03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
"تم میری طرف سے آزاد ہو ” کے ذریعے طلاق کا حکم
91231طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

میاں بیوی میں لڑائی ہوئی اور بیوی کو طلاق کے لفظ کے بغیر شوہر نے کہا کہ "تم میری طرف سے آزاد ہو اب تم پر میری کوئی ذمہ داری نہیں ہے "  اس کے بعد  اسی رات  شوہر نے بیوی سے موبائل  مانگا تو بیوی نے نہیں دیا  تو شوہر نے کہا  اگر تم نے مجھے موبائل نہیں دیا تو تم   آزاد ہو  اس کے بعد بیوی نے اس کو موبائل نہیں دیا   ۔پھر  ایک دو دن بعد بیوی نے شوہر سے پوچھا کہ تم آزاد ہو کیا اس سے آپ کا مطلب طلاق ہے شوہر نے کہا ہاں اور کہا کہ تمہیں دو بار ہو گئی ہے یہ واقعہ 13 مئی 2024 سے 14 مئی 2024 کے درمیان پیش آیا میاں بیوی کے  در میان  در ینہ تنازعہ کی وجہ سے بیوی نے اپنے شوہر سے آٹھ ماہ سے جسمانی تعلقات منقطع کر رکھا تھا  کسی موقع پر شوہر نے  یہ بھی کہا  تھا کہ اگر  تم  نے مجھے فلاں تاریخ  تک  جسمانی  تعلقات  کا میرا حق نہیں دیا  تو پھر تمہیں  تیسری بھی ہو جائے گی شوہر نے یہ کب کہا بیوی کو صحیح تاریخ یاد نہیں اس پورے واقعے کے بعد بیوی کچھ سوالوں کے جواب جاننا چاہتی ہے کیا یہ طلاق بائن ہے اور نکاح ٹوٹ گیا ہے کیونکہ شوہر کے نارواسلوک کی وجہ سے بیوی اس نکاح میں مزید نہیں رہنا چاہتی تو کیا بیوی عدت پوری کرنے کے بعد کسی اور سے نکاح کر سکتی ہے۔

تنقیح:سائل کی طرف سے فراہم کردہ  شوہر کے نمبر 03333065148پر رابطہ کر کے زبانی پوچھنے پر اس نے بتایا کہ  اس جملہ کو بولنے کے وقت اس کی نیت طلاق کی تھی ۔اور دوسری دفعہ  ایک مقررہ وقت تک موبائل نہ دینے پر طلاق کو معلق کیا تھا  کہ فلاں وقت تک موبائل نہ دیا تومیری  طرف سے  ا ٓپ آزاد ہو ۔اور10دن کے بعد تیسری طلاق کو    جسمانی تعلق  قائم نہ کرنے پر   معلق کیا تھا۔ان طلاقوں سے  پہلے میاں بیوی کے  درمیان  آٹھ مہینوں  سے  جسمانی تعلق  منقطع تھا ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

"تم میری طرف سے آزاد ہو " کہنے  سے کیونکہ شوہر کی نیت طلاق دینے کی تھی  تواس سے  بیوی کو ایک طلاق بائن واقع ہو گئی تھی ۔ اس کے بعدجب  شوہرنے  دوسری   طلاق کو  اس وقت موبائل نہ دینے پر  معلق کیا تھا  اور بیوی نے موبائل نہیں دیا  تو اس وجہ سے  دوسری طلاق بھی  واقع ہوگئی ،کیونکہ اس نے دوسری   دفعہ الگ طلاق کی نیت کی ہے لہٰذا   دوسری طلاق کو  پہلی کی خبر پر محمول نہیں کرسکتے  تو اس کو مستقل طلاق شمار کریں گے  ، اس کے بعد عدت کے  اندر ہی تیسری طلاق کو جسمانی تعلق قائم  نہ کرنے پر معلق کیا  جس کے بعد  جسمانی تعلق قائم نہ ہونے کی وجہ سے  تیسری طلاق بھی واقع ہوگئی۔کیونکہ یہ  صریح  طلاق تھی جوکہ بائن کو لاحق ہوجاتی ہے ،لہٰذا اب بیوی  تین طلاقوں  کے ساتھ  شوہر پر حرام ہوگئی ہے  رجوع یا تجدید نکاح ممکن نہ رہا ۔عدت کے بعد عورت کہیں بھی نکاح کرسکتی ہے ۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 246):

(قوله ويقع الطلاق إلخ) يعني إذا قال لامرأته: أعتقتك تطلق إذا نوى أو دل عليه الحال.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية(1/ 374):

الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية ۔۔۔۔۔۔۔

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 308):

(لا) يلحق البائن (البائن)إذا أمكن جعله إخبارا عن الأول:كأنت بائن بائن، أو أبنتك بتطليقة فلا يقع لأنه إخبار فلا ضرورة في جعله إنشاء، بخلاف أبنتك بأخرى أو أنت طالق بائن، أو قال نويت البينونة الكبرى لتعذر حمله على الإخبار فيجعل إنشاء، ولذا وقع المعلق كما قال (إلا إذا كان) البائن (معلقا بشرط) أو مضافا (قبل) إيجاد (المنجز البائن) كقوله: إن دخلت الدار فأنت بائن ناويا ثم أبانها ثم دخلت بانت بأخرى لأنه لا يصلح إخبارا،كأنت بائن بائن، أو أبنتك بتطليقة فلا يقع لأنه إخبار فلا ضرورة في جعله إنشاء، بخلاف أبنتك بأخرى أو أنت طالق بائن، أو قال نويت البينونة الكبرى لتعذر حمله على الإخبار فيجعل إنشاء، ولذا وقع المعلق كما قال (إلا إذا كان) البائن (معلقا بشرط) أو مضافا (قبل) إيجاد (المنجز البائن) كقوله: إن دخلت الدار فأنت بائن ناويا ثم أبانها ثم دخلت بانت بأخرى لأنه لا يصلح إخبارا، ومثله المضاف كأنت بائن غدا ثم أبانها ثم جاء الغد يقع أخرى.

 حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 306):

الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح

فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي» (4/ 74):

واعلم أن الصريح يلحق الصريح والبائن عندنا، والبائن يلحق الصريح لا البائن إلا إذا كان معلقا.

وسیم اکرم بن  محمد ایوب  

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

 25/محرم الحرام   /1448 ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

وسیم اکرم بن محمد ایوب

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب