03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پاز (POS)مشین کے ذریعےڈیبٹ کارڈ سوائپ کرنے کے عوض کمیشن یا اجرت وغیرہ وصول کرنے کا حکم
91351سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

پی او ایس (POS) ایک ایسی مشین ہے جو بینک عام طور پر تاجروں یا دکانداروں کو فراہم کرتا ہے۔ اس کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ دکاندار گاہک (کسٹمر) سے خریداری کی رقم اس مشین کے ذریعے وصول کرے اور وہ رقم دکاندار کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل (ٹرانسفر) ہو جائے۔

لیکن اگر کوئی دکاندار ایسا کرے کہ گاہک کا کارڈ سوائپ کرنے کے بعد، اسے سامان دینے کے بجائے نقد رقم دے دے؛ مثال کے طور پر گاہک نے مشین کے ذریعے اپنے ڈیبٹ کارڈ سے 5000روپے دکاندار کو منتقل کیے۔ اب دکاندار اس رقم میں سے4800 روپے گاہک کو نقد دے دیتا ہے، جب کہ بینک اپنے سروس چارجز کی مد میں 100روپے کاٹتا ہے اور دکاندار گاہک سے 100 روپے اپنا کمیشن (منافع) کاٹ لیتا ہے۔

چونکہ بینک یہ رقم اپنی خدمات کے عوض وصول کرتا ہے، اس لیے اس کی حد تک تو کوئی شبہ نہیں رہتا، البتہ دکاندار کے لیے گاہک سے یہ اضافی رقم (کمیشن) وصول کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ بینکوں کی طرف سے دکانداروں کو فراہم کی جانے والی پی او ایس (POS) مشین کا اصل مقصد اور معاہدہ صرف اشیاء یا خدمات (Goods & Services) کی خرید و فروخت کے لیے رقم کی ادائیگی ہے۔ اس مشین کے ذریعے گاہک (Customer) کو اپنے اکاؤنٹ سے ادائیگی کرنے کی سہولت ملتی ہے اور دکاندار کی سیلز (بکری) بڑھ جاتی ہے۔ چنانچہ بینک ان خدمات (مثلاً مشین کی فراہمی، اس کی دیکھ بھال، اور اس میں استعمال ہونے والے کاغذات کی فراہمی وغیرہ) کے عوض دکاندار سے معمولی چارجز کاٹتا ہے۔

لہذا دکاندار کے لیے  جس میں گاہک نے باقاعدہ  کوئی چیز خریدی اور عوض کارڈ کے ذریعے ادا کیا ،ایسی صورت میں متعین عوض اور بینک کی فیس کے بقدر رقم لینا  جائز ہوگا، لیکن اس سے زیادہ نہیں۔

جس صورت میں گاہک کوئی چیز باقاعدہ نہیں خریدتا بلکہ اسے نقد رقم کی ضرورت ہے اور دکانداراس کا کارڈ مشین میں سوائپ کرکے اسے نقد رقم دے دیتاہے،اولاً تو ایسا کرنا جائز نہیں ہے کیوں کہ یہ دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے ،کیونکہ مشین کا اصل مقصد اور معاہدہ صرف اشیاء یا خدمات (Goods & Services) کی خرید و فروخت کے لیے رقم کی ادائیگی ہے،نہ کہ نقد پیسے دینا ، ل، لہٰذا اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔البتہ  پھر بھی اگر  ایسا کرلیا جائےتب بھی دکاندار کی طرف سے  بلا وجہ و بلا سروس  اضافی رقم لینے کی وجہ سے یہ اکل بالباطل ہوگا۔البتہ جو رقم بنک نے کاٹی ہے صرف اتنی لے  سکتا ہے، اس سے زیادہ نہیں۔

حوالہ جات

"فقہ البیوع " (1/ 459):

ولکن الذی یظھر لی واللہ سبحانہ وتعالی أعلم أن العملیة فی بطاقة الحسم الآجل عملیة الحوالة،فإن کان لحامل البطاقة حساب فی البنک المصدر بقدر فاتورة التاجر،فإنة حوالة مقیدة تجوز عند جمیع الفقھاء وإن لم یکن لہ حساب فی البنک المصدر فإنہ حوالة مطلقة والحوالة المطلقة وإن کان فیھا خلاف الأئمة الآخرین فإنھا جائزة عند الحنفیة وحامل البطاقة وجب علیہ دین للتاجر وإنہ أحال التاجر علی البنک المصدر  للبطاقة فصار ھو محیلا والتاجر محالا ومصدر البطاقة محالا علیہ وتمت الحوالة علی قول الحنفیة برضاالأطراف الثلاثة...

وبعد تعیین ھذہ العلاقة بین المصدر والتاجر ینبغی أن تراعی النقاط الآتیة:

الأولی: أن ھذا الدین الذی وجب علی المصدر دین حال ولیس مؤجلا فلو حسم منہ شیئا برضا التاجر الدائن فإنہ لیس حسما مقابل تخفیض الأجل ولا داخلا فی ضع وتعجل...

النقطة الثانیة :أن مصدرالبطاقة أو وکیلہ یزود التاجر بالماکینة التی تتم بہ عملیة قبول البطاقة وھی بذاتھا لھا قیمة وتکون مع التاجر مملوکة للمصدر یستخدمھا التاجر لصالحہ ویقوم المصدر بصیانة ھذہ الماکینة دوریّاً ویحق لہ أخذ الأجرة علی ذلک.

الثالثة:أن مصدر البطاقة یوفر للتاجر الأوراق التی تطبع علیھا الفاتورة ویوقع علیھا العمیل وتکون نسخة منھا مع حامل البطاقة ونسخة أخری مع التاجر التی یطالب بھا مصدر البطاقة أو وکیلہ بمبلغ الفاتورة.

النقطة الرابعة:أن مصدر البطاقة یزود التاجر بالتعلیمات والإجراءٰت المطلوب اتباعھا عند ما یتقدم حامل البطاقة لشراء بضاعة منہ....

(شرح القواعد الفقهية، 1/55،)

العبرة في العقود للمقاصد والمعاني لا للألفاظ والمباني۔۔۔ والمراد بالمقاصد والمعاني: ما يشمل المقاصد التي تعينها القرائن اللفظية التي توجد في عقد فتكسبه حكم عقد آخر كما سيأتي قريبا في انعقاد الكفالة بلفظ الحوالة، وانعقاد الحوالة بلفظ الكفالة، إذا اشترط فيها براءة المديون عن المطالبة، أو عدم براءته.

وما يشمل المقاصد العرفية المرادة للناس في اصطلاح تخاطبهم، فإنها معتبرة في تعيين جهة العقود، فقد صرح الفقهاء بأنه يحمل كلام كل إنسان على لغته وعرفه وإن خالفت لغة الشرع وعرفه: (ر: رد المحتار، من الوقف عند الكلام على قولهم: وشرط الواقف كنص الشارع).

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 166)

(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به .

  محمد عمران 

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

  28/محرم الحرام /8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد عمران بن عبد المطہر خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب