03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
امام صاحب کا مسجد کی رقم اپنی ذاتی استعمال میں لانے کا حکم
89340وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

فتوی نمبر 89205.67 کے بار میں امام صاحب خود درج ذیل مسئلہ کے بارے میں پوچھاکہ مسجد کےامام کے پاس مقتدی مسجد کے پانی کے لیے  پیسہ جمع کرتے ہیں یا کبھی چندہ کرتےہیں ، اگر  مسجد میں پانی ہو تو امام وہ پیسہ اپنے استعمال میں لاتا ہے ،جب پانی ختم ہو تو پھر اس سے مسجد کے لیے پانی کا بندوبست کرتا ہے ۔تو کیا امام صاحب کا  ان پیسوں کو اپنے استعمال میں لانا  جائز ہے یا دینے والوں سے اجازت لینا ہوگا؟ کیونکہ اجتماعی چندہ نہیں ہے انفرادی چندہ ہے دو تین بندوں سے جمع کیاگیاہے۔(ازامام مسجد)

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

امام صاحب کا مسجد کے کسی مخصوص کام کے واسطے جمع شدہ پیسوں کو اپنے استعمال میں لانا امانت میں خیانت ہے ۔ آئندہ اس سے اجتناب ضروری ہے۔ لہذا جتنی رقم اپنے استعمال میں لائے اتنی ہی رقم کا وہ ضامن ہے   ۔ اگر امام  صاحب ان  چندہ دہندہ گان کو جانتا ہوتو اس رقم کو واپس مسجد کے   پانی میں صرف کرنے کے لیے ان کی اجازت  لینا ضروری ہوگی، اور اگر ان کو نہیں جانتا تو بھی اس رقم کو مسجد کے پانی میں صرف کر لینے سے استحسانا وہ اس  ضمان سے بری ہو جائے گا ۔تا ہم پھر بھی اپنی اس تعدی پر توبہ استغفار ضروری ہے ۔

حوالہ جات

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري ط: دار الكتاب الإسلامي (/5271):

"ولو ‌جمع ‌مالا ‌لينفقه ‌في ‌بناء ‌المسجد فأنفق بعضه في حاجته ثم رد بدله في نفقة المسجد لا يسعه أن يفعل ذلك فإذا فعله وكان يعرف صاحبه ضمن له بدله أو استأذنه في صرف عوضه في المسجد وإن كان لا يعرفه رفع الأمر إلى القاضي ليأمره بإنفاق بدله فيه وإن لم يمكنه الرفع إليه قالوا نرجو له في الاستحسان الجواز إذا أنفق مثله في المسجد ويخرج عن العهدة فيما بينه وبين الله تعالى. "

الفتاوى الهندية  ط: دار الفكر بيروت (/2416)

لو أنفق دراهم الوقف في حاجته ، ثم أنفق مثلها في مرمة الوقف يبرأ عن الضمان."

الدر المختار مع رد المحتار ط: الحلبي» (4/ 433):

"شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به."

محمد جمال بن جان ولی خان

دار الافتاء  جامعۃ الرشیدکراچی

19/جمادی الثانیہ 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد جمال بن جان ولی خان

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب