03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وکیلِ قربانی کے لیے مارکیٹ ریٹ پر جانور دینے اورزائد رقم کا شرعی حکم
91223قربانی کا بیانغیرکی طر ف سے قربانی کرنے کے مسائل

سوال

ہمارا ایک فلاحی ادارہ ہے۔ لوگ قربانی کے لیے رقم دیتے ہیں۔ ہم پہلے سے جانور خرید کے رکھتے ہیں۔عید کے دو تین دن پہلے جو مارکیٹ ریٹ ہے کیا ہم اپنے خریدے ہوئے جانور مارکیٹ ریٹ پر قربان کر سکتے ہیں۔ مثال :ہمیں دس جانور قربانی کے لیے ایک لاکھ کے حساب سے ملے ہیں۔ ہم نے بارہ جانور خریدے تھے اسی ہزار کے حساب سے۔دس کے بجائے ہم نے بارہ جانور قربان کیے ۔ اور خرچہ بھی اپنا کیا۔تو کیا ہمیں صرف دس جانور قربان کرنے تھے یا دس لاکھ میں جتنے جانور آسکتے وہ قربان کرنے تھے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

فلاحی ادارہ بالعموم قربانی کرنے والوں کا وکیل ہوتا ہے، اس لیے وہ پہلے سے خریدے ہوئے جانوروں کی اصل قیمت اور حقیقی اخراجات ہی وصول کرنے کے مجاز ہے۔ تاہم ، اگر مؤکلین کو بتادیا جائے کہ یہ جانور ہم آپ کو اتنے کا بیچ رہے ہیں، توایسی صورت میں طے شدہ قیمت پر بیچنا اور ادارے میں نفع جمع کروانا درست ہوجائے گا۔اس صورت ادارہ فقط قربانی کرنے کا وکیل ہوگا۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع(68/5)

(ومنها) أنه تجزئ فيها النيابة فيجوز للإنسان أن يضحي بنفسه و بغيره بإذنه؛ لأنها قربة تتعلق بالمال فتجزئ فيها النيابة كأداء الزكاة وصدقة الفطر؛ ولأن كل أحد لايقدر على مباشرة الذبح بنفسه خصوصًا النساء، فلو لم تجز الاستنابة لأدى إلى الحرج.

ردالمحتار(288/8)

(وإن) بشراء شئ (بغير عينه فالشراء للوكيل إلا إذا نواه للموكل) وقت الشراء (أو شراه بماله) أي بمال الموكل. (قوله فالشراء للوكيل) المسألة على وجه كما في البحر.وحاصلها أنه إن أضاف العقد إلى مال أحدهما كان المشترى له، ومن أضافه إلى مال مطلق فإن نواه للآمر فهو له وإن نواه لنفسه فهو له....

ظہوراحمد

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

16 محرم الحرام 1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ظہوراحمد ولد خیرداد خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب