03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ترکہ تقسیم کرنے سے پہلے انتقال شدہ وارث کے حصے کاحکم
89743میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

ایک فیملی میں تین لڑکے اور پانچ لڑکیاں ہیں اور ان کے والدین کی  جائیداد بھی ہیں۔ والدکی  وفات ہوئی اس کے بعد ایک لڑکا فوت ہوا ۔کیا اس لڑکے کے بچوں کو والد اور والدہ دونوں کی جائیداد سے حصہ ملے گا یا صرف والد کی طرف سے ملے گا اور والدہ کی طرف سے نہیں ہوگا ؟ نیز واضح رہے کہ والدہ فوت شدہ لڑکے کے بعد فوت ہوچکی ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

میت کی وفات کے وقت  جو ورثہ زندہ ہوتے ہیں صرف ان ورثہ کو میراث  میں حصہ ملتا ہیں۔اگر کسی میت کا ترکہ تقسیم کرنے سے پہلے  کسی وارث کا انتقال ہوجائے تواس  کے حصے کو اس کے ورثہ کی طرف منتقل کیا جائےگا۔ صورت مسئولہ میں چونکہ والدہ کی وفات  سے پہلے لڑکےکی  وفات   ہوگئی  تھی،   اس لیے  لڑکے کے بچوں کو صرف  لڑکے کے والد کی میراث میں جو حصہ ملتاتھا  وہی ملے گا۔ تاہم چونکہ لڑکے کی وفات کے وقت ان کی والدہ زندہ تھیں،  لہذا  اس  لڑکے کی میراث سے والدہ کا حصہ بھی الگ کیا جائے گا اور پھر اسے  والدہ کے ورثہ میں ہی  تقسیم کیا جائے گا۔

ہرمیت کے ورثہ کی تعداد لکھ دی جائے تو تفصیل سے ہر وارث کا حصہ بیان کر دیاجائے گا۔

حوالہ جات

الدر المختار مع رد المحتار ط: الحلبي  (6/ 758):

"وشروطه  ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود...ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل."

رد المحتار مع الدر المختار  ط:  الحلبي (6/ 801):

‌‌"والمراد بها  (أي المناسخة)هنا أن ينتقل نصيب بعض الورثة بموته قبل القسمة إلى من يرث منه."

محمد جمال

دار الافتاء  جامعۃ الرشیدکراچی

14/رجب المرجب/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد جمال بن جان ولی خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب