| 89307 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
ایک علاقے میں مسجد بن رہی تھی، جس کے اردگرد اکثر آبادی دیوبندی مسلک سے تعلق رکھتی تھی، اس کی زمین ذاکر اللہ نامی ایک شخص نے وقف کی، وقف کے بعد تعمیر کے لیے لوگوں سے چندہ کی اپیل کی گئی، بہت سے لوگوں نے چندہ دیا، جب چھت ڈالنے کا وقت آیا تو ایک شخص خالد نے بڑی مقدار میں چندہ دیا، تعمیر مکمل ہونے کے بعد واقف نے خفیہ طور پر وہ مسجد بریلوی سیلانی ٹرسٹ کے نام رجسٹرڈ کروا دی اور امام کے تقرر وغیرہ کا اختیار بھی سیلانی ٹرسٹ کو دیا اور تبلیغی جماعت وغیرہ پر بھی پابندی لگا دی، جبکہ سیلانی کے نام مسجد کروانے میں چندہ دہندگان اور محلہ والوں سے کوئی مشورہ نہیں کیا گیا، جب محلہ والوں کو علم ہوا تو خالد نے اعتراض کیا کہ ہم نے مطلق مسجد کے لیے چندہ دیا تھا، آپ نے اس کو بریلوی مسلک کے ساتھ نتھی کیوں کیا؟ لہذا میں نے اس مسجد کو جو پیسے بطور چندہ دیے ہیں وہ واپس کیے جائیں، اس حوالے سے درج ذیل دو سوالات ہیں:
1) كيا خالد كے ليے مسجد كو ديا گيا چنده واپس لینا جائز ہے؟ تا کہ اس کو دوسری مسجد میں استعمال کیا جا سکے۔
2) اگر دوسری مسجد بنا دی گئی اور اس کی وجہ سے پہلی مسجد ویران ہو گئی تو کیا اس کا گناہ چندہ دہندہ گان پر ہو گا؟
3) اگر چندہ واپس لیا جاتا ہے تو کیا آج کی قیمت کے حساب سے واپس کیا جائے گا یا سابقہ قیمت کے حساب سے واپس ہو گا؟ کیونکہ اب کرنسی کی قیمت کم ہو گئی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1،2۔ صورتِ مسئولہ میں جب خالد نے مسجد کے لیےوقف جگہ کی تعمیر کے لیے چندہ دیا تو حنفیہ کے مفتی بہ قول کے مطابق وہ خالد کی ملکیت سے نکل کر مسجد کی ملکیت ہو گیا، لہذا اب جب اس چندے کی رقم کومسجدکےلیے استعمال کر لیا گیا اور اس سے مسجد کی چھت ڈال لی گئی تو خالد کے لیے اس کی واپسی کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے، نیز ایسی صورت میں مسجد کے متولی کے لیے شرعاً وہ رقم واپس کرنا بھی جائز نہیں ہے۔
البتہ واقف کے لیے اہل محلہ اور چندہ دہندہ گان کے مشورہ کے بغیر اس مسجد کو کسی خاص مسلک کے نام رجسٹرڈ کروانا درست نہیں تھا، خصوصاً جبکہ محلے کی آبادی کی اکثریت دوسرے مسلک سے تعلق رکھتی ہے،
اس سے لوگوں میں نفرتیں اور اختلافات پیدا ہوتے ہیں، جس سے معاشرے کا امن اور سکون ختم ہوتا ہے۔
3۔ اس کا جواب پہلے سوال کے جواب کے ضمن میں گزر چکا ہے۔
حوالہ جات
تفسیر القرطبی: (78/2، ط: دار الکتب المصرية):
لا يجوز نقض المسجد ولا بيعه ولا تعطيله وإن خربت المحلة، ولا يمنع بناء المساجد إلا أن يقصدوا الشقاق والخلاف، بأن يبنوا مسجدا إلى جنب مسجد أو قربه، يريدون بذلك تفريق أهل المسجد الأول وخرابه واختلاف الكلمة، فإن المسجد الثاني ينقض ويمنع من بنيانه، ولذلك قلنا: لا يجوز أن يكون في المصر جامعان، ولا لمسجد واحد إمامان، ولا يصلي في مسجد جماعتان.
تفسیر القرطبی:: (253/8، ط: دار الکتب المصرية)
قال علماؤنا: لا يجوز أن يبنى مسجد إلى جنب مسجد، ويجب هدمه، والمنع من بنائه لئلا ينصرف أهل المسجد الأول فيبقى شاغرا، إلا أن تكون المحلة كبيرة فلا يكفي أهلها مسجد واحد فيبنى حينئذ.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
16/جمادی الاخری1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


