03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غصے کی حالت میں تین طلاقیں دینے کا حکم
90815طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

اگر شوہر شدید غصے میں تین بار کہہ دے کہ میں نے تجھے طلاق دی، تو کیا طلاق ہو جاتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ غصے کی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے، اور عموماً طلاق غصے ہی کی حالت میں دی جاتی ہے۔ نیز ایک ساتھ تین طلاقیں دینا خلافِ سنت ہے، اور ایسا کرنے والا سخت گناہ گار ہوتا ہے؛ لہٰذا اسے صدقِ دل سے توبہ و استغفار کرنا چاہیے۔تاہم اگر کوئی ایساکرے تو تینوں طلاقیں واقع  ہوجاتی ہیں ۔

البتہ شدید غصے کی حالت کی درج ذیل تفصیل ہے:

اگر غصہ یا ذہنی دباؤ اس قدر غالب ہو جائے کہ آدمی کا دماغ ماؤف ہو جائے اور طلاق دینے والے کو اپنے کہے ہوئے الفاظ کا شعور نہ رہے، یعنی طلاق کے الفاظ کہتے وقت وہ غصے کی وجہ سے اس درجے حواس باختہ ہو چکا ہو کہ اسے یہ تمیز نہ رہے کہ اس کے منہ سے کیا الفاظ نکل رہے ہیں یا ان الفاظ کا کیا معنی و مطلب ہے؟اگر شوہر کی یہ جنونی کیفیت پہلے سے لوگوں میں معروف ہو اور وہ حلفاً بیان دے کہ طلاق کے الفاظ کہتے وقت اس پر یہ جنونی کیفیت طاری تھی، تو بھی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

اسی طرح اگر موقع پر موجود لوگوں میں سے کم از کم دو معتبر افراد، طلاق کے وقت شوہر کی کیفیت و حرکات کو دیکھتے ہوئے، اس بات کی گواہی دیں کہ شوہر کا غصہ واقعی اس قدر شدید تھا کہ اس کی عقل مغلوب ہو گئی تھی، اس کا اپنے اوپر قابو ختم ہو گیا تھا، وہ حواس باختہ ہو چکا تھا اور زبان پر مکمل کنٹرول نہ ہونے کی حالت میں اس نے طلاق کے الفاظ کہے تھے، تو اس صورت میں بھی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

لیکن اگر غصے کے وقت اس کی یہ کیفیت لوگوں میں معروف نہ ہو اور نہ ہی اس کے پاس اس پر کوئی گواہ موجود ہوں، تو ایسی حالت میں دی گئی طلاقیں واقع ہوں گی۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں، اگر شوہر نے غصے کی حالت میں تین مرتبہ صریح الفاظِ طلاق کہے ہیں،اور مذکورہ بالا  جنونی کیفیت نہیں پائی جاتی  تو بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو  گئیں اور حرمتِ مغلظہ ثابت ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں نکاح ختم ہو چکا ، چنانچہ شوہر کا بیوی کے ساتھ کسی بھی قسم کا ازدواجی تعلق حرام ہوگا۔ اب نہ رجوع کی کوئی صورت باقی ہے  اور نہ تجدیدِ نکاح کی۔

حوالہ جات

رد المحتار(3/ 244):

قال العلامة ابن عابدين  رحمه الله : وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اهـ. ملخصا من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع الطلاق من غضب خلافا لابن القيم اهـ ،وهذا الموافق عندنا؛ لما مر في المدهوش...    وصرح  في الفتح والخانية وغيرهما، وهو: لو طلق فشهد عنده اثنان أنك استثنيت وهو غير ذاكر، وإن كان بحيث إذا غضب لا يدري ما يقول ، وسعه الأخذ بشهادتهما، وإلا لا ،  مقتضاه أنه إذا كان لا يدري ما يقول ، يقع طلاقه ..  ثم رأيت ما يؤيد ذلك الجواب، وهو أنه قال في الولوالجية: إن كان بحال لو غضب يجري على لسانه ما لا يحفظه بعده جاز له الاعتماد على قول الشاهدين.

(الفتاوى الهندية 1/ 473 (:

"وَإِنْ كَانَ الطَّلَاقُ ثَلَاثًا فِي الْحُرَّةِ وَثِنْتَيْنِ فِي الْأَمَةِ لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ نِكَاحًا صَحِيحًا وَيَدْخُلَ بِهَا ثُمَّ يُطَلِّقَهَا أَوْ يَمُوتَ عَنْهَا، كَذَا فِي الْهِدَايَةِ".

الدر المختار مع رد المحتار3/ 641):

قال العلامة الحصكفي رحمه الله :   (ويقع طلاق) ... (ولو عبدا)... (أو مخطئا) بأن أراد التكلم بغير الطلاق، فجرى على لسانه الطلاق، أو تلفظ به غير عالم بمعناه أو غافلا أو ساهيا.

محمد عمران 

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

08 /محرم الحرام /8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد عمران بن عبد المطہر خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب