03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فتوی ٰتحریرکرنے کی اجرت لینا
90928اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

كیا فرماتے ہیں مفتیانِ كرام اس مسئلہ كے  متعلق  كہ بندہ ایك مدرسہ عربیہ میں مدرس ہونے كے ساتھ دارالافتاءمیں بھى خدمات سرانجام دیتا ہے۔ مشاہرہ كے سلسلہ میں حضرت مدیر صاحب كے سامنے دو صورتیں  پیش كیں: ”۱۔اگر بہتر سمجھیں  تو میری باقاعدہ تنخواہ  متعین کی جائے۔۲۔یادارالافتاء میں آنے والے وہ مستفتی جن کےاستفتاءات کا  میں  جواب تحریر کرتا ہوں، ان کی طرف سے فتویٰ کی  مد میں  مدرسہ کو دی جانے والی رقوم/فیس میں سے مناسب حصہ مثلاً:نصف میرے لیے مقرر فرما دیا جائے، تاکہ میں اطمینان اور یکسوئی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں بہتر طور پر انجام دے سکوں“۔چناچہ  مدیر صاحب نے دوسری صورت   مقرر کر دی  ہے ۔اب پوچھنا یہ ہے كہ كیا  صورت ثانیہ  شرعاً جائز ہے؟

تنقیح : سائل سے زبانی رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ" رقوم /فیس" مستفتی حضرات سے فتوی  حاصل کرنے  کی مد میں   لی  جاتی ہیں  نہ کہ  بطور  چندہ کے   ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

زبانی فتوی پر اجرت لینا جائز نہیں ،تاہم  فتوی تحریر کرکے  جواب دینے کی صورت میں دستاویزات تیار کرنےکی معروف اجرت  لینا جائز ہے ۔  لہذا  اگر جامعہ  نے یہ طے کررکھا ہے کہ تحریری جوابات پر ادائیگی ضروری ہوگی، تو یہ جائز ہے۔ پھر معاہدےکی روسے مستفتی حضرات سےوصول کی جانے والی رقوم کا نصف حصہ محّرر کودیا جائے ۔

یاد رہےکہ مفتی صاحب کو  اجرت "استفتاء"کے جواب  لکھنے پر دی جارہی ہے،  "فتویٰ " دینے پر نہیں ۔نیز مدرسہ   فتوی ٰکی دستاویزات تیار کرکے دینے کی وجہ  سےاجرت وصول کر رہاہے، نہ کے فتوی دینے پر ۔ اس بات کی تشہیر بھی ہونی چاہیے تاکہ کوئی شخص یہ نہ سمجھےکہ اس جامعہ  میں پیسے لے کر فتاویٰ دیے جاتے ہیں۔جامعہ کا وقار قائم رکھنا سب سے اہم چیز ہے ۔اس کے ساتھ دستاویزات کی اجرت میں کوئی حرج نہیں ۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (6/ 92):

 (يستحق القاضي الأجر على كتب الوثائق) والمحاضر والسجلات (قدر ما يجوز لغيره كالمفتي) فإنه يستحق أجر المثل على كتابة الفتوى؛ لأن الواجب عليه الجواب باللسان دون الكتابة بالبنان، ومع هذا الكف أولى احترازا عن القيل والقال وصيانة لماء الوجه عن الابتذال بزازية، وتمامه في قضاء الوهبانية .

خلاصۃ الفتاوی کتاب القضاء،:4/48

ویحل للمفتی اخذ الاجرۃعلی کتبۃ الجواب بقدرہ لأن کتبۃ الجواب لیس بواجب علیہ ولایحل لہ الفتیا حتی یکون صوابہ أکثر من خطایاہ.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (7/ 297):

وشرطها أن تكون الأجرة والمنفعة معلومتين لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة وحكمها وقوع الملك في البدلين ساعة فساعة وهي مشروعة بالكتاب وهو قوله تعالى {فإن أرضعن لكم فآتوهن أجورهن} [الطلاق: 6] وغيره والسنة حديث البخاري )ورجل استأجر أجيرا فاستوفى منه ولم يعطه أجره( والإجماع.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع :(6/18

وأما الذي يرجع إلى ما يقابل المعقود عليه وهو الأجرة والأجرة في الإجارات معتبرة بالثمن في البياعات لأن كل واحد من العقدين معاوضة المال بالمال فما يصلح ثمنا في البياعات يصلح أجرة في الإجارات وما لا فلا وهو أن تكون الأجرة مالا متقوما معلوما وغير ذلك مما ذكرناه في كتاب البيوع.والأصل في شرط العلم بالأجرة قول النبي صلى الله عليه وسلم (من استأجر أجيرا فليعلمه أجره) والعلم بالأجرة لا يحصل إلا بالإشارة والتعيين أو بالبيان.

حنبل اکرم

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

  06 / محرم الحرام  /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب