03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کا اپنے بالغ بیٹوں سے مفت میں کام لینے کاحکم
90241اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

محترم مفتی صاحب میں ایک پریشان حال بیٹا ہوں اور شریعت کی روشنی میں آپ سے رہنمائی چاہتا ہوں۔ مسئلہ کچھ یوں ہے:میں اور میرے بھائی اپنے والد کے ساتھ رہتے ہیں۔ گھر کا پورا خرچ (کھانا پینا، بجلی کا بل وغیرہ)والدصاحب ہی اٹھاتے ہیں، لیکن ان کا ہم پر کنٹرول بہت زیادہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ:جب میں سب خرچ دے رہا ہوں تو تمہیں الگ سے پیسوں کی کیا ضرورت ہے؟ہم ان کی زمینوں پر کھیتی باڑی کرتے ہیں اور ان کے مویشیوں (گائے، بکریاں) کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ ہم پورا دن مزدوروں کی طرح کام کرتے ہیں، لیکن ہماری کوئی ماہانہ اجرت (تنخواہ) یا منافع میں کوئی حصہ مقرر نہیں ہے۔جب ہمیں اپنی ذاتی ضروریات کے لیے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے تو ہمیں والد صاحب کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑتا ہے۔ اگر ہم نہ مانگیں تو وہ خود سے ایک روپیہ بھی نہیں دیتے۔میرا سوال یہ ہے:کیا شریعت میں والد کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اپنے بالغ بیٹوں سے مفت میں یا صرف کھانے پینے کے بدلے پورا دن مزدوری کروائیں؟کیا ایک بالغ بیٹے کا یہ حق نہیں کہ اس کی محنت کا پھل اسے نقد (پیسوں کی صورت میں) ملے تاکہ وہ اپنی ذاتی ضروریات پوری کر سکے؟کیا والد کا یہ کہنا درست ہے کہ:میں کھانا پینا دے رہا ہوں تو پیسے دینے کی ضرورت نہیں؟براہِ مہربانی قرآن اور حدیث کی روشنی میں جواب دیں تاکہ میں اپنے والد کو ادب کے ساتھ یہ بات سمجھا سکوں

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت میں جس طرح والدین کے حقوق کو اہمیت دی گئی ہے، اسی طرح اولاد کے حقوق بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ والدین پربھی لازم ہے کہ وہ اولاد کے ساتھ عدل و احسان کا معاملہ کریں اور ان کی ضروریات کا خیال رکھیں۔اگر اولاد والد کے کاروبار یا دیگر کاموں میں معاون ہو اور اس مصروفیت کی وجہ سے وہ کسی اور ذریعے سے کمانے کے لیے آزاد نہ ہوتو ایسی صورت میں اس کی بنیادی ضروریات کی کفالت والد کے ذمے ہوگی، جس میں نقد اخراجات بھی شامل ہیں اور اگر کام اس نوعیت کا ہو کہ جس کے لیے عموماً نوکر رکھا جاتا ہے، تو بہتر یہ ہے کہ ایسے کاموں کے لیے باقاعدہ مناسب اجرت طے کر دی جائے، یا پھر اولاد کو اتنا وقت اور موقع دیا جائے کہ وہ اپنی لیے خود کما سکے۔

نیز والد کو چاہیے کہ اولاد کی عزتِ نفس کا بھی خیال رکھے اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک اختیار کرے۔

حوالہ جات

المحيط البرهاني (7/ 453):

ولو استأجر الرجل ابنه للخدمة أو استأجرت المرأة ابنها للخدمة لم يجز، وإذا خدم فلا أجر له...وإن ‌كان ‌الابن ‌حرا ‌فاستأجره أحدهما ليرعى غنما له أو استأجره لعمل آخر وراء الخدمة، فإنه يجوز.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (4/ 435):

«‌وإن ‌كان ‌الابن ‌حرا ‌فاستأجر ‌أحد ‌الأبوين ليرعى غنما له أو استأجره لعمل آخر وراء الخدمة فإنه يجوز. كذا في الذخيرة.»

المبسوط للسرخسي (16/ 56):

«‌وإن ‌كان ‌أحدهما ‌استأجره ‌ليرعيه ‌غنما، أو يعمل غير الخدمة جاز فإن ذلك غير مستحق عليه ولا هو مطلوب في العرف.»

محمد طلحہ فلک شیر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

11 /ذوالقعدہ /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طلحہ ولد فلک شیر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب