03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کمیشن ایجنٹ کا دوسرے بندے کو اپنا کمیشن ایجنٹ رکھنا
89446اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلدلال اور ایجنٹ کے احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ : میں کراچی میں ایک بارگینگ کمپنی کو گاہک مہیا کرتا ہوں جس پر وہ کمپنی مجھے گاڑی فروخت ہونے پر دس ہزار روپے کمیشن دیتی ہے۔ان کی ایک بارگین کمپنی پشاور میں بھی ہے میں نے وہاں ایک بندہ رکھا ہوا ہے اور اس کو میں نے کہا ہے کہ آپ گاہک بنا کر پشاور والے بارگین بھیجا کریں اور جب آپ کا گاہک گاڑی خریدے گاتو میں آپ کوپانچ ہزار روپے کمیشن دوں گا ۔

پشاور والے میرے ساتھی کا کمپنی کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہے بلکہ کمپنی نے تو مجھے کمیشن ایجنٹ مقرر کیا ہے لیکن میں نے آگے اس کو کمیشن ایجنٹ مقرر کیا ہے اور کمپنی سے جو کمیشن مجھے ملتا ہے میں اس میں سے متعین کمیشن (پانچ ہزار)اس کو دیتا ہوں اور پانچ ہزار میں لیتا ہوں ،اس پورے معاملہ کا یعنی دوسرے کمیشن ایجنٹ کاکمپنی کو پتہ نہیں کیونکہ کمپنی کا مقصد صرف گاہک ہوتا ہے چاہے میں خود فراہم کروں یا اپنے کسی بندے کے ذریعہ سے ،البتہ ان کی طرف سے اس بات کی اجازت ہوتی ہے کہ آپ خود کلائنٹ لائیں یا دوسرے آدمی کے ذریعے ،ہاں دوسرے بندے کے ذریعے سے کلائنٹ لانے کی صورت میں کمپنی کہتی ہے کہ اس کے ساتھ پھر آپ خود ہی ڈیلنگ کریں  یعنی کمیشن آپ خود ہی دیں اس کو ہم نہیں دیں گے۔

لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ جب میں براہ راست کاہگ بھیجتا ہوں تو اس میں میری طرف سے محنت شامل ہوتی ہے کہ میں اس کو بارگین کا تعارف کراتا ہو ں ان کے صحیح اوصاف بیان کرتا ہوں(براہ راست لوگوں کے پاس جاکر یا فون کے ذریعے) ،لیکن جو میرے کمیشن ایجنٹ کے ذریعہ گاہک پشاور والے بارگین میں جاتے ہیں اس میں میری براہ راست تو کوئی محنت شامل نہیں ہوتی ،کیونکہ ادھر بارگین کا تعارف اور اوصاف وہی بیان کرتا ہےاور وہی اس گاہک کو گاڑی خریدنے پر آمادہ کرتا ہے لیکن اس میں کمیشن میرے نام پہ آتا ہے جس میں سے آدھا میں اپنے ایجنٹ کو دیتا ہوں تو کیا معاملہ جائز ہے یا نہیں ؟

اگر یہ صورت جائز نہیں تو پھر کیا یہ صورت جائز ہے کہ میں اپنے اس ایجنٹ کے ساتھ اس طرح معاملہ کروں کہ تم گاہک تلاش کر کے ان کو بارگین کا تعارف اور اوصاف بیان کرو اور پھر بارگین لے جانے سے پہلے میں بارگین والوں کو فون کروں کہ میرا گاہک آرہا ہے کیونکہ جس کو میں نے ایجنٹ رکھا ہوگا وہ گاہک لیجانے سے پہلے مجھے بتائے گا کہ ہم ابھی جارہے ہیں تو میں بارگین کو اطلاع کر کے پھر کمیشن کا مستحق ہوسکتا ہوں؟

