03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مر حوم کے مشترکہ اکاؤنٹ کا حکم
89427میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

یہ ایک نہایت اہم اور نازک مسئلہ ہے جو وراثت (میراث) اور مشترکہ ملکیت (Joint Ownership) سے متعلق ہے۔ ذیل میں واقعےکی تفصیل اوراس پرشرعی نقطۂ نظر پیش کیاجاتاہے: معاملے کی تفصیل: ایک شخص کا انتقال ہوگیا۔ مرحوم کے ورثہ میں ایک بیوہ، بیٹے اور بیٹیاں شامل ہیں۔ مرحوم کی ملکیت میں گاڑی، جائیداد، بینک اکاؤنٹس اور لاکرز شامل تھے۔(۱) ان میں سے ایک بینک اکاؤنٹ مرحوم اور ان کی اہلیہ کے مشترکہ نام پر تھا۔ مرحوم کے انتقال کے تقریباً 20 دن بعد، مرحوم کی والدہ کے کہنے پر ان کی ایک بیٹی نے اس مشترکہ اکاؤنٹ سے تمام رقم بغیر کسی وارث کو اطلاع دیے نکلوا لی۔ (۲)اسی طرح تین لاکرز تھے جن میں تقریباً 90 سے 95 فیصد سامان مرحوم کے استعمال میں تھا، لیکن بیٹیوں نے جا کر وہ لاکرز خالی کر دیے بغیر کسی وارث کو اطلاع دیے۔ اب وہ یہ کہہ رہی ہیں کہ جوائنٹ اکاؤنٹ اور لاکر کا تمام سامان ان کا ذاتی تھا، حالانکہ ان اکاؤنٹس میں زیادہ تر لین دین مرحوم کے ذریعے کیا گیا تھا۔ مزید وضاحت کے لیے: اب بیٹے یہ موقف رکھتے ہیں کہ وہ رقم دراصل مرحوم (والد) کی ملکیت تھی، لہٰذا وہ وراثت میں شامل ہوگی۔ لیکن بیوہ کا دعویٰ ہے کہ وہ رقم ان کی اپنی تھی، مرحوم کی نہیں۔ (۳)اسی طرح ایک دوسرا جوائنٹ اکاؤنٹ تھا جو بیوہ اور بیٹیوں کے نام پر تھا۔ اس میں زیادہ تر (تقریباً 100 میں سے 90) لین دین مرحوم کے ذریعے ہوا، جبکہ صرف چند لین دین بیوہ یا بیٹیوں کے ذریعے ہوئے۔ بیٹے اس بنا پر کہتے ہیں کہ یہ پیسہ بھی دراصل مرحوم کا تھا اور وراثت میں تقسیم ہونا چاہیے۔ بیٹے مزید یہ کہتے ہیں کہ اگر بیوہ اور بیٹیاں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ یہ رقم ان کی ذاتی ملکیت ہے تو وہ اس کا ثبوت پیش کریں کہ یہ رقم کہاں سے آئی، کیونکہ مرحوم کی زندگی میں زیادہ تر مالی معاملات انہی کے ہاتھ میں تھے۔ اسی طرح اگر مرحوم کے لاکرز میں سونا یا دیگر قیمتی اشیاءرکھی ہوئی تھیں اور بیٹیوں نے والد کی وفات کے بعد وہ سب نکال کر اپنے قبضے میں لے لیا، تو شرعی طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ سامان بیٹیوں کی ذاتی ملکیت تصور ہوگا یا وراثت میں شامل ہوگا؟

تنقیح :سائل سے بذریعہ فون کال استفسار پر معلوم ہوا ہےکہ مرحوم اور ان کی اہلیہ کے نام پر جو مشترک اکاؤنٹ تھا اس میں تمام رقم والد صاحب خود جمع کراتے تھے،اسی طرح کارو بار یا کسی اور ذریعہ سے جو رقم آتی تھی وہ بھی والد صاحب کے نام پر آتی تھی،البتہ یہ کہا جارہا ہے کہ والد صاحب نے والدہ کو پلاٹ لےکر دیا تھاجس کو فروخت کر کے  اس کی رقم بھی اسی اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی تھی۔   دوسری بات  یہ ہے کہ جو لاکر مرحوم کی اہلیہ اور بیٹیوں کے نام پر ہے  وہ بھی والد صاحب کے ہی استعمال میں تھا اور اس میں جتناسامان تھا وہ بھی والد صاحب کے استعمال میں تھا اور اس کے  جتنے لین دین کے معاملات تھے وہ بھی تقریبا90 فیصد والد صاحب کے ذریعہ ہوتے تھےاور والد صاحب نے کبھی اپنی زندگی میں اس  لاکر یا اس کے سامان کے بارے میں اپنی اہلیہ یا بیٹیوں کو ہبہ کرنے یا مالک بنا نے کی تصریح نہیں کی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

تمہید:یہاں تمہیدکے طور پرجندباتیں ذکر کی جارہی ہیں جن کی روشنی میں جواب سمجھناآسان ہوگا:

۱-جوائنٹ اکاؤنٹ ہونے سے مشترکہ ملکیت ثابت نہیں ہو تی  ،تاہم تصرفات کی اجازت ہوتی ہے ۔

۲-جوائنٹ اکاؤنٹ میں اگر فریقین کے پیسے جمع ہوں  تو جوجتنےپیسے جمع کروائے گا اتنے کا مالک ہوگا۔

۳-تاہم یہاں دوسرے فریق کو شوہر نے قابل اعتماد ماناتھا اس لیے ملکیت کی تفصیل میں اس کا قول قبول کیا جائےگا۔اگر کسی اور وارث کو اس سے اختلاف ہو تو اسے اپنا دعوی ثابت کرنا ہوگا۔

۴-لاکر جس کے تصرفات میں دیا جائے اس لاکر  کے مال میں اسی کا قول معتبر ہوگا ۔اگر کسی کو اختلاف ہو تو اسے اپنا دعوی ثابت کرنا ہوگا۔

یہ اصول سمجھنے کے بعد اب اصل جواب  سمجھیے:

 مرحوم اور ہلیہ کے نام پر جو جوائنٹ اکاؤنٹ تھا  اس میں موجود پلاٹ کی رقم کا حکم یہ ہے کہ اگر مرحوم نے پلاٹ خریدنے کے بعد اہلیہ کے قبضہ میں بھی دے دیا تھایا پلاٹ  فروخت کرنےکے بعد اس کی رقم ان کے قبضہ میں دے دی تھی تو وہ رقم اہلیہ کی ہو گی اور میراث میں شامل نہیں ہو گی۔اور باقی رقم کے بارے میں اہلیہ کا قول قبول کیا جائے گا۔اگر کسی وارث کو اس سے اختلاف ہو تو اسے اپنا دعوی ثابت کرنا ہو گا۔

اسی طرح لاکرز اوروہ جوائنٹ اکاؤنٹ جو اہلیہ اور بیٹیوں کے نام پر ہےاس میں بھی انہی کے قول کا اعتبار ہو گا۔البتہ اگر کسی کواختلاف ہو تو اسے اپنا دعوی ثابت کرنا ہو گا۔

حوالہ جات

رد المحتارعلی الدرالمختار (5/691):

(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به).                               

الفتاوى الهندية (4/417):

ومنها أن يكون الموهوب مقبوضًا حتّى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض.

 الدرالمختار(6/759):

 (یبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها).

ردالمحتار:

(قوله :الخالية إلخ )صفة كاشفة،لأن تركه الميت من الأموال صافيًا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية.

رد المحتار على الدرالمختار (6/ 420):

 (قوله فلا بأس بشرائه منه) وإن كان فاسقا، لأن اليد ‌دليل ‌الملك، ولا معتبر بأكبر الرأي عند وجود الدليل الظاهر.

رد المحتار على الدرالمختار (5/ 594):

فإن ما في بيته وما يعرف به وينسب إليه يكون معلوما لكثير من الناس أنه ملكه، فإن اليد والتصرف ‌دليل ‌الملك.

   البدائع الصنائع(2/225):

وعلى هذا يخرج مسألة الخارج مع ذي اليد إذا أقاما البينة أنه لا تقبل بينة ذي اليد لأنها جعلت حجة للمدعي وذو اليد ليس بمدع بل هو مدعى عليه فلا تكون البينة حجة له.

      محمدوجیہ الدین

 دارالافتاءجامعہ الرشیدکراچی                                                                                                                                                                                                                                                                           21/جمادی الثانیہ/1447

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد وجیہ الدین بن نثار احمد

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب