| 89474 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
اسلام و علیکم محترم مفتی صاحب ھمارے علاقہ میں رواج ھے کہ بچی کا رشتہ طے کرتے وقت بچی کے والدین / گارڈین کرنسی کی صورت میں حق مہر کے علاوہ بچی کی ازدواجی زندگی کے تحفظ کی خاطر کچھ شرائط طے کرتے ہیں۔جن میں مکان یا جائیداد کا کچھ حصہ بھی بچی کے نام انتقال یا رجسٹری کرایا جاتا ھے۔یا نکاح نامہ و کابین نامہ(اسٹام پیپر) میں قطعی ملکیت لکھوایا جاتا ھے۔ حکومتی نکاح نامہ میں مکان جائیداد وغیرہ کا حصہ لکھوانے کے دو علیحدہ علیحدہ کالم ہیں۔ایک حق مہر کے عوض مکان و جائیداد(سونا وغیرہ) کاکالم دوسرا ازدواجی زندکی کے تحفظ کے لۓ شرائط کا کالم۔ اگر نکاح نامہ میں مکان کا کچھ طے شدہ حصہ صرف شرائط ھی کے کالم میں لکھوایا گیا ھو۔تو کیا 1.یہ حق مہر شمار ھوگا یا ہبہ . 2.ہر دونوں صورتوں میں یعنی حق مہر کی صورت بنتی ھے یا ہبہ کی، اس طے شدہ حصہ کواگر شادی کے بعدبغیر پیمائش و حدبندی ا ورمکمل قبضہ و مکمل تصرف کے بچی کو سسرال والے بچی کی اپنی مرضی اور بچی کے والدین/گارڈین کی مرضی سے دیتے ہیں تو کیا لکھوایا گیاحصہ بچی کی ملکیت ھو گا یا نہیں۔ مفتی صاحب اللہ اپکو جزاء خیر عطا کرے۔تحریری فتوی ادارے کے پیڈ پرچائیے۔بڑی مہربانی ھو گی شکریہ والسلام سائل محمد امجد سلیم
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نکاح کے وقت لگائی گئی جائز شروط کا شریعت نے اعتبار کیا ہے، کیونکہ نکاح کے وقت نکاح نامہ میں لکھی گئی شرائط درحقیقت عقدِ نکاح کی شرط کے ساتھ معلق ہوتی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ نکاح کرنے والے شخص نے اس بات کو تسلیم کیا ہےکہ اگر مذکورہ خاتون نے مجھ سے نکاح کر لیا تو میں اس کو یہ مکان یا جائیداد دوں گا۔ لہذا جب نکاح کا انعقاد ہو گیا تو اس شرط کو پورا کرنا دیانتاً اور قضاءً اس کے ذمہ لازم ہو گیا، اگر وہ نہیں دے گا تو شرعاً عورت کو قانونی چارہ جوئی کرنے کا حق حاصل ہے۔ تا ہم مہر کیونکہ الگ خانے میں لکھا ہوا ہےلہذا یہ مہر میں شمار نہیں ہوگا، الگ سے ایک وعدہ ہے جس کو پورا کرنا ضروری ہے۔
حوالہ جات
الموسوعة الفقهية الكويتية (41/ 307)
والثاني: شرط ما تنتفع به المرأة مما لا ينافي العقد كزيادة معلومة في مهرها أو في نفقتها الواجبة، أو اشتراط كون مهرها من نقد معين، أو تشترط عليه أن لا ينقلها من دارها أو بلدها أو أن لا يسافر بها، أو أن لا يفرق بينها وبين أبويها أو أولادها، أو على أن ترضع ولدها الصغير، أو شرطت أن لا يتزوج عليها ولا يتسرى، أو شرط لها طلاق ضرتها أو بيع أمته، فهذا النوع صحيح لازم للزوجة بمعنى ثبوت الخيار لها بعدمه، لما روى الأثرم بإسناده أن رجلا تزوج امرأة وشرط لها دارها ثم أراد نقلها، فخاصموه إلى عمررضي الله تعالى عنه فقال: لها شرطها، فقال الرجل: إذن يطلقننا، فقال عمر: مقاطع الحقوق عند الشروط، ولأنه شرط لها منفعة مقصودة لا تمنع المقصود من النكاح فكان لازما.
کتاب الفقہ المیسر:۵/۲۲
وقد أفتت اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء في السعودية بصحة شرط المرأة بقاءها في قريتها في الفتوى رقم (١٤٦٨٢) (٢)، وصحة اشتراط مبلغ إضافي سوى المهر في فتواها رقم (۹۲۹۸) (۳)
البحر الرائق:۳/۱۷
وان لم یسمہ او نفاہ فلہا مہر مثلہا ان وطئ او مات عنہا والمتعۃ ان طلقہا قبل الوطئ.
عبداللہ المسعود
دارالافتا ء،جامعۃالرشید کراچی
۲۳⁄جمادی الاخری ⁄۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالله المسعود بن رفيق الاسلام | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


