03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کسی کی دوسری بیوی بننے میں والدین کا انکار
91754نکاح کا بیانولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان

سوال

    براہ کرم ایک نکاح کے شرعی مسئلے اور اس میں شامل تمام فریقین کے حقوق و فرائض کے بارے میں دینی رہنمائی فرمائیں۔ صورتِ معاملہ:

    ۱۔ لڑکے کا موقف (شوہر): ایک مسلمان مرد جو پہلے سے شادی شدہ ہیں اور ان کے دو بچوں کی ذمہ داری ہے۔ وہ حلال طریقے سے دوسرا نکاح کرنا چاہتے ہیں اور دونوں گھرانوں کے درمیان اپنی پوری طاقت کے مطابق عدل (انصاف) اور نفقہ (بنیادی خرچہ) پورا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

     ۲۔  پہلی بیوی کی رضامندی: پہلی بیوی ابتدائی ہچکچاہٹ کے بعد اب اس دوسری شادی سے پوری طرح آگاہ ہیں اور ان کی رضامندی شامل ہے۔

     ۳۔ لڑکی کا موقف: لڑکی ایک ۲۲ سالہ غیر شادی شدہ (کنواری) مسلمان خاتون ہیں (جو فی الحال یورپ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہیں)۔ وہ اپنی مرضی، رضامندی اور خوشی سے اس مرد سے نکاح کرنا چاہتی ہیں۔

     ۴۔ اصل مسئلہ (والدین کا انکار): لڑکی کے والدین (ماں باپ) اس رشتے کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کا اعتراض دینی نہیں بلکہ محض رسمی اور سماجی (معاشرتی) ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ان کی نوجوان اور تعلیم یافتہ بیٹی کا کسی پہلے سے شادی شدہ مرد کی دوسری بیوی بننا معاشرتی طور پر عیب اور ناقابلِ قبول ہے۔ وہ صرف مرد کے پہلے سے صاحبِ اولاد ہونے کی وجہ سے اپنا ولی (سرپرست) بننے اور اجازت دینے سے انکار کر رہے ہیں۔

     علماءِ کرام سے شرعی سوالات:

     ۱. شرعی حکم اور دوسری شادی: کیا شریعتِ اسلامیہ میں ان مخصوص شرائط کے تحت (جہاں دونوں خواتین متفق ہوں اور مرد انصاف کا ارادہ رکھتا ہو) دوسری شادی کرنا بالکل جائز اور صحیح ہے؟

     ۲. والدین / ولی کے انکار کی شرعی حیثیت: کیا صرف سماجی روایت یا مرد کے پہلے سے شادی شدہ ہونے کی بنیاد پر والدین کا بیٹی کی پسند کو رد کرنا شریعت میں ایک جائز  وجہ مانی جاتی ہے؟

     ۳. بیٹی کے حقوق بمقابلہ والدین کی اطاعت: اس طرح کی صورتِ حال میں لڑکی کا اپنی پسند سے شادی کرنے کا حق اور والدین کی اطاعت کی شرعی حدود کیا ہیں؟

     ۴. مسئلے کا شرعی حل: ایسی صورتِ حال میں رشتہ داری اور تعلقات (صلہ رحمی) کو توڑے بغیر اور شرعی اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اس تعطل (Deadlock) کو  با عزت طریقے سے حل کرنے کے لیے کیا اصلاحی مشورہ ہے؟

     آپ کے وقت، رہنمائی اور شرعی جواب کا بے حد شکریہ۔ جزاکم اللہ خیراً

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح صرف میاں بیوی کے درمیان تعلق کا نام نہیں بلکہ اس میں دو خاندانوں  کا آپس میں  تعلق ہوتا  ہے۔ اگر صرف لڑکا اور لڑکی  راضی ہیں اور والدین راضی نہیں ، تو   آئندہ چل کر بہت سے مسائل جنم لے سکتے ہیں ۔ تاہم آپ  کے سوال کا جواب یہ ہے کہ    اگر مذکورہ شخص دوسری شادی کی استطاعت رکھتا ہو، اور دوسری شادی کے بعد دونوں بیویوں کے حقوق عدل و انصاف اور برابری کے ساتھ خوش اسلوبی سے ادا کر نے میں سنجیدہ ہو، تو اس کے لیے دوسری شادی کرنا جائز ہے۔ 

اگر کوئی اور موانع نہیں ہیں تو  صرف دوسری شادی کو معیوب سمجھ کر انکار کرنا شرعی تعلیمات کے خلاف  ہے۔ والدین کو ایسی صورت میں اجازت دے دینی چاہیے۔

نکاح کے معاملے میں شریعت نے والدین اور اولاد  دونوں کو حکم دیا ہے کہ ایک دوسرے کی پسند کی رعایت کریں۔ والدین کو چاہیے کہ اپنی بیٹی کا نکاح کسی ایسی جگہ نہ کروائیں جہاں وہ راضی نہ ہو ۔ اسی طرح بیٹی کو بھی ایسی جگہ نکاح کرنے پر اصرار نہیں کرنا چاہیے جہاں والدین راضی نہ ہوں۔ لہٰذا بیٹی کو چاہیے کہ اس معاملے میں اپنے والدین کو ادب و احترام کے ساتھ سمجھاتی رہے، بے ادبی اور گستاخی سے اجتناب کرے، اور انہیں اعتماد میں لینے کی کوشش کرے۔ اگر  والدین نہیں مانتے اور ان صاحب سے اچھا رشتہ میسر ہے تو بیٹی کو اس رشتے پر اصرار نہیں کرنا چاہیے۔ نیز والدین کو  بھی چاہیے کہ عاقلہ بالغہ  بیٹی کے شرعی حق کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر غیر ضروری یا غیر شرعی دباؤ نہ ڈالیں۔

حوالہ جات

القرأن الكريم (سورة النساء:3):

وَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تُقْسِطُواْ فِي الْيَتَامَى فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاء مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تَعْدِلُواْ فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلاَّ تَعُولُواْ.

مصنف ابن أبي شيبة (9/ 31):

عن طاووس  رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لم ير للمتحابين مثل النكاح.

السنن الكبرى للبيهقي (7/ 215): 

13761 -   عن جابر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:  لا يزوج النساء إلا الأولياء ولا يزوجهن إلا الأكفاء ولا مهر دون عشرة دراهم.

سنن أبي داود (2/ 242):

2133 - عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من كانت له امرأتان فمال إلى إحداهما  جاء يوم القيامة وشقه مائل.

الهداية شرح بداية المبتدي (1/ 191):

ولها اختيار الأزواج وإنما يطالب الولي بالتزويج كيلا تنسب إلى الوقاحة ثم في ظاهر الرواية لا فرق بين الكفء وغير الكفء ولكن للولي الاعتراض في غير الكفء وعن أبي حنيفة وأبي يوسف أنه لا يجوز في غير الكفء لأنه كم من واقع لا يرفع ويروي رجوع محمد إلى قولهما ولا يجوز للولي إجبار البكر البالغة على النكاح.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (3/ 117):

(قوله نفذ نكاح حرة مكلفة بلا ولي) ؛ لأنها تصرفت في خالص حقها وهي من أهله لكونها عاقلة بالغة ولهذا كان لها التصرف في المال ولها اختيار الأزواج، وإنما يطالب الولي بالتزويج كي لا تنسب إلى الوقاحة ولذا كان المستحب في حقها تفويض الأمر إليه والأصل هنا أن كل من يجوز تصرفه في ماله بولاية نفسه يجوز نكاحه على نفسه وكل من لا يجوز تصرفه في ماله بولاية نفسه لا يجوز نكاحه على نفسه، ويدل عليه قوله تعالى "حتى تنكح" [البقرة: 230] أضاف النكاح إليها ومن السنة حديث مسلم "الأيم أحق بنفسها من وليها" وهي من لا زوج لها بكرا كانت أو ثيبا.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 55):

(فنفذ نكاح حرة مكلفةبلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا۔(وله) أي للولي (إذا كان عصبة) ولو غير محرم كابن عم في الأصح خانية، وخرج ذوو الأرحام والأم والقاضي (الاعتراض في غير الكفء) فيفسخه القاضي ويتجدد بتجدد النكاح (ما لم) يسكت حتى (تلد منه) لئلا يضيع الولد وينبغي إلحاق الحبل الظاهر به (ويفتى) في غير الكفء...(بعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى (لفساد الزمان) فلا تحل مطلقة ثلاثا نكحت  غير كفء بلا رضا ولي بعد معرفته إياه فليحفظ.

 (قولہ ولایۃ ندب) أی یستحب للمرأۃ تفویض أمرھا إلی ولیھا کی لا تنسب إلی الوقاحۃ.....(قولہ فی غیر الکفء) أی فی تزویجھا نفسھا من غیر کفء، وکذا لہ الاعتراض فی تزویجھا نفسھا باقل من مھر مثلھا حتی یتم مھر المثل او یفرق القاضی ...... (وقولہ بعدم جوازہ أصلاً) ھذہ روایۃ الحسن عن ابی حنیفۃ، وھذا اذا کان لھا ولیّ لم یرض بہ قبل العقد فلا یفید الرضا بعدہ.....(قولہ وھو المختار للفتویٰ) وقال شمس الائمۃ وھذا أقرب الی الاحتیاط کذا فی تصحیح العلامۃ قاسم لانہ لیس کل ولیّ یحسن المرافعۃ والخصومۃ ولاکل قاض یعدل.... ولو أحسن الولي وعدل القاضي فقد يترك أنفة  للتردد على أبواب الحكام، واستثقالا لنفس الخصومات فيتقرر الضرر فكان منعه دفعا له .فتح.

البناية شرح الهداية (5/ 110):

وفي المبسوط: الكفاءة تعتبر في حق الرجل في النسب  والحرية والمال والحرفة والحسب. وفي فتاوى الولوالجي : في التقوى وإسلام الأب والعقل أيضا.

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 195):

الكفاءة في النكاح معتبرة . قال عليه الصلاة والسلام : ألا لا يزوج النساء إلا الأولياء ولا يزوجن إلا من الأكفاء . ولأن انتظام المصالح بين المتكافئين عادة لأن الشريفة تأبى أن تكون مستفرشة للخسيس فلا بد من اعتبارها بخلاف جانبها لأن الزوج مستفرش فلا تغيظه دناءة الفراش.  وإذا زوجت المرأة نفسها من غير كفء فللأولياء أن يفرقوا بينهما دفعا لضررالعارعن أنفسهم. ثم الكفاءة تعتبر في النسب لأنه يقع به التفاخر.    فقريش بعضهم أكفاء لبعض والعرب بعضهم أكفاء لبعض.

محمد ابرار الحق

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

20/صفر/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابرار الحق بن برھان الدین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب