03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قسطوں پر خریدا گیا موبائل بغیر ڈبہ کے آگے بیچنے کا حکم
91675خرید و فروخت کے احکام دین )معاوضہ جو کسی عقدکے نتیجے میں لازم ہوا(کی خرید و فروخت

سوال

اگر کوئی شخص اقساط پر کوئی چیز (مثلاً موبائل فون) اس پہلے سے طے شدہ ارادے یا نیت کے ساتھ خریدے کہ وہ اسے آگے کسی اور شخص کے ہاتھ بیچ دے گا تو کیا شرعاً ایسا کرنا جائز ہے؟ بعض اقساط پر سامان دینے والے (دکاندار/کمپنی) یہ شرط رکھتے ہیں کہ "جب تک آخری قسط ادا نہیں ہو جاتی، موبائل کا اصلی ڈبہ (Box) آپ ہمارے پاس بطورِ ضمانت رکھیں گے" تو کیا ایسی شرط کی موجودگی میں خریدار آگے وہ موبائل بیچ سکتا ہے یا نہیں؟ کیا ڈبہ دکاندار کے پاس ہوتے ہوئے خریدار کا اس موبائل پر مکمل قبضہ (Possession/Ownership) شمار ہوگا یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطورِتمہیدجاننا چاہیے کہ قسطوں پر چیز خریدنے کے بعد اگر کسی عذرکے پیشِ نظر نقد رقم پر آگے فروخت کرنے کی نوبت آجائے تو شرعاً اس کی اجازت ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، خواہ پہلی قیمت پر ہی چیز فروخت کی جائے یا قیمت میں کمی بیشی کی جائے، البتہ اگر خریدار کو پہلی قیمت بتا کر نقد پر بیچنا مقصود ہو تو ایسی صورت میں قسطوں پر خریدنے کی تفصیل بتانا بھی ضروری ہے، کیونکہ نقد اور ادھار کی قیمت میں فرق ہوتا ہے، اگر اس کو ادھار خریدنے کی تفصیل نہ بتائی گئی تو خریدار کو معلوم ہونے پر نقد کیے گئے معاملے کو فسخ کرنے کا اختیار ہو گا، اس لیے بہتر یہ ہے کہ بیع مساومہ یعنی پہلی قیمت بتائے بغیر خریدوفروخت کا معاملہ کیا جائے۔

البتہ اگر شروع سے ہی فریقین کے درمیان طے ہو کہ قسطوں پر مہنگے داموں چیز بازار میں نقد پر فروخت کر کے قرض کے متبادل کے طور پر نقد رقم حاصل کی جائے گی تو یہ صورت مکروہ تنزیہی اور خلاف اولی ہے، بلکہ ایسی صورت میں بیچنے والے شخص کو چاہیے کہ ضرورت مند شخص کی قرض کے ذریعہ حاجت پوری کرے ، لیکن اگر بیچنے والا شخص قرض دینے پر رضامند نہ ہو اور خریدار اپنی ضرورت کے پیشِ نظر نقد رقم کے حصول کے لیے یہ طریقہ اختیار کرے تو اس کے لیے شرعاً اس کی اجازت ہے، بشرطیکہ کسی تیسرے شخص کو وہ چیز فروخت کی جائے، واپس اسی فروخت کنندہ کو بیچنا جائز نہیں۔

لہذا مذکورہ صورت میں آپ کا اپنی ضرورت کے پیشِ قسطوں پر موبائل خرید کر کسی تیسرے شخص کو نقد پر بیچنا جائز ہے، اگرچہ ڈبہ کمپنی کے پاس ہو، کیونکہ شرعی نقطہٴ نظر سے ڈبہ کے بغیر بھی موبائل پر قبضہ درست اور تام شمار ہوتا ہے، البتہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ موبائل کی مکمل قسطیں ادا کرنے کے بعد کمپنی سے ڈبہ وصول کر کے خریدار کے حوالہ کریں، کیونکہ ڈبے کی وجہ سے موبائل کی قیمت میں بھی فرق پڑتا ہے اور موبائل گم ہونے کی صورت میں ڈبے پر درج پندرہ ہندسوں پر مشتمل آئی ایم ای آئی (IMEI) نمبر کے ذریعہ موبائل کو بلاک اور بعض اوقات پکڑا  (Trace)بھی کیا جا سکتا ہے، اس لیے موبائل کا ڈبہ خریدار کا حق ہے، جس کی ادائیگی آپ کے ذمہ لازم ہے۔

حوالہ جات

بحوث في قضايا فقهية معاصرة (2/67-46):

التورق فی اصطلاح الفقهاء: أن یشتری المرء سلعة نسیئة، ثم یبیعها نقدًا لغیر البائع بأقل مما اشتراها به؛ لیحصل علی النقد…….. و حاصل ما ذکر نا أن التورق عملیة جائزة فی نفسها، و غاية ما فی الباب -کما قال ابن الهمام ؒ -  أنه خلاف الأولی إن کان البائع یعلم أن المشتری محتاج إلی نقود لأغراضه الشخصية،  ولا یشتری السلعة بثمن غال إلا بسبب حاجته إلیها، فلو کان فی مکنة البائع أن یقرضه النقود التی یحتاج إلیها فلا شك أنه الأفضل والأکثر أجرا، فترک الإقراض فی هذه الحالة واللجوء إلي بيع السلعة بثمن أکثر خلاف الأفضل ........و کذلك إن کان البائع یعرف أن المشتری المتورق یحتاج إلی سیولة نقدیة

لأغراضه التجاریة، و مقصوده الحصول علی التمویل؛ فالأفضل للبائع أن یعقد معه الشرکة أو المضاربة لکونهما طریقین مفضلین للتمویل، فالعدول عنهما إلی التورق خلاف الأولی کلما کان الطریق المفضل میسرًا، و لکن لا سبیل إلی القول بأنه یجب علیه أن یعقد معه الشرکة أو المضاربة و لا یدخل فی التورق.

ولکن ما ذکرنا من جواز التورّق عند جمهور الفقهاء انما یتأتی فی التورّق الذي هو عبارة عن عمیلتین بسیطتین: إحداهما شراء السلعة بالأجل، و ثانیتهما بیعها فی السوق عاجلا. و التورق الذی تصوره الفقهاء و حکموا بجوازه هو أن السلعة موجودة عند البائع مملوکة له ملکًا حقیقیًا، ثم تنتقل ملکیتها إلی المشتری بحکم البیع الحقیقی الذی تتبعه جمیع أحکام البیع.

تحفة الفقهاء (2/ 108) دار الكتب العلمية، بيروت:

ولو اشترى ثوبا بعشرة نسيئة فباعه مرابحة على العشرة وبين أنه اشتراه بها نسيئة لا يكره

 لأنه لم يوجد الخيانة حيث أعلم المشتري بذلك ورضي به فأما إذا باع مرابحة على

العشرة من غير بيان النسيئة فإنه يكره والبيع جائز وللمشتري الخيار إذا علم لأنه وجد الغرور والخيانة لأن المشتري إنما اشتراه مرابحة على العشرة على تقدير أن الثمن في البيع الأول عشرة بطريق النقد ويختلف ثمن المبيع بين النسيئة والنقد فيثبت له الخيار.

المعاییر الشرعیة (767):

2 .تعریف التورق و تمییزه عن بیع العینة: التورق: شراء سلعة بثمن آجل مساومة أو مرابحة ثم بیعها إلی غیر من اشتریت منه للحصول علی النقد بثمن حال. أما العینة: فهی شراء سلعة بثمن آجل و بیعها إلی من اشتریت منه بثمن حال أقل.

4. ضوابط صحة عملیة التورق: 4/5 ۔وجوب أن یکون بیع السلعة (محل التورّق) إلی غیر البائع الذی اشتریت منه بالأجل (طرف ثالث)؛ لتجنب العینة المحرّمة، و ألا ترجع إلی البائع بشرط أو مواطأة أو عرف.

4/6۔ عدم الربط بین عقد شراء السلعة بالأجل و عقد بیعها بثمن حال، بطریقة تسلب العمیل حقه فی قبض السلعة، سواء کان الربط بالنص فی المستندات، أم بالعرف، أم بتصمیم الإجراءات.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

24/صفرالخیر1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب