03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرعہ اندازی کے زریعے منتخب زمینوں کے باہمی تبادلے کا حکم
92194میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

تین بھائی، رحیم اللہ، رحمت اللہ اور فقیر اللہ، نے اپنی موروثی جائیداد، جو دو مختلف مقامات، ڈنہ اور بالاسیری، میں واقع تھی، باہمی رضامندی سے قرعہ اندازی کے ذریعے تقسیم کی۔ قرعہ اندازی کے نتیجے میں ڈنہ والی زمین رحیم اللہ کے حصے میں آئی، جبکہ بالاسیری والی زمین فقیر اللہ کے حصے میں آئی۔قرعہ اندازی کے بعد، اسی وقت فقیر اللہ نے بالاسیری والی زمین لینے سے انکار کر دیا اور اپنے چھوٹے بھائی رحیم اللہ سے درخواست کی کہ وہ دونوں آپس میں اپنی زمینیں تبدیل کر لیں۔ چنانچہ دونوں بھائیوں نے باہمی رضامندی سے اپنے اپنے حصے کی زمینیں آپس میں تبدیل کر لیں۔ اس طرح رحیم اللہ نے اپنی ڈنہ والی زمین فقیر اللہ کو دے دی، جبکہ خود بالاسیری والی زمین پر قابض ہو گیا۔ دونوں بھائی اس تبادلے پر رضامند تھے اور اپنی اپنی نئی زمینوں پر مستقل طور پر قابض رہے۔دونوں بھائیوں کے انتقال کے بعد فقیر اللہ کے بیٹے، رحیم اللہ کے بیٹوں سے بالاسیری والی زمین واپس کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، حالانکہ ان کے والد نے اپنی رضامندی سے زمینوں کا تبادلہ کیا تھا، دونوں بھائی تقریباً چالیس سال تک اپنی اپنی زمینوں پر قابض رہے اور اس تمام عرصے میں کسی جانب سے کوئی اعتراض بھی نہیں کیا گیا۔

شریعتِ اسلامیہ کی روشنی میں کیا فقیر اللہ کے ورثاء کا مذکورہ مطالبہ درست ہے؟ اگر دونوں بھائیوں نے باہمی رضامندی سے زمینوں کا تبادلہ کر لیا تھا، اس پر قبضہ بھی کر لیا تھا اور اسی حالت میں ان کا انتقال ہوا، تو کیا اب ان کے ورثاء اس تبادلے کو ختم کرکے سابقہ تقسیم بحال کرنے کا مطالبہ کر سکتے ہیں؟ اس سلسلے میں شرعی رہنمائی فرمائی جائے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مذکورہ صورت میں فقیر اللہ کے بیٹوں اور دیگر ورثاء کو رحیم اللہ کے بیٹوں سے بالاسیری والی زمین واپس کرنے کا شرعی حق نہیں ہے؛ کیونکہ دونوں بھائیوں نے باہمی رضامندی سے اپنی زمینوں کا تبادلہ کر لیا تھا اور ہر ایک نے اپنی نئی زمین پر قبضہ بھی کر لیا تھا۔ البتہ اگر دونوں فریق باہمی رضامندی سے دوبارہ زمینوں کا تبادلہ کرکے سابقہ تقسیم کو بحال کرنا چاہیں تو ایسا کر سکتے ہیں۔

حوالہ جات

«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (7/ 28):

«[فصل في بيان حكم القسمة]

(فصل) :

وأما بيان حكم القسمة فنقول - وبالله التوفيق: حكم القسمة ثبوت اختصاص بالمقسوم عينا تصرفا فيه فيملك المقسوم له في المقسوم جميع التصرفات المختصة بالملك، حتى لو وقع في نصيب أحد الشريكين ساحة لا بناء فيها، ووقع البناء في نصيب الآخر فلصاحب الساحة أن يبني في ساحته، وله أن يرفع بناءه، وليس لصاحب البناء أن يمنعه، وإن كان يفسد عليه الريح والشمس؛ لأنه يتصرف في ملك نفسه فلا يمنع عنه، وكذا له أن يبني في ساحته مخرجا أو تنورا أو حماما أو رحى؛ لما قلنا، وكذا له أن يقعد في بنائه حدادا، أو قصارا، وإن كان يتأذى به جاره؛ لما قلنا، وله أن يفتح بابا أو كوة؛ لما ذكرنا»

«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (7/ 28):

«ومنها اللزوم بعد تمامها في النوعين جميعا، حتى لا يحتمل الرجوع عنها إذا تمت.

وأما قبل التمام فكذلك في أحد نوعي القسمة، وهو قسمة القضاء دون النوع الآخر، وهو قسمة الشركاء، بيان ذلك: أن الدار إذا كانت مشتركة بين قوم فقسمها القاضي أو الشركاء بالتراضي فخرجت السهام كلها بالقرعة؛ لا يجوز لهم الرجوع، وكذا إذا خرج الكل إلا سهم واحد؛ لأن ذلك خروج السهام كلها؛ لكون ذلك السهم متعينا بمن بقي من الشركاء، وإن خرج بعض السهام دون البعض فكذلك في قسمة القضاء؛ لأنه لو رجع أحدهم لأجبره القاضي على القسمة ثانيا فلا يفيد رجوعه.

وأما في قسمة التراضي فيجوز الرجوع؛ لأن قسمة التراضي لا تتم إلا بعد خروج السهام كلها، وكل عاقد بسبيل من الرجوع عن العقد قبل تمامه كما في البيع ونحوه، والله سبحانه وتعالى أعلم.»

اسداللہ بن قوت خان

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

12/ ربیع الثانی /8144 ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسداللہ بن قوت خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب