03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیاجہالت میں کیا گیا کفر و شرک معاف نہیں ؟
89709ایمان وعقائدایمان و عقائد کے متفرق مسائل

سوال

میراسوال یہ ہے کہ کیا  جہالت میں کیا گیا کفر و شرک  معاف نہیں ہے؟ جیسا کہ سورۂ ملک کی دسویں آیت سے استدلال کیا جاتا ہے۔جہنمی کہتے ہیں "کہ کاش ہم نے سنا یا سمجھا ہوتا "۔ علما ءکہتے ہیں کہ جہنمیوں نے اسلام کو سمجھا ہی نہ تھا پھر بھی وہ جہنم میں ہیں اس کا مطلب جہالت عذر نہیں۔ سوال یہ ہے کہ جس نے سنا اور سمجھا ہی نہیں، اور اسے یہ احساس ہی نہیں تھا کہ وہ غلط راستے پر ہے، اس پر حجت کیسے قائم ہو گئی؟ اگر کہا جائے کہ انہوں نے حق کی تلاش کیوں نہ کی ،اسلام پر غور کیوں نہ کیا، تو حق کی تلاش وہی کرتا ہے جسے یہ احساس ہو جائے کہ وہ غلط راستے پر ہے۔صحیح راستہ وہ تلاش کرتا ہے جو جان جائے کہ وہ راستہ بھٹک گیا جسے یہ ہی محسوس نہ ہو کہ وہ غلط ہے، وہ تلاش کیسے کرے گا؟ رہنمائی فرمائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر واقعتا ًایسی جگہ ہو کہ جہاں  دین اسلام کے بارے میں کوئی بتانے والا موجود نہ ہو مثلاً:کوئی شخص کسی جنگل میں پیدا ہوا  اس تک دعوت نہ پہنچی ہو،تویہ شخص اسلام نہ لانے پر ماخوذ نہ ہوگا۔تاہم  ضروری ہے کہ وہ کائنات میں غور وفکر کرکے کم از کم اجمالی طور پرتوحید ِباری تعالی کو تسلیم کرے ۔ اس صورت میں  صرف توحید کے  اجمالی  عقیدے سے بخشش ہو جائے گی ۔  تاہم اگر معلومات  کے ذرائع دستیاب ہوں تو جہالت عذر نہیں  ۔آج کے زمانے میں  عام طور پر دلائل موجود ہیں ،اور ذرائع (انٹر نیٹ ،وغیرہ )بھی موجود ہیں    جن سے دین اسلام    کی حقانیت واضح طور پر  پھیل چکی ہے  ۔لہذا ان دلائل کے ہوتے ہوئے اب بھی   کوئی آدمی اپنی سستی کی وجہ سے  عمل نہ کرےتوپکڑ ہو گی۔

سورۃ  ملک  کی آیت میں یہ نہیں ہے کہ سرے سے ان کے کان میں حق بات پڑی ہی نہیں تھی ،بلکہ مراد یہ ہے کہ ہم سن تو رہے تھے مگر مانتے نہ تھے، جیسے عام محاورہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کی بات نہ مان رہا ہو اسے کہتے ہیں کہ "آپ میری بات ہی نہیں سن رہے "مراد سماع تفہّم ہے کہ اس پر غور و فکر ہی نہیں کرتے یہ ان کا قصور ہے ۔اس لیے آگے فرمایا ۔﴿فَاعْتَرَفُوا بِذَنْبِهِمْ ﴾  انہوں نے اپنے گناہ کا اعتراف کیا۔اس لیے جہنم میں  گئے۔اس میں یہ مضمون نہیں  ہے کہ خالی جہالت کی وجہ سےہم جہنم میں بھیجے گئے۔

حوالہ جات

إشارات المرام  من عبارات الامام أبی حنیفۃ  النعمان:54

(ص): وقال في" الفقه الأبسط "لم يفوض الله الأعمال إلى أحد، والناس صائرون إلى ما خلقوا له وإلى ما جرت به المقادير۔۔۔۔۔۔، فإذا استيقن بهذا أحد وأقر به فقد أقر بجملة الإسلام وهو مؤمن، ولو أقر بجملة الإسلام في أرض الترك ولا يعلم شيئًا من الفرائض والشرائع والكتاب إلا أنه مقر بالله تعالى والإيمان فهو مؤمن قال في رواية أبي يوسف ومحمد ولو لم يبعث الله تعالى للناس رسولاً لوجب عليهم معرفته بعقولهم، ويعذرون في الشرائع إلى قيام الحجة ولا عذر لأحد في الجهل بخالقه لما يرى من خلق السموات والأرض وخلق نفسه وغيره).

)تفسير الطبري جامع البيان:(23/125

‌‌‌‌القول في تأويل قوله تعالى: {وقالوا لو كنا نسمع أو نعقل ما كنا في أصحاب السعير (10) فاعترفوا بذنبهم فسحقا لأصحاب السعير (11)}.يقول تعالى ذكره: وقال الفوج الذي ألقي في النار للخزنة: {لو كنا} في الدنيا، {نسمع أو نعقل} من النذر ما جاءونا به من النصيحة، أو نعقل عنهم ما كانوا يدعوننا إليه، {ما كنا} اليوم {في أصحاب السعير}. يعني أهل النار. وقوله: {فاعترفوا بذنبهم}. يقول: فأقروا بذنبهم.

)تفسير ابن كمال باشا:(9/20

- {وقالوا لو كنا نسمع أو نعقل ما كنا في أصحاب السعير}.{وقالوا لو كنا نسمع} سماع تفهم بتفهيم الغير، كقوله تعالى: {ولو علم الله فيهم خيرا لأسمعهم} [الأنفال: 23].{أو نعقل} من عند أنفسنا بالتأمل في الآيات الظاهرة الدالة على وجوده تعالى ووحدانيته، والبينات الباهرة القائمة على صحة دعوى الرسل.وقيل: أي: نسمع سماع قبول وطاعة، أو نعقل عقل متفكر متأمل{فاعترفوا بذنبهم فسحقا لأصحاب السعير}{فاعترفوا بذنبهم} حين لا ينفعهم الاعتراف، وفي إفراد الذنب اعتبارا لأصله إشارة إلى أن ما اعترفوا به أمر مشترك بينهم، وهو الكفر بسبب تكذيب الرسل.

حنبل اکرم

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

18 /رجب المرجب  /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب