڑی بہن کی ضرورت کے پیشِ نظر والد صاحب نے والدہ کی اجازت سے وہ گھر بیچ دیا اوردونوں بیٹیوں کو ساڑھے نو لاکھ فی کس کے حساب سے رقم دی، اور کہا کہ اب تمہارا حصہ ادا ہو گیا ہے، اور بڑا گھر اب دو بیٹوں میں تقسیم ہوگا۔ اس وقت اس گھر کی مالیت تقریباً چالیس لاکھ تھی، جو بیٹوں کے حصے کے مقابلے میں تقریباً دوگنی بنتی تھی۔لیکن عملاً یہ بڑا گھر اب تک دونوں بیٹوں میں تقسیم نہیں ہوا۔ چھوٹا بیٹا نہایت ذمہ دار ہے اور اب تک والدین کی ذمہ داری بھی اسی نے سنبھالی ہوئی ہے، جبکہ اس کے پاس اپنا کوئی گھر نہیں۔ اب والدہ یہ چاہتی ہیں کہ بڑے بیٹے کو پچاس لاکھ یا جو اس کا حصہ بنتا ہو رقم کی صورت میں دے کر، وہ گھر چھوٹے بیٹے کو دے دیا جائے۔بہنوں کو پہلے ہی ایک گھر کی رقم مل چکی ہے۔ چھوٹے بھائی کو گھر دینے پر ہم دونوں بہنیں، والد، والدہ اور بڑا بھائی سب راضی ہیں۔
سوال یہ ہے:
کیا والدہ ایسا کر سکتی ہیں کہ بڑے بیٹے کو اس کا حصہ رقم کی صورت میں (مثلاً پچاس لاکھ) دے کر گھر چھوٹے بیٹے کو دے دیں؟یا والد صاحب نے جو بات کہی تھی کہ بڑا گھر دو بیٹوں میں تقسیم ہوگا، اسی کے مطابق کرنا ضروری ہے، جبکہ مذکورہ نئی تقسیم پر سب راضی ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ دونوں مکانات شرعاً والدہ کی ملکیت تھے، اس لیے کہ والد صاحب نے انہیں ہبہ کرکے باقاعدہ قبضہ بھی دے دیا تھا، لہٰذا والدہ کو اپنی ملکیت میں مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ جس طرح مناسب سمجھیں تصرف کریں؛ اولاد کے درمیان برابری کرنا بہتر ضرور ہے، مگر جب تمام اولاد خوش دلی سے راضی ہو، تو کسی ایک بیٹے کو مکان دینا اور دوسرے بیٹے کو اس کا حق رقم کی صورت میں ادا کرنا بالکل جائز ہے، نیز والد صاحب کا یہ کہنا کہ بڑا گھر دو بیٹوں میں تقسیم ہوگا محض ایک ارادہ تھا، کیونکہ نہ اس پر عملی تقسیم ہوئی نہ قبضہ دیا گیا،اورنہ ہی وہ اس کے مالک تھے، اس لیے وہ شرعاً لازم نہیں، چنانچہ موجودہ صورت میں والدہ کا بڑے بیٹے کو اس کا حصہ مثلاً پچاس لاکھ روپے دے کر مکان چھوٹے بیٹے کے نام کرنا درست اور جائز ہے، خاص طور پر جبکہ اس پر والدین، دونوں بیٹے اور تمام بہنیں متفق ہیں، البتہ آئندہ نزاع سے بچنے کے لیے بہتر یہ ہے کہ یہ معاملہ تحریری طور پر اور باقاعدہ قبضہ کے ساتھ مکمل کر لیا جائے۔
حوالہ جات
وفی الدر المختار للحصفكي مع رد المحتار - ( (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل.(ج:5ص:690)شعب الإيمان لأبو بكر البيهقي - (ج 4 / ص 387)
السنن الكبرى للبيهقي وفي ذيله الجوهر النقي - (ج 6 / ص 176)
عن حصين عن عامر قال سمعت النعمان بن بشير يقول وهو على المنبر : أعطانى أبى عطية فقالت له عمرة بنت رواحة : لا أرضى حتى تشهد رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال فأتى النبى -صلى الله عليه وسلم- فقال : إنى أعطيت ابن عمرة بنت رواحة عطية وأمرتنى أن أشهدك يا رسول الله قال :« أعطيت سائر ولدك مثل هذا ». قال : لا قال :« فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم ». قال فرجع فرد عطيته. رواه البخارى فى الصحيح عن حامد بن عمر وأخرجه مسلم من وجهين آخرين عن حصين.
رد المحتار - (ج 24 / ص 42)
وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب ، وكذا في العطايا إن لم يقصد به
الإضرار ، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم.
الفتاوى الهندية (4/ 391)
ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا ، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين ، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية.
حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 444)
أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه - صلى الله عليه وسلم - قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم» فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى........ وقال محمد: ويعطي للذكر ضعف الأنثى.
وفی بدائع الصنائع - (6 / 127)
وأما كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر على الأنثى وقال محمد العدل بينهم أن يعطيهم على سبيل الترتيب في المواريث للذكر مثل حظ الأنثيين كذا ذكر القاضي الاختلاف بينهما في شرح مختصر الطحاوي۔
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
22/6/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