یا یہ کہ میں اپنے ایجنٹ سے کہوں کہ تم گاہک کو تیار کرنے کے بعد مجھ سے فون کے ذریعے اس گاہک کا رابطہ کراؤ،میں بھی اس گاہک سے بارگین کا تعارف اور باقی خرید اری کے متعلق کچھ تھوڑی بہت باتیں کروں گا اور اس کی رہنمائی کروں گا اور پھر میں تم سے کہوں گا کہ اب تم اس گاہک کو بارگین لے جانااور ادھر میں بارگین والوں کو فون کرلوں گا کہ میرے بندے آپ کے پاس گاڑی خریدنے کیلئے آرہے ہیں اور اس طرح پھر خریداری کے بعد کمیشن ملنے پر میں اس ایجنٹ کو اس کا کمیشن دوں؟

اگر مذکورہ تینوں صورتیں جائز نہیں تو اس کے علاوہ ایک صورت میرے ذہن میں اس کے متعلق یہ ہے کہ میں اس دوسرے آدمی کو ایجنٹ کی بجائے اپنا وکیل یا اجیر بناکر اس کو گاہک بنانے کا کام حوالہ کروں کیونکہ کمپنی کے لئے تو میں نے گاہک بناکر دینا ہے چاہے خود ڈھوڈو یا کسی کے ذریعے تو کیا یہ جائز ہے؟

اگر تو وکالت/ اجارے والی صورت جائز ہے تو اس میں پھر کیا میں اس سے فی گاہک کے اعتبار سے بات کروں گا کہ میں تمہیں فی گاہک اتنے روپے دوں گا یا ماہانہ ایک متعین اجرت طے کرنا ضروری ہوگا ؟

اگر متعین اجرت طے کرنا ضروری ہے تو پھر اس میں یہ دشواری ہوگی کہ جس مہینے کوئی بھی گاہک اس نے نہ ڈھونڈا ہو تو اس مہینے کی بھی اس کو اجرت دینی پڑے گی جبکہ یہ مشکل ہے اور یہ صورت بھی ممکن نہیں کہ جس مہینے وہ گاہک بنائے اس مہینہ میں تو وہ میرا وکیل ہو اور اس کو میں اس کی اجرت بھی دیا کروں اور جس مہینے اس نے گاہک نہ ڈھونڈا ہو اس مہینہ وہ میرا وکیل نہ ہو،یا یہ کہ جس مہینے اس نےایک گاہک ڈھونڈا ہو اس مہینے بھی میں اس کو وہی اجرت دوں اور جس مہینے میں 3 گاہک ڈھونڈے ہوں اس مہینے بھی اتنی ہی اجرت دوں کیونکہ اجرت تو پہلے سے متعین ہوگی، تو یہ بھی مشکل ہے۔ اب آپ حضرات سے درخواست ہے کہ اگر اس بارے میں رہنمائی فرمائیں ۔

یعنی اگر پہلی صورت جائز ہے پھر تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ،لیکن اگر وہ جائز نہیں تو پھر آگے کی جو صورتیں بیان کی گئی ہیں ان میں کونسی صورت جائز ہوسکتی ہے؟اگر آخری صورت یعنی وکیل والی جائز ہو تو یہ صورت بھی وکالت کی ہوگی یا اجارے کی؟یعنی وہ میرا وکیل ہوگا یا اجیر اور اس کے ساتھ عقد کرتے ہوئے میں یہ کہوں گا کہ تم اس معاملے میں میرے وکیل ہو یا اجیر؟

یا اس کے علاوہ اگر کوئی اور جائز صورت آپ حضرات کے ذہن میں ہو تو اس کے بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ:

کیا یہ صورت کہ میں کمپنی کا ایجنٹ ہوں اور آگے ایک ذیلی ایجنٹ رکھ کر اسے اپنے کمیشن میں سے حصہ دیتا ہوں، شرعاً جائز ہے؟ اگر یہ جائز نہ ہو تو کیا اس طرح جائز ہوگی کہ میرا ذیلی ایجنٹ گاہک تیار کرے اور میں بارگین والوں کو پہلے سے اطلاع کر دوں کہ میرا گاہک آرہا ہے؟

یا یہ صورت کہ میرا ایجنٹ گاہک سے مجھے فون پر ملا دے، میں گاہک سے تھوڑی گفتگو کرکے تعارف کر دوں، پھر اسے بارگین لے جائے، اور اس پر مجھے کمیشن ملے، جس میں سے میں ایجنٹ  کو  اس کا حصہ دے دوں ،کیا یہ جائز ہے؟

اگر یہ صورتیں بھی درست نہ ہوں تو کیا میں اسے اپنا وکیل یا اجیر بنا کر گاہک تلاش کرنے کا کام دے سکتا ہوں؟ اور اگر وکالت/اجارہ جائز ہو تو کیا اس کی اجرت فی گاہک طے کر سکتا ہوں یا ماہانہ مقرر کرنا ضروری ہوگا؟

مہربانی فرما کر ان صورتوں میں سے کونسی درست ہے، اس کی رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں چونکہ کمپنی نے آپ کو کمیشن ایجنٹ مقرر کیا ہے اور اس بات کی اجازت بھی دی ہے کہ آپ خود گاہک لائیں یا کسی دوسرے شخص کے ذریعے لائیں۔   البتہ کمیشن صرف آپ ہی کو دیا جاتا ہے اور دوسرے شخص کو کمیشن دینا آپ کی ذمہ داری ہوتی ہے، اس لیے شرعاً آپ کا اپنے کمیشن میں سے کسی دوسرے شخص کو متعین حصہ دینا جائز ہے۔ یہ شخص آپ کا ذیلی ایجنٹ شمار ہوگا، نہ کہ کمپنی کا ایجنٹ اور اس کی محنت کا معاوضہ آپ کے ذمہ ہوگا جو آپ اپنے کمیشن میں سے ادا کر یں گے ۔  آپ کا کمیشن لینے کے لیے آپ کا براہِ راست محنت میں  شامل ہونا ضروری  نہیں۔

لہٰذا  آپ کا  کمپنی سے  پورا کمیشن  لے کر  اس میں سے متعین رقم (مثلاً پانچ ہزار روپے) اپنے ذیلی ایجنٹ کو دینا شرعاً جائز ہے،  اس میں کوئی حرج نہیں ۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 208):

وللأجير أن يعمل بنفسه وأجرائه إذا لم يشترط عليه في العقد أن يعمل بيده؛ لأن العقد وقع على العمل والإنسان قد يعمل بنفسه وقد يعمل بغيره ولأن عمل أجرائه يقع له فيصير كأنه عمل بنفسه إلا إذا شرط عليه عمله بنفسه لأن العقد وقع على عمل من شخص معين.

الهداية  شرح بداية المبتدي (3/ 233):

قال : (وإذا شرط على الصانع أن يعمل بنفسه ليس له أن يستعمل غيره)؛ لأن المعقود عليه العمل في محل بعينه فيستحق عينه كالمنفعة في محل بعينه (وإن أطلق له العمل فله أن يستأجر من يعمله)؛ لأن المستحق عمل في ذمته ويمكن إيفاؤه بنفسه وبالاستعانة بغيره بمنزلة إيفاء الدين.

النتف في الفتاوى للسغدي (2/ 559):

والإجارة لاتخلو من وجهين  إما  أ ن تقع على وقت معلوم أو على عمل معلوم   فإن وقعت على عمل معلوم فلا تجب الأجرة  إلا بإتمام العمل إذا كان العمل مما لا يصلح أوله إلا بآخره و إن كان يصلح أوله دون آخره فتجب الأجرة بمقدار ما عمل. وإذا وقعت على وقت معلوم فتجب الأجرة بمضي الوقت إن هو استعمله أو لم يستعمله وبمقدار ما مضى من الوقت تجب الأجرة.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (7/ 485):

وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل وما تواضعوا عليه أن من كل عشرة دنانير كذا  فذلك حرام عليهم.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 63):

قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا  لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام.

محمد ابرار الحق

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

29/جمادی الاخری/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابرار الحق بن برھان الدین

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب