03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کمیشن اور بروکری کے کاروبار میں شرکتِ اعمال (service partners) اور ضمان کا شرعی حکم
91781شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید کو کسی نے ویزوں کے کاروباری کا موبائل نمبر دے دیا۔ زید نے اس شخص سے رابطہ کیا اور پھر پنڈی میں اس سے ملاقات کی۔ زید کا اعتماد بحال کرنے کے لیے اس شخص نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ: ”میں یقیناً ویزوں کا کاروبار کرتا ہوں؛ اگر اس میں کوئی بھی دھوکا ہو تو میری دونوں بیویاں مجھ پر طلاق ہوں گی۔“ اور مزید اعتماد کے لیے پچاس لاکھ روپے کا بینک چیک بھی دے دیا۔

اس کے بعد زید نے بکر سے رابطہ کیا کہ: ”ایسا ایک شخص ویزوں کا کاروباری ہے، آپ لوگوں سے فی ویزا کی قیمت دو لاکھ سے زائد (مثلاً: دو لاکھ بیس ہزار یا اس سے زائد) لیا کریں۔ دو لاکھ اس شخص کو دیں گے اور اضافی رقم ہم دونوں (زید اور بکر) کے درمیان بطورِ منافع تقسیم ہوگی۔“ بکر نے کہا: ”کیا وہ شخص معتمد (قابلِ اعتماد) ہے؟“ تو زید نے کہا: ”ہاں! اس نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر طلاق کی قسم اٹھائی ہے اور پچاس لاکھ کا چیک بھی دیا ہے۔“ تب بکر نے زید سے اس شخص کا موبائل نمبر لے کر خود رابطہ کیا، اور پھر لوگوں سے پیسے لے کر خود ہی اس شخص کو بھیجتا تھا، اور منافع زید اور بکر کے درمیان آدھا آدھا تقسیم ہوتا تھا۔

جب وقت زیادہ گزر گیا اور ویزے نہیں ملے، اور لوگوں نے زید اور بکر سے مطالبہ کیا کہ یا تو ویزے دیں یا ہماری رقوم واپس کر دیں (لیکن دونوں کام مشکل تھے) تو زید اور بکر نے اس شخص سے کہا کہ: ”یا ویزے دے دیں یا ہماری رقم واپس کر دیں۔“ تو اس شخص نے کہا کہ: ”میرا یہ معاملہ آگے تیسرے شخص کے ساتھ تھا اور اس کے ساتھ دھوکا ہوا ہے۔“ اب چونکہ ویزے اور رقم دونوں کا ملنا مشکل ہو گیا، تب بکر نے زید سے کہا کہ: ”میں تو اس شخص کو نہیں جانتا تھا، میں نے آپ کے اعتماد پر لوگوں سے پیسے لیے ہیں۔ اب لوگ مجھ سے پیسے مانگتے ہیں؛ لہذا اب تم ہی میرے پیسوں کے ذمہ دار ہو۔“ بکر یہ بھی کہتا ہے کہ زید نے کہا تھا کہ: ”اگر رقم ضائع ہوئی تو میں ذمہ دار ہوں گا“، مگر زید ذمہ داری والی بات سے انکاری ہے کہ ”میں نے ذمہ داری نہیں لی تھی“۔

بقول زید؛ زید نے دو مواقع پر بکر سے کہا کہ: ”اس شخص نے ملاقات کے لیے وقت دیا ہے، آپ آئیں! اس کو پکڑ کر اس سے پیسے لیتے ہیں“، مگر بکر نے انکار کیا کہ: ”ایسا نہیں کرتے، وہ میرا ویزوں کا کام کرتا ہے، تم میرا کام خراب کرتے ہو۔“

بعد ازاں زید اور بکر کے درمیان جھگڑا پیدا ہوا اور فیصلہ ثالثین (فیصلہ کرانے والے افراد) کے پاس لے گئے۔ ثالثین نے فیصلہ کیا کہ: ”آدھے پیسے زید اور آدھے بکر کے ذمہ ہوں گے۔“ دونوں اس فیصلے پر رضامند ہو گئے۔ جوں ہی ثالثین کے پاس سے باہر نکل گئے، تو بقول زید؛ بکر نے زید سے معافی مانگی کہ: ”آپ ناراض نہ ہوں، لوگ مجھے بہت تنگ کر رہے ہیں۔ اگر اس شخص نے ہمارے پیسے واپس کرنا شروع کیے تو آپ بری الذمہ ہیں، میں آپ سے نہیں مانگوں گا۔ آپ نے دوسرے لوگوں سے بھی ویزوں کے لیے پیسے لیے ہیں، وہ بھی غرق ہوئے ہیں، آپ کا بھی نقصان ہوا ہے۔“ بقول زید، اس کے بعد اس شخص نے بکر کو تھوڑے بہت پیسے واپس بھی کیے ہیں۔ اب بکر دوبارہ زید سے کہتا ہے کہ: ”آپ ذمہ دار ہیں، میری رقم دے دیں۔“تو کیا شرعاً بکر کا زید سے اس آدھے پیسوں کے مطالبے کا حق بنتا ہے یا نہیں؟ اور زید اس کا ذمہ دار ہے یا نہیں؟

واضح رہے کہ زید کو دیا گیا چیک جعلی تھا، مگر زید کو اس بات کا علم نہیں تھا، اس کا علم بعد میں ہوا ہے۔ اور زید نے ثالثین کے سامنے مجبوراً آدھی رقم کی ذمہ داری قبول کی تھی، کیونکہ صورتِ انکار میں بکر کی جانب سے یقیناً شدید جھگڑے کا خطرہ تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

زید اور بکر کے درمیان جو معاملہ طے پایا تھا وہ شرکت صنائع کہلاتا ہے۔بکر اس شرکت کے جانب سے معاملات طے کر رہا تھا۔ اگر بکر نے کلائنٹ کو بتادیاتھا کہ ہم یہ کام خود نہیں کریں گے،بلکہ کروا کردیں گے، تو طے شدہ پیسوں میں یہ کام کروا کر دینا ان کے ذمے ہے، ورنہ پیسے واپس کرنا ہوں گے۔ بکرنے اگر کلائنٹ کو یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ کسی اور سےیہ کام کرائیں گے تو فراڈ ہونے کی صورت میں بکر اور زید دونوں پر ضمان آتا ہے۔ لہذا شرعا بھی اور فیصلے کے رو سے بھی دونوں ضامن تھے۔باقی بکر نے جوزید کی معافی کے لیے شرط لگائی تھی، اس شرط لگانے سے عرفا یہی سمجھا جاتا ہے کہ سارے پیسے مل گئے تو سارے پیسوں سے بری الذمہ ہوں گے اور کچھ پیسے ملے تو اتنے سے بری الذمہ ہوں گے، لہذا بکر بقیہ پیسوں کا مطالبہ کرسکتا ہے۔

حوالہ جات

المجلة (ص: 267):

مادة 1385: شركة الأعمال عبارة عن عقد شركة على تقبل الأعمال فالأجيران المشتركان يعقدان الشركة على تعهد والتزام العمل الذي يطلب ويكلف من طرف المستأجرين سواء كانا متساويين أو متفاضلين في ضمان العمل يعني سواء عقدا الشركة على تعهد العمل وضمانه متساويا أو شرطا ثلث العمل مثلا لأحدهما والثلثان للآخر .

 مادة 1386: يجوز لكل واحد من الشريكين تقبل العمل وتعهده، ويجوز أيضا أن يتقبل واحد وآخر يعمل، ويجوز أيضا للخياطين المشتركين شركة صنائع أن يتقبل أحدهما المتاع ويقصه والآخر يخيطه.

مادة 1387: كل واحد من الشريكين وكيل الآخر في تقبل العمل، فالعمل الذي تقبله أحدهما يكون إيفاؤه لازما عليه وعلى شريكه أيضا فعنان شركة الأعمال في حكم المفاوضة في ضمان العمل حيث أن العمل الذي تقبله أحد الشريكين يطلب المستأجر إيفاءه من أيهما أراد وكل واحد من الشريكين يكون مجبورا على إيفاء العمل فليس لأحدهما أن يقول هذا العمل تقبله شريكي فأنا لا أخالطه.

مادة 1388: عنان شركة الأعمال في حكم المفاوضة في اقتضاء البدل أيضا يعني أنه يجوز لكل واحد من الشريكين مطالبة المستأجر بتمام الأجر وإذا دفعه المستأجر أيضا إلى أي منهما بريء.

مادة 1390: يقسم الشركاء الربح بينهم على الوجه الذي شرطوه، يعني إن شرطوا تقسيمه متساويا يقسموه متساويا وإن شرطوا تقسيمه متفاضلا كالثلث والثلثين مثلا يقسم حصتين وحصة.

مادة 1393: إذا تلف أو تعيب المستأجر فيه بصنع أحد الشريكين فيكون ضامنا بالإشتراك مع الشريك الآخر، والمستأجر يضمن ماله أيا شاء منهما، ويقسم هذا الخسار بين الشريكين على مقدار الضمان، مثلا إذا عقدا الشركة على تقبل الأعمال وتعهدها مناصفة، فيقسم الخسار أيضا مناصفة، وإذا عقدا الشركة على تقبل الأعمال وتعهدها ثلثين وثلثا، يقسم الخسار أيضا حصتين وحصة.

درر الحكام شرح مجلة الأحكام(93/10)

يسقط الدين بالأبراء ، و ذلك لو سمع الدائن أن مدينه توفى فأبرأه من الدين أو وهب الدين اليه ثم ظهر له أن المدين حي يرزق تمت البراءة وليس للدائن الرجوع عن ابرائه . أنظر مادة ( ٥١ ) لأنه وهبه منه بغير شرط ( الخانية في براءة الغاصب والمدين )ان الابراء على وجهين : - الوجه الأول - أن يبرىء المبرىء و هو عالم بحقه و مطلوبه ، وفى هذه الصورة تحصل البراءة ديانة وحكما وقضاء بالاتفاق و یسقط الحق...

درر الحكام شرح مجلة الأحكام(398/3)

المادة (۱۳۷۷) - (حقوق العقد إنما تعود إلى العاقد، فإذا اشترى أحد الشريكين مالاً فقبضه تأدية ثمنه يكون لازماً عليه وحده، ولهذا يطلب ثمن مع المال الذي اشتراه منه فقط ولا يطالب شريكه به وكذا قبض ثمن المال الذي باعه أحدهما إنما هو حقه، ولهذا لو أدى المشتري الثمن للآخر يبرأ من حصة الشريك القابض فقط ولا يبرأ من حصة الشريك العاقد، ولهذا أيضاً لو وكل الشريك العاقد آخر بقبض ثمن المال الذي باعه فليس لشريكه عزله، ولكن إذا وكل أحد الشريكين آخر للبيع والشراء والإجارة فللشريك الآخر عزله)

حقوق العقد إنما تعود للشريك العاقد كما في الوكالة الصرفة أنظر المادة (١٤٦١) ولا تعود حقوق العقد على الشريك الغير العاقد ولا ترجع عليه لأن شركة العنان إنما تتضمن الوكالة ولا تتضمن الكفالة وبما أن الشريك الذي باشر العقد أصيل في الحقوق فتتوجه المطالبة عليه خاصة ولا تتوجه على شريكه (مجمع الأنهر).

ظہوراحمد

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

19 صفر المظفر 1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ظہوراحمد ولد خیرداد خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب