03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تعددِ ازدواج کے متعلق نامناسب الفاظ کہنے کا حکم
92078نکاح کا بیانکئی بیویوں میں برابری کا بیان

سوال

آج کل کی خواتین زیادہ شادیوں کے عمل کو برا سمجھتی ہیں اور یہ سمجھتے ہوئے بھی کہ زیادہ شادیاں ایک جائز عمل ہے،اس بارے میں نامناسب الفاظ بولتی ہیں (جیسے کہ اسے گھٹیا کام کہنا وغیرہ)۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ کسی جائز عمل کے بارے میں ایسی بات کہنا انسان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے اور نکاح کے بارے میں کیا حکم ہو گا، کیا دوبارہ تجدید کرنی ہو گی یا توبہ استغفار کافی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح اللہ تعالیٰ کا حکم اور انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت ہے۔ البتہ ایک سے زائد نکاح کرنے کے لیے شرط یہ ہے کہ شوہر اپنی تمام بیویوں کے درمیان عدل و انصاف اور مساوات قائم رکھنے کی استطاعت رکھتا ہو۔ چنانچہ اگر کوئی شخص یہ استطاعت رکھتا ہو تو اس کے لیے ایک سے زائد نکاح  کرنا جائز ہے۔ لہذا محض دوسرے نکاح کی بنیاد پر شوہر پر  اعتراض کرنا درست نہیں ۔ہاں اگر اس سے پہلی بیوی کو اپنے  حقوق ضائع ہونے کا  خطرہ  ہو یا  محض طبعی گرانی کا اظہار ہوتواعتراض کی گنجائش ہے۔

عورت کو طبعی  طور پر اپنے شوہر کی دوسری شادی ناگوار ہوتی ہے، تاہم ایسی صورت میں  الفاظ کے انتخاب میں احتیاط کرنی چاہیےکہ  کہیں یہ اللہ تعالی کی اجازت پر اعتراض نہ بن جائے۔  اگر اسی طبعی ناگواری کے باعث اس کے منہ سےسوال میں ذکر کردہ  الفاظ نکل گئے تھے  تومحض اس وجہ سے وہ دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوئی اور نہ ہی تجدیدِ نکاح کی ضرورت ہے۔ البتہ اسے چاہیے کہ اپنے الفاظ پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے اور آئندہ ایسے الفاظ سے اجتناب کرے۔

اگر بیوی اس بات سے مطمئن ہو کہ شوہر دوسری شادی کی صورت میں بھی اس کے اور بچوں کے حقوق کی رعایت کرے گا، اخراجات پورے کرے گا اور تمام بیویوں کے درمیان عدل و انصاف کرے گا، تو محض اپنی طبعی ناگواری کی بنا پر اسے شوہر کو دوسرے نکاح سے روکنے کا حق حاصل نہیں، بلکہ اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تسلیم کرتے ہوئے شوہر کے شرعی حق کا احترام کرے۔

حوالہ جات

کما قال اللہ تعالی: ﴿ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتَامٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانِكُمْ ذٰلِكَ أَدْنٰى أَلَّا تَعُوْلُوْا ﴾ (النساء:3)

التفسير المظهري (2 ق 2/ 7):

بل المعنى انه يجوز لكل أحد نكاح ثنتين وكذا يجوز لكل نكاح ثلاث وكذا يجوز لكل نكاح اربع.

تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير (9/ 488):

فانكحوا الطيبات لكم معدودات هذا العدد، ثنتين ثنتين، وثلاثا ثلاثا، وأربعا أربعا.قوله تعالى: فإن خفتم ألا تعدلوا فواحدة أو ما ملكت أيمانكم.وفيه مسائل:المسألة الأولى:المعنى: فإن خفتم أن لا تعدلوا بين هذه الأعداد كما خفتم ترك العدل فيما فوقها، فاكتفوا بزوجة واحدة أوبالمملوكة.

المفاتيح في شرح المصابيح (4/ 15):

وقال: "تزوجوا الودود الولود، فإني مكاثر بكم الأمم".... هذا الحديث صريح بتأكيد استحباب التزوج، وفضيلة امرأة ولود على غيرها، وفضل كثرة أولاد الرجل والمرأة، وكثرة ثوابهما وهذا أفضل طاعة؛ لأن من حصل منه أولاد فقد حصل مراد النبي صلى الله عليه وسلم، وتحصيل مراد النبي صلى الله عليه وسلم أفضل القرب، وفي تكثير الأولاد تكثير عباد الله، ولا شك أن تكثير من يطيع الله من أفضل القرب.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 6):

 (ويكون واجبا عند التوقان) فإن تيقن الزنا إلا به فرض نهاية وهذا إن ملك المهر والنفقة، وإلا فلا إثم بتركه بدائع.

ابن امین صاحب دین

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

06/ربیع الثاني/1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ابن امین بن صاحب دین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب