| 89205 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
مسجد کےامام کے پاس مقتدی مسجد کے پانی کے لیے پیسہ جمع کرتے ہیں یا کبھی چندہ کرتےہیں ، اگر مسجد میں پانی ہو تو امام وہ پیسہ اپنے استعمال میں لاتا ہے ،جب پانی ختم ہو تو پھر اس سے مسجد کے لیے پانی کا بندوبست کرتا ہے ۔تو کیا امام صاحب کا ان پیسوں کو اپنے استعمال میں لانا جائز ہے؟ یا دینے والوں سے اجازت لینا ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یہ بات امام صاحب کے پوچھنے کی ہے ۔اگر واقعی ایسی کوئی صورت ہے تو امام صاحب سے تصدیق کروا کر بھیجیں کہ وہ واقعتا ایسا کرتے ہیں ۔پھر جواب دیا جائے گا۔
حوالہ جات
قال الله تعالى : يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱجۡتَنِبُواْ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلظَّنِّ إِنَّ بَعۡضَ ٱلظَّنِّ إِثۡمٞۖ وَلَا تَجَسَّسُواْ وَلَا يَغۡتَب بَّعۡضُكُم بَعۡضًاۚ [الحجرات: 12]
صحيح مسلم ط: دار الطباعة العامرة تركيا (8/ 10):
عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " إياكم والظن فإن الظن أكذب الحديث، ولا تحسسوا، ولا تجسسوا."
محمد جمال
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
12/جمادی الثانیہ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد جمال بن جان ولی خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


