03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر حافظ امام کو معزول کرنا
90929نماز کا بیانامامت اور جماعت کے احکام

سوال

گاؤں میں تین بھائیوں نے ایک زمین  مشترکہ طور پر  مسجد کے لیےاللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر وقف کی تھی۔ واقفین نے مسجد کی تعمیر بھی اپنی نگرانی میں کروائی ۔اس کے بعد واقفین نے علاقے کے ایک شخص کو امام مقرر کیا، جو کئی سال سے اس مسجد میں امامت کرتا رہا ۔ لیکن کچھ عرصہ سے محلے کے اکثر لوگ اس امام کی امامت پر راضی نہیں تھے۔ وجہ یہ تھی  کہ یہ  امام تبلیغی حضرات کا بہت بڑا مخالف ہے ۔دوسری یہ کہ فرقہ واریت  پھیلاتا ہے۔ تیسری یہ کہ نہ حافظ قرآن ہے نہ کسی مدرسہ سے فارغ التحصیل ہے ،بلکہ ایک سرکاری ملازم ہے۔ جس کی وجہ سے بہت سے افراد  دوسری مساجد میں نماز ادا کرنے جاتے ہیں، بلکہ بعض لوگ مسجد میں حاضر نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں نماز پڑھتے ہیں۔ اس مسئلہ کے حل کے لیے تقریباًدو سو افراد جن میں علماء کرام بھی ہیں ، متعدد مرتبہ  واقفین کے گھر حاضر ہوئے اور انہوں نے باقاعدہ دستخط اور شناختی کارڈ کی نقول دے کر اس امام کی امامت پر اپنی عدمِ رضامندی ظاہر کی، نیز عند الضرورت گواہی دینے کے لیے حاضر ہونے کی بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ واقفین میں سے ایک  کا بیٹا عالمِ دین بن چکا ہے۔ واقفین اور ان کے ورثہ، علاقے کے علماء کرام کے مشورے سے مسجد کے انتظام اور نمازیوں کے اتفاق  کی خاطر اپنے اسی عالمِ دین کو مسجد کا امام مقرر کرنا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہےکہ کیا شرعاً واقفین یا ان کے ورثہ کو یہ حق حاصل ہے کہ موجودامام کو تبدیل کرکے دوسرے شخص کو امام مقرر کریں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ بالا صورت حال میں واقفینِ مسجد موجودہ امام صاحب کو معزول کرنا چاہیں ،تو وہ ایسا  کرسکتے ہیں ۔اس کی جگہ کسی دیانت دار اور دیندار عالم کو امام  مقرر کرنا چاہیے۔تاہم معزول کرنے کی  صورت میں بھی سابقہ امام کو   عرف کے مطابق  ایک سے دوماہ کی تنخواہ  دی جائے ،تاکہ انہیں اگلی جگہ منتقلی  میں حرج نہ ہو ۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي( (1/ 558):

وفی الدر المختار  (فإن استووا يقرع) بين المستويين (أو الخيار إلى القوم) فإن اختلفوا اعتبر أكثرهم؛ ولو قدموا غير الأولى أساءوا بلا إثم. وفی رد المحتار علی الدر المختار (قوله اعتبر أكثرهم) لا يظهر هذا إلا في المنصب، وإلا فكل يصلي خلف من يختاره ط لكن فيه تكرار الجماعة وقد مر ما فيه.(قوله أساءوا بلا إثم) قال في التتارخانية: ولو أن رجلين في الفقه والصلاح سواء إلا أن أحدهما أقرأ فقدم القوم الآخر فقد أساءوا وتركوا السنة ولكن لا يأثمون، لأنهم قدموا رجلا صالحا.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (1/ 557):

 (قوله تقديما) أي على من حضر معه (قوله بل نصبا) أي للإمام الراتب (قوله بأحكام الصلاة فقط) أي وإن كان غير متبحر في بقية العلوم، وهو أولى من المتبحر، كذا في زاد الفقير عن شرح الإرشاد (قوله بشرط اجتنابه إلخ) كذا في الدراية عن المجتبى. وعبارة الكافي وغيره: الأعلم بالسنة أولى، إلا أن يطعن عليه في دينه لأن الناس لا يرغبون في الاقتداء به (قوله قدر فرض) أخذه تبعا للبحر من قول الكافي قدر ما تجوز به الصلاة، بناء على أن تجوز بمعنى تصح لا بمعنى تحل.

المبسوط للسرخسي (1/ 41):

والأصح أن الأعلم بالسنة إذا كان يعلم من القرآن مقدار ما تجوز به الصلاة فهو أولى؛ لأن القراءة يحتاج إليها في ركن واحد والعلم يحتاج إليه في جميع الصلاة والخطأ المفسد للصلاة في القراءة لا يعرف إلا بالعلم، وإنما قدم الأقرأ في الحديث؛ لأنهم كانوا في ذلك الوقت يتعلمون القرآن بأحكامه على ما روي أن عمر - رضي الله تعالى عنه - حفظ سورة البقرة في ثنتي عشرة سنة، فالأقرأ منهم يكون أعلم، فأما في زماننا فقد يكون الرجل ماهرا في القرآن ولا حظ له في العلم فالأعلم بالسنة أولى إلا أن يكون ممن يطعن عليه في دينه فحينئذ لا يقدم؛ لأن الناس لا يرغبون في الاقتداء به.

حنبل اکرم

  دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

 7 /محرم الحرام /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب