| 89436 | غصب اورضمان”Liability” کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
ایک درزی گاہک کے سوٹ سے بچا ہوا کپڑا اپنے استعمال میں لاتا ہے اور گاہک کو واپس نہیں کرتا اور گاہک بھی بچے ہوئے کپڑے کے بارے میں نہیں پوچھتا، نیز بعض اوقات درزی اپنی مہارت کے پیشِ نظر کم کپڑے میں مکمل سوٹ سلائی کر کے دے دیتا ہے، مثلا اگر ساڑھے چار میٹر میں سوٹ سلائی ہوتا ہو تو وہ تقریباً 3.5 میں بنا دیتا ہے اور ایک میٹر کپڑا بچا لیتا ہے، ان دونوں صورتوں میں بغیر بتائے ہوئے درزی گاہک سے پانچ چھ سو روپیہ کم لیتا ہے، کیا اس طرح درزی کے لیے بچے ہوئے کپڑے کو استعمال کرنا جائز ہے؟ تاکہ درزی اس کو آگے بیچ سکے۔نیز اگر کوئی گاہک بچا ہوا کپڑا مانگے تو درزی اس کو کپڑا واپس کر دیتا ہے، اپنے استعمال میں نہیں لاتا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اصولی طور پر بچا ہوا کپڑا گاہک کا حق ہے اور گاہک کی رضامندی کے بغیر اس کو اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں، لہذا اگر درزی کے پاس اتنا کپڑا بچے کہ جو کسی استعمال میں لایا جا سکتا ہو تو گاہک کو واپس کرنا ضروری ہے یا یہ کہ گاہک کو بتا کر اپنے استعمال میں لائے۔ البتہ اگر ٹکڑوں کی شکل میں معمولی کپڑا بچے جس کو کسی خاطر خواہ استعمال لانا مشکل ہو تو ایسا کپڑا درزی اپنے پاس رکھ سکتا ہے، کیونکہ عام طور پر گاہک معمولی کپڑے کو صرفِ نظر کر جاتے ہیں۔
نیز درزی کا بچے ہوئے کپڑے کی اطلاع دیے بغیر گاہک سے پانچ چھ سو روپیہ کم لینے سے معاملہ درست نہیں ہو گا، کیونکہ گاہک اس کو کپڑے کا معاوضہ سمجھنے کی بجائے ڈسکاؤنٹ سمجھے گا، اس لیے ایسی صورت میں درزی اس کو صورتِ حال بتا کر معاملہ کرے تو شرعا جائز ہو گا۔ نیز درزی کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی دیانت داری کے مطابق کم سے کم کپڑے میں سوٹ بنانے کی کوشش کرے، خامخواہ زیادہ کپڑا استعمال نہ کرے۔
حوالہ جات
۔۔۔
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
29/جمادی الاخری1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب |


