03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شركت ملك سے حاصل شدہ آمدنی و منافع کا حکم
90779شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

سوال:مجھےاپنی شادی پر تقریباً پندرہ تولہ سے زائد سونا زیور کی صورت میں ملا۔ 2012 میں میرے سسر کو ایک دکان کے لیے رقم  درکار تھی ،انھوں نے مجھ سے زیور لے کر بیچ دیا اور مجھے کہا دکان کی آدھی ملکیت تمھاری ہے ،اور ہر ماہ 25000 روپے بطور خرچہ تمھیں دیا جائیگا۔ پھر دکان خرید کر آدھی میرے نام اور آدھی میری ساس صاحبہ کے نام کی گئی اور اس کے گواہ میرے کچھ سسرالی رشتہ دار بھی ہیں۔ 2020 میں میرے سسر صاحب نے آدھی دکان 56 لاکھ روپےکی فروخت کر دی اور ساری رقم میرے سسر صاحب کے استعمال میں رہی اور مجھے آج تک کچھ نہیں دیا گیا۔ اس کے بعد 2022 میں باقی آدھی دکان کرایہ پر دے دی گئی اور اس کا کرایہ بھی وصول کیا گیا اور مجھے ان تین سالوں تک اس کے کرایہ میں سے بھی کچھ نہیں دیا گیا۔ اب مارچ 2026 میں مجھے معلوم ہوا کہ باقی آدھی دکان بھی 80 لاکھ میں فروخت کر دی گئی ہے اور 10 لاکھ بیعانہ بھی وصول کر لیا گیا ہے اور میں اس انتظار میں رہی کہ شاید میرے ساس سسر مجھے دیں گے،لیکن انھوں نے مجھے خود نہیں بتایا ، بلکہ کافی دنوں بعد سسر سے پوچھا  تو مجھے بتایا گیا کہ جو تمھارا شرعی  حق بنتا ہے وہ تمھیں ملے گا۔ لہذا مجھے شریعت کی روشنی میں بتائیں کہ میرا کیا حق بنتا ہے؟

نوٹ:سسر صاحب نے سائلہ سے یہ کہہ کر زیور لیا تھا کہ اس کے بدلے تمھیں آدھی دکان کا مالک بنایا جائےگا (بطور قرض زیور نہیں لیا تھا)،نیز پھر سسر صاحب نےسائلہ کے زیور کی رقم اور کچھ قرضہ لے کر اپنی پھوپھی سے دکان لی تھی،جس کی آدھی ملکیت سائلہ کو دے دی تھی۔پھر جو آدھی دکان فروخت ہوئی تھی اس میں سائلہ اور ساس صاحبہ دونوں کےدستخط ہوئے تھے یعنی کل دکان کا آدھاحصہ فروخت ہوا،کسی ایک شریک  کا حصہ(نصف) فروخت نہیں ہوا تھا۔

✰✰✰✰ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب حامدا ومصلیا ومسلما

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعہ اسی طرح ہے جیسا کہ سوال میں مذکور ہے کہ سائلہ نے اپنا ذاتی سونا(جس کی وہ مالک تھی) سسر صاحب کوخریدی جانے والی دکان کی آدھی ملکیت کے بدلہ دیا تھا،کہ جس کے بعد سسر صاحب نے اس زیور کی کو بیچ کر حاصل ہونےوالی رقم اور مزید کچھ قرضہ ملا کر اپنی پھوپھی سے ایک دکان خریدی اور اس دکان کی نصف ملکیت سائلہ کو دے دی تھی(اور کاغذات میں بھی سائلہ نصف دکان کی مالک تھی)، جبکہ نصف ملکیت ساس صاحبہ کی تھی، تو سائلہ شرعاً اپنے طے شدہ حصہ کی مالک شمار ہوگی۔ لہٰذا دکان میں سائلہ کا جو حصہ ہے  ، اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم اور اس حصے سے حاصل ہونے والے منافع و کرایہ میں بھی سائلہ اپنے حصۂ ملکیت کے بقدر حق دار ہوگی۔ سوال میں مذکور وضاحت کے مطابق 2020ء میں دکان کا جو نصف حصہ 56 لاکھ روپے میں فروخت کیا گیا تھا، وہ صرف کسی ایک شریک کا حصہ فروخت نہیں ہوا تھا بلکہ پوری دکان کا نصف حصہ فروخت ہوا تھا اور اس فروخت پر سائلہ اور اس کی ساس دونوں کے دستخط بھی ہوئے تھے۔ لہٰذا فروخت شدہ نصف حصے کی قیمت میں سائلہ اپنے حصۂ ملکیت(نصف) کے تناسب سے حق دار ہوگی۔ اسی طرح 2022ء سے باقی ماندہ نصف دکان سے جو کرایہ وصول کیا جاتا رہا، اس میں بھی سائلہ اپنے حصۂ ملکیت کے بقدر مستحق ہے۔ نیز اگر اب باقی نصف دکان بھی فروخت کردی گئی ہے ،تو اس کی رقم میں بھی سائلہ اپنے حصۂ ملکیت کے مطابق حصہ لینے کی حق دار ہے۔ لہٰذا اگر دکان میں سائلہ کی ملکیت نصف (50 فیصد) تھی تو دکان کے فروخت شدہ دونوں حصوں کی مجموعی قیمت اور وصول شدہ کرایوں میں سے نصف حصہ سائلہ کا حق ہوگا، اور اگر ملکیت کا تناسب اس سے مختلف ثابت ہو تو اسی تناسب کے مطابق حق متعین کیا جائے گا۔ بہر صورت سائلہ کی ملکیت اور اس سے حاصل شدہ منافع (کرایہ )یا فروختی رقم کو اس کی اجازت کے بغیر اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں، بلکہ اس کا پوراحق شرعی ادا کرنا شرعاً لازم ہے۔ اس سوال جواب کو چیک کرلیجیے یا سوال کا درست جواب عنایت فرمادیجیے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں شریکین کے مشترک اموال سے خریدی گئی دکان میں ,ہر ایک کے سرمایہ کے بقدر دونوں کے درمیان " شرکتِ ملک " قائم ہوگئی ۔ لہٰذا شرکت کی اس مدت کے درمیان اس سے حاصل ہونے والی آمدنی( کرایہ وغیرہ ) اور فروختگی کے نتیجے میں حاصل ہونے والے نفع دونوںمیں    شریکین اپنے سرمایہ کے تناسب سےحق دار ہوں گے ۔ اس سے زیادہ کی شرط لغو ہوگی ۔ سوال میں مذکورہ جواب درست ہے ۔

حوالہ جات

«مجلة الأحكام العدلية» (ص206):

«(المادة 1073) تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم. فلذلك إذا شرط لأحد الشركاء حصة أكثر من حصته من لبن الحيوان المشترك أو نتاجه لا يصح.»

عبدالغفار بن غلام اکبر

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی 

٢/محرم الحرام/١٤٤٨

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالغفار بن غلام اکبر

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب