03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین طلاق کے بعد رجوع کرنے کا حکم
91690طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میری بیٹی .......... کو اس کے شوہر نے واضح طور پر تین طلاقیں دی ہیں، جس کا طلاق نامہ ساتھ لف ہے، اب شوہر کے گھر والے رجوع کرنے پر زور دے رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا اب رجوع کرنا جائز ہے؟ برائے مہربانی مجھے فتوی دیجیے تاکہ میں یونین کونسل میں دکھا سکوں، ہم رجوع کرنے پر بالکل تیار نہیں ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال کے ساتھ منسلکہ طلاق نامہ پر تین طلاقیں لکھ کر شوہر کے دستخط کرنے سے اس کی بیوی  پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب ان دونوں کا اکٹھے رہنا ہرگز جائز نہیں۔ نیز اب رجوع نہیں ہو سکتا اور  موجودہ صورتِ حال میں دوبارہ نکاح  کرنا بھی جائز نہیں،تین طلاق کے بعد حرمت مغلظہ کا ثابت ہونا  اہل السنہ والجماعہ یعنی حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کا متفقہ مسئلہ ہے،قرآن کریم کی آیات اور کتبِ احادیث میں کئی صریح اور صحیح احادیث اس بات دلالت کر ہی ہیں کہ تین طلاقیں تین ہی شمار ہوتی ہیں، خواہ ایک مجلس میں دی جائیں یا متفرق مواقع میں۔  لہذا  عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں  شرعاًآزاد ہے، اور لڑے کے گھروالوں کاآپ حضرات کو جورع کے لیے مجبور کرنا ہرگز جائز نہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز اور اس پاک ذات کے غضب اور غصہ کو دعوت دینے کے مترادف ہے، جس سے بچنا ہر مسلمان کے لیے از حد ضروری ہے۔

  البتہ اگر یہ عورت  اپنی رضاندی سے اپنے سابقہ خاوند (جس نے تین طلاقیں دی ہیں ) سےنکاح کرنا چاہے تو اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اگر عورت عدت گزارنے کے بعدباقاعدہ اورمستقل رہنے کی غرض سے  کسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ خاوند عورت سے ہمبستری بھی کرے، پھر وہ اپنی رضامندی سے عورت کو طلاق دیدے یا وہ وفات پا جائے تو اُس خاوند کی عدت گزارنے کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔ ورنہ نہیں۔

حوالہ جات

صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5261) دار طوق النجاة:

حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني القاسم بن محمد، عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول»

 صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5264) دار طوق النجاة:

وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك.

الفتاوى الهندية (1 / 473) دار الفكر، بیروت:

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز.

مفتی محمد حسین خلیل خیل

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

25/صفرالخیر1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب