| 92139 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
آپ حضرات سے ایک فتوی لیا تھا ، جس میں لکھا گیا تھا کہ اب تین طلاق کے بعد ارسلان اور اریبہ کا میاں بیوی کی حیثیت سے ایک ساتھ رہنا جائز نہیں، لہذاآئندہ ان دونوں کے دوبارہ نکاح کی صورت بھی وہی ہوگی جو آپ حضرات نے اپنے جواب میں بیان فرمائی ہے،تاہم اس معاملے میں براہِ کرم درج ذیل سوالات کے جوابات بھی مرحمت فرما دیں:
1۔ طلاق کے بعد بچے کی ولادت تک اریبہ کے اخراجات: چونکہ اریبہ اس وقت ارسلان کے بچے سے حاملہ ہے اور اس کی عدت بچے کی پیدائش تک ہے، لہٰذا بچے کی ولادت تک اس کے کھانے پینے، لباس، رہائش، علاج، حمل سے متعلق طبی اخراجات اور دیگر ضروری اخراجات کس کے ذمہ ہوں گے؟
2۔ طلاق کے بعد سابق شوہر سے متعلق عورت کے حقوق: تین طلاقوں کے بعد اریبہ ارسلان کی بیوی نہیں رہی، لیکن چونکہ وہ اسی کے بچے سے حاملہ ہے تو کیا اس حمل کی وجہ سے اریبہ کے لیے ارسلان پر رہائش، خوراک اور دیگر نان و نفقہ کا کوئی حق باقی رہتا ہے؟اگر حق باقی رہتا ہے تو اس کی شرعی حدود اور مدت کیا ہوگی؟
3۔ اگر اریبہ کے والدین اسے طلاق یافتہ ہونے کی وجہ سے اپنے گھر رکھنے سے انکار کر دیں تو حمل کی مدت میں اس کی رہائش کا شرعی انتظام کس کے ذمہ ہوگا؟کیا ارسلان پر لازم ہے کہ وہ اس کے لیے الگ محفوظ رہائش کا انتظام کرے، جبکہ دونوں کا ایک ساتھ رہنا شرعاً جائز نہیں؟
4۔ حمل اور ولادت کے طبی اخراجات: حمل کے دوران ڈاکٹرکی فیس، ٹیسٹ، ادویات وغیرہ کے اخراجات، اور بچے کی پیدائش کے وقت ڈیلیوری / ہسپتال کے اخراجات شرعاً کس کے ذمہ ہوں گے؟کیا یہ اخراجات بھی ارسلان کے ذمہ ہوں گے کیونکہ پیدا ہونے والا بچہ اسی کا ہے؟
5۔ بچے کی پیدائش کے بعد بچے کے اخراجات:بچے کی پیدائش کے بعد اس کے خوراک، لباس، علاج، رہائش، تعلیم اور دیگر ضروری اخراجات کس کے ذمہ ہوں گے؟ کیا اریبہ کے دوبارہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کر لینے کے بعد بھی اس بچے کے اخراجات ارسلان کے ذمہ ہی رہیں گے؟
6۔ بچے کا اپنے حقیقی والد پر حق:اگر اریبہ بعد میں کسی دوسرے شخص سے نکاح کر لیتی ہے تو کیا اس کے باوجود بچہ اپنے حقیقی والد ارسلان سے نسب، نان و نفقہ، کفالت اور دیگر شرعی حقوق کا حقدار رہے گا؟
7۔ دودھ پلانے کے اخراجات:اگر اریبہ بچے کو اپنا دودھ پلائے تو کیا اس کے عوض ارسلان پر کوئی شرعی اجرت یا خرچ لازم ہوگا؟ اور اگر بچہ کسی اور ذریعے سے دودھ پیے تو اس کے اخراجات کس کے ذمہ ہوں گے؟
براہِ کرم ان تمام امور کی تفصیلی شرعی وضاحت فرما دیں تاکہ آئندہ ارسلان، اریبہ اور پیدا ہونے والے بچے کے حقوق کے معاملے میں کوئی ناانصافی یا شرعی کوتاہی نہ ہو۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
3،2،1: جی ہاں! مذکورہ صورت میں چونکہ طلاق کےوقت خاتون حاملہ تھی اس لیے اس کی عدت بچے کی ولات ہو گی اور شرعی اعتبار سے عورت کی عدت کے تمام اخراجات شوہر کے ذمہ لازم ہوتے ہیں، جن میں رہائش ، کھانا ، پینا اور دیگر معمول کےاخراجات شامل ہوتے ہیں، لہذا بچے کی ولادت تک عورت اپنے سابقہ شوہر یعنی ارسلان کے گھر میں ہی رہے گی اور وہی اس کے اخراجات کا ذمہ دار ہو گا، اس لیے ارسلان کی ذمہ داری ہےکہ وہ اس کی رہائش کے لیے شرعی پردے کا انتظام کرے ، تاکہ کسی قسم کی بے پردگی اور عورت کو فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔
الفتاوى الهندية (1/ 557) الناشر: دار الفكر، بيروت:
المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا حاملا كانت المرأة، أو لم تكن كذا في فتاوى قاضي خان الأصل أن الفرقة متى كانت من جهة الزوج فلها النفقة، وإن كانت من جهة المرأة إن كانت بحق لها النفقة.
الفتاوى الهندية (1/ 558) الناشر: دار الفكر، بيروت:
وكما تستحق المعتدة نفقة العدة تستحق الكسوة كذا في فتاوى قاضي خان ويعتبر في هذه النفقة ما يكفيها، وهو الوسط من الكفاية، وهي غير مقدرة؛ لأن هذه النفقة نظير نفقة النكاح فيعتبر فيها ما يعتبر في نفقة النكاح للمعتدة إذا لم تخاصم في نفقتها، ولم يفرض القاضي شيئا حتى انقضت العدة فلا نفقة لها كذا في المحيط.
4۔ جی ہاں! ولادت سے قبل ماں کے پیٹ میں بچے کی نشوونما (Growth)اور نگہداشت سے متعلق اخراجات بھی ارسلان کے ہی ذمہ ہوں گے، کیونکہ وہ بچے کا باپ ہے اور باپ کے ذمہ بچے کےتمام اخراجات لازم ہوتے ہیں، لہذا حمل کے دوران ڈاکٹرکی فیس، ٹیسٹ، ادویات وغیرہ کے اخراجات اور بچے کی پیدائش کے وقت ڈیلیوری / ہسپتال کے اخراجات بھی ارسلان ہی برداشت کرے گا۔
الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 291) دار احياء التراث العربي – بيروت:
ونفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كما لا يشاركه في نفقة الزوجة " لقوله تعالى: {وعلى المولود له رزقهن} [البقرة: 233] والمولود له هو الأب.
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (2/ 88) دار الكتب العلمية – بيروت:
(قوله ونفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كما لا يشاركه في نفقة زوجته أحد) ويجب عليه ذلك موسرا كان أو معسرا إلا إنه يعتبر فيه أن يكون الولد حرا والأب كذلك وأن يكون الولد فقيرا؛ لأنه إن كان له مال فنفقته في ماله.
6،5۔ بچے کی پیدائش کے بعد اس کی خوراک، لباس، علاج، رہائش، تعلیم اور دیگر ضروری اخراجات بھی والد ہونے کی وجہ سے ارسلان ہی برداشت کرے گا، اگرچہ عورت کسی دوسرے شخص سے شادی کر لے،البتہ دوسرے شخص (جو بچے کا غیر محرم ہو )سے شادی کرنے کی صورت میں عورت کو حقِ حضانت (پرورش کا حق )حاصل نہیں ہو گا، البتہ اگر دوسرا شخص فوت ہو جائے یا وہ طلاق دیدے تو دوبارہ حقِ حضانت لوٹ آئے گا۔
الفتاوى الهندية (1/ 541) الناشر: دار الفكر، بيروت:
وإنما يبطل حق الحضانة لهؤلاء النسوة بالتزوج إذا تزوجن بأجنبي، فإن تزوجن بذي رحم محرم من الصغير كالجدة إذا كان زوجها جدا لصغير أو الأم إذا تزوجت بعم الصغير لا يبطل حقها كذا في فتاوى قاضي خان. ومن سقط حقها بالتزوج يعود إذا ارتفعت وإذا كان الطلاق رجعيا لا يعود حقها حتى تنقضي عدتها لقيام الزوجية كذا في العيني شرح الكنز.
7۔ بچے کے دودھ کےاخراجات بھی اس کے والد کے ہی ذمہ لازم ہوں گے اور ماں دودھ پلانے اور بچے کی نگہداشت کے عوض والد سے دو سال تک اس کی اجرت بھی وصول کر سکتی ہے،حنفیہ کے مفتی بہ قول کے مطابق چونکہ دودھ پلانے کی مدت دو سال ہے، اس لیے اس سے زائد مدت کی اجرت لینا جائز نہیں، نیز اس کے ذمہ لازم ہے کہ وہ معاشرے میں رائج اجرت کے مطابق ہی اجرت وصول کرے، بہت زیادہ اجرت کا مطالبہ نہ کرے، مروجہ اجرت سے زائد وصول کرنے کی صورت میں شوہر کو کسی اور عورت سے دودھ پلانے کا حق حاصل ہو گا۔
حوالہ جات
القرآن الكريم [البقرة: 233]
{لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ}
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 70) الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت:
أما الكلام في استحقاق الأجر؛ قال الشيخ الإمام شمس الأئمة الحلواني رحمه الله: هو على هذا الخلاف، حتى إن المطلقة تستحق أجرة رضاع الولد على الأب إلى تمام حولين ونصف عند أبي حنيفة، وعند أبي يوسف ومحمد رحمهم الله: تستحق إلى تمام حولين ولا تستحق فيما دون الحولين.
وكثير من المشايخ قالوا: إن مدة الرضاع في حق استحقاق الأجرة على الأب مقدرة بحولين عند الكل حتى لا تستحق المطلّقة أجرة الرضاع بعد الحولين بالإجماع، وتستحق في الحولين بالإجماع.
الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 291) دار احياء التراث العربي – بيروت:
وإن كان الصغير رضيعا فليس على أمه أن ترضعه " لما بينا أن الكفاية على الأب وأجرة الرضاع كالنفقة ولأنها عساها لا تقدر عليه لعذر بها فلا معنى للجبر عليه وقيل في تأويل قوله تعالى: {لا تضار والدة بولدها} [البقرة: 233] بإلزامها الإرضاع مع كراهتها وهذا الذي ذكرنا بيان الحكم وذلك إذا كان يوجد من ترضعه أما إذا كان لا توجد من ترضعه تجبر الأم على الإرضاع صيانة للصبي عن الضياع.
قال: " ويستأجر الأب من ترضعه عندها " أما استئجار الأب فلأن الأجر عليه وقوله عندها معناه إذا أرادت ذلك لأن الحجر لها.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
9/ربیع الثانی 1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


