| 91294 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
میں حبیب میٹرو بینک کے صراط اکاؤنٹ کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں، اس میں منافع کیسے دیا جاتا ہے اور کیا یہ شرعی طور پر جائز ہے؟” اس میں سیونگ اکاؤنٹ کھولنے کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حبیب میٹروپولیٹن بینک کا اسلامک بینکنگ برانڈ "صراط" اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منظور شدہ قوانین اور اپنے مستند شریعہ بورڈ کی زیرِ نگرانی کام کرتا ہے، جس کے چیئرمین معروف عالمِ دین مفتی محمد نجیب خان صاحب اور ممبر مفتی خواجہ نور الحسن صاحب ہیں۔
کسی بھی روایتی بینک کی اسلامک ونڈو یا خالص اسلامی بینک کے سیونگ اکاؤنٹس بنیادی طور پر "مضاربت" یا "مشارکت" کے شرعی اصولوں کے تحت کام کرتے ہیں، جن میں کاروبار کے نفع اور نقصان میں بینک اور کسٹمر دونوں شریک ہوتے ہیں۔
عصرِ حاضر کے جید علمائے کرام اور مستند دار الافتاء (بشمول جامعہ دارالعلوم کراچی اور جامعۃ الرشید کے مفتیانِ عظام) کے فتاویٰ کے مطابق، پاکستان میں کام کرنے والے وہ اسلامی بینک یا روایتی بینکوں کی اسلامک ونڈوز جن کا نظام ایک آزاد، فعال اور بااختیار شریعہ بورڈ کی نگرانی میں چل رہا ہو، ان میں بچت یا سرمایہ کاری (انوسٹمنٹ) اکاؤنٹس کھولنے کی شرعی گنجائش موجود ہے۔
چنانچہ حبیب میٹرو "صراط" کا سیونگ اکاؤنٹ بھی چونکہ مضاربت کے اصول پر مبنی ہے اور اس میں حاصل ہونے والے منافع کی تقسیم شریعہ بورڈ کی منظور شدہ شرائط کے مطابق کی جاتی ہے، اس لیے اس میں سیونگ اکاؤنٹ کھولنا اور اس کا منافع استعمال کرنا شرعاً جائز اور حلال ہے۔ کسٹمرز روایتی سودی اکاؤنٹس کے متبادل کے طور پر اس اکاؤنٹ کو استعمال کر سکتے ہیں۔
حوالہ جات
بحوث في قضايا فقهية معاصرة (ص: 363)
أما الأموال المودعة في المصارف الإسلامية، فإن ما أودع في حساباتها الجارية، فإنه ينطبق عليه ما ذكرنا في الحسابات الجارية للبنوك التقليدية سواء بسواء، فهي قروض قدمها أصحابها إلى البنك، وهي مضمونة عليه، وتجري عليها جميع أحكام القرض: ولكن يختلف تكييف الودائع الثابتة وحسابات التوفير في البنوك الإسلامية من تكييفها في البنوك التقليدية، فإن هذه الودائع قروض أيضا في البنوك التقليدية قدمت إليها على أساس الفائدة الربوية، ولكن البنوك الإسلامية لا تعمل على أساس الفائدة الربوية، بل إنما تقبل هذه الودائع على أن يشاركها أصحابها في ربحها إن كان هناك ربح، فليست هذه الودائع في البنوك الإسلامية قروضا، وإنما هي رأس مال في المضاربة، وإنها تستحق حصة مشاعة من ربح البنك، وتحتمل حصة مشاعة من الخسران إن كان هناك خسران، وليست مضمونة على البنك، فلا يضمن البنك أصلها ولا ربحها، إلا إذا حصل هناك تعد من قبل البنك، فإنه يضمن بقدر التعدي.
محمد عمران
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
29/محرم الحرام /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمران بن عبد المطہر خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


