03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سوشل میڈیاپلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدنی کاحکم
89646جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

موجودہ دور میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے فیس بک، یوٹیوب،ٹک ٹاک وغیرہ پر چینل اورپیچز بنائے جاتے ہیں اورکمائی کے لئے مونیٹائز کرواتے ہیں،مونٹائزیشن کے بعد ان کی ویڈیوز پرمختلف اشتہارات خود کارنظام کے تحت  نشرہوتے ہیں،ان اشتہارات میں میوزک،غیرمناسب  مناظر اورخواتین کی تصاویرشامل ہوتی ہیں،جن پرچینل کے منتظم کابراہ راست اختیار نہیں ہوتا،ایسی صورت میں اس ذریعہ سے حاصل ہونے والی آمدنی کی شرعی حیثیت کیاہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوشل میڈیاپلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدنی درج ذیل شرائط کے ساتھ جائزہے:

1۔میڈیاپلیٹ فارم کسی جائزمقصد(تعلیمی،تفریحی،تربیت وغیرہ) کے لئے بنایاگیاہو۔

2.میڈیاپلیٹ فارم پرخلاف شرع ویڈیوز اورمواد اپلوڈ نہ کیاجائے۔

3.خلاف شرع چلنے والے اشتہارات فلٹر کرنے کاپورااہتمام ہو۔

4.جائزکاروبار اورپروڈکٹ سے متعلق اشتہارات چلتے ہوں۔

5.اشتہارات کی کیٹگریزفلٹرکرنےاوراحتیاط کے باوجود گوگل کی طرف سے مالک کی رضامندی کے بغیراگرخلاف شرع یاناجائزکاروبار اورپروڈکٹ کے اشتہارات چلائے جائیں توریویو سینٹر میں اشتہارات کاجائزہ لے کرناجائزاشتہارات کی آمدن صدقہ کردی جائے۔

ان شرائط کی رعایت رکھتے ہوئےسوشل میڈیاپلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہے۔

حوالہ جات

۔۔۔۔

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

۱۴/رجب ۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب