03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مرحومہ کے ترکہ (فلیٹ کے حصہ) کی شرعی تقسیم اور کرایہ و فروخت کی رقم کا حکم
90295میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ایک شخص نے اپنی ریٹائرمنٹ کی رقم اور اپنی اہلیہ کو میراث میں ملنے والی رقم سے اسلام آباد میں ایک فلیٹ خریدا۔ خریداری کے وقت اس فلیٹ میں نصف (%50) حصہ شوہر کا اور نصف (%50) حصہ اہلیہ کا تھا۔اب اہلیہ کا انتقال ہو چکا ہے۔ مرحومہ کے ورثاء یہ ہیں: شوہر، ایک بیٹا اور 2 بیٹیاں دریافت طلب امور یہ ہیں کہ

١۔مرحومہ کے%50 حصے کو شرعی اصولوں کے مطابق ورثاء میں کس طرح تقسیم کیا جائے گا؟ ہر وارث کا کتنا حصہ بنے گا؟

۲۔اگر مذکورہ فلیٹ کو کرائے پر دے دیا جائے تو کرایہ کی رقم کس تناسب سے تقسیم ہو گی؟

 ۳۔اگر فلیٹ فروخت کر دیا جائے تو حاصل ہونے والی رقم کی تقسیم کس طرح ہو گی؟براہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

:1 مرحومہ کے ترکہ (یعنی فلیٹ کے 50% حصے) کی تقسیم شرعی اصول کے مطابق یوں ہوگی کہ چونکہ مرحومہ کی اولاد موجود ہے، اس لیے شوہر کو 4/1 (چوتھائی) حصہ ملے گا، جبکہ باقی 4/3 حصہ اولاد میں اس اصول پر تقسیم ہوگا کہ بیٹے کو دو بیٹیوں کے برابر حصہ دیا جائے گا (للذكر مثل حظ الأنثيين)، لہٰذا اگر اس%50 حصے کو 16 حصوں میں تقسیم کیا جائے تو شوہر کو 4 حصے، بیٹے کو 6 حصے، اور ہر بیٹی کو 3، 3 حصے ملیں گے۔

:2 اگر فلیٹ کو کرائے پر دے دیا جائے تو کرایہ کی رقم تمام شرکاء میں ان کی ملکیت کے تناسب سے تقسیم ہوگی، چنانچہ شوہر کا مجموعی حصہ (اپنا%50 + وراثتی %12.5) یعنی کل%62.5 بنے گا، بیٹے کا %18.75 اور ہر بیٹی کا %9.375 ہوگا، لہٰذا ماہانہ کرایہ اسی تناسب سے تقسیم کیا جائے گا۔

:3 اگر فلیٹ فروخت کر دیا جائے تو حاصل ہونے والی کل رقم بھی تمام ورثاء میں اسی شرح کے مطابق تقسیم ہوگی جس کے مطابق ان کی ملکیت قائم ہو چکی ہے، یعنی شوہر کو%62.5، بیٹے کو%18.75 اور ہر بیٹی کو %9.375 دیا جائے گا، البتہ ورثاء میں ترکہ تقسیم کرنے سے قبل کفن دفن کے متوسط اخراجات (بشرطیکہ کسی نے تبرعاً نہ کیے ہوں)، قرض کی ادائیگی (اگر ہو)، اور ثلث تک جائز وصیت (اگر کی ہو) کی تعمیل ضروری ہوگی۔

حوالہ جات

قال في كنز الدقائق :

يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ...

(ص:696, المكتبة الشاملة)

قال اللہ تعالی:

{ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ....... وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ [النساء: 11،12]

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

19/11/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب