| 92486 | طلاق کے احکام | بیوی کے پاس نہ جانےکی قسم کھانے کے مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام ان مسائل کے بارے میں؟
نکاح سے پہلے نہ ظہار ہوتا ہے نہ ایلاء، لیکن اگر نکاح سے مشروط کردیا جائے تو ہوتا ہے۔ اگر کسی نے ایلا ءیا ظہار کے الفاظ کہے ہوں اور وہ شرط بالکل بھول جائے، لڑکا اور لڑکی دونوں یاد کرنے کی کوشش کریں لیکن کچھ بھی یاد نہ آئے، اور ذہنی پریشانی میں مبتلا ہوجائیں کہ معلوم نہیں کیا کہا تھا، کہا بھی تھا یا نہیں، تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟
2۔اگر کوئی شخص اپنی منگیتر سے یہ کہے کہ "تم میرے لیے بہن کی طرح ہو اور میں تمہارے لیے بھائی کی طرح ہوں"یا یہ کہے کہ "میں تیرا بھائی ہوں اور تو میری بہن ہے، ہم دونوں کی کبھی نہیں بن سکتی"، تو اس کا کیا حکم ہے؟
3۔اگر کوئی شخص اپنی منگیتر سے کہے کہ "میں تم سے کبھی ہم بستری نہیں کروں گا"، اور اس کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرے، تو اس کا کیا حکم ہے؟ نیز اسے یہ یاد نہ ہو کہ اس نے اس پر قسم کھائی تھی یا نہیں، اور غالب گمان سے بھی یاد نہ آئے، تو کیا حکم ہے؟
4۔اسی طرح اگر منگیتر ایلا کرے اور شوہر اس شرط کو قبول کرتے ہوئے کہے کہ "ٹھیک ہے"، تو کیا لڑکی کی طرف سے کیا گیا یہ مشروط ایلا لڑکے کا بھی ایلا مانا جائے گا یا نہیں؟
5۔ایلاء اور ظہار کا شک ہوجائے، لیکن لڑکا اور لڑکی دونوں کو کچھ بھی یاد نہ آئے، حتیٰ کہ ذرا سا بھی یاد نہ آئے، تو قضاءً ایلا ءاور ظہار ثابت نہیں ہوگا، لیکن کیا دیانۃً ثابت ہوگا؟ اگر وہ یہ بات بھول بھی گئے ہوں، کیا اس پر آخرت میں پکڑ ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطو ر تمہید واضح رہے کہ ایلاء اور ظہار کی صحت اور انعقاد کے لیے محل (یعنی قائم نکاح) کا ہونا یا نکاح کی طرف صریح نسبت ہونا شرط ہے؛ لہٰذا غیر منکوحہ (منگیتر) کے لیے نکاح کی طرف نسبت کیے بغیر ایلاء یا ظہار کے الفاظ کہنا شرعاً لغو اور باطل ہے ۔ نیز یہ بھی واضح ہو کہ شرعی احکام کا تعلق یقین یا غالب گمان سے ہے ، شک کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ہے اس لیے کہ فقہی قعاعدہ ہے: « الْيَقِينُ لَا يَزُولُ بِالشَّكِّ» (یقین شک سے زائل نہیں ہوتا) ۔
اس تمہید کی روشنی میں سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں :
1۔ اگر کسی شخص نے نکاح سے پہلے ایلاء یا ظہار کے الفاظ کہے ہوں یا اس کا گمان ہو، لیکن شرط دونوں فریقین (لڑکا اور لڑکی) مکمل طور پر بھول جائیں اور غالب گمان سے بھی کچھ یاد نہ آئےکہ نکاح پر معلق کیا تھا یا نہیں، یا ایلا ء اور ظہار کے الفاظ کہنے میں ہی شک ہو اور کسی کو یاد نہ ہو کہ اصل ایلا اور ظہار کے الفاظ کہے بھی تھے یا نہیں ، تونکاح کے بعد نہ ایلاء ثابت ہوگا اور نہ ہی ظہار، کیونکہ نکاح کا ہونا یقینی ہے ، ایلاء اور ظہار میں محض شک ہے،اورشک و وسوسے کی بنا پر شرعاً کوئی حکم ثابت نہیں ہوتا ۔شریعت میں صرف یقین یا غالب گمان کا اعتبار ہے ۔
2۔نکاح سے پہلے منگیتر (غیر منکوحہ ) سے یہ کہنا کہ "تم میرے لیے بہن کی طرح ہو" یا "تو میری بہن ہے" شرعاً بالکل لغو اور باطل ہے، اس سے نہ ظہار ثابت ہوگا اور نہ ہی ایلاء ۔
3 ،4۔اگر اس شخص کو یہ یاد ہی نہ ہو کہ اس نے مذکورہ جملےکی نسبت نکاح کی طرف کی تھی کہ نہیں اور اس پر قسم کھائی تھی کہ نہیں، اور غالب گمان سے بھی کچھ یاد نہ آئے، تو محض شک سے قسم یا ایلاء منعقد نہیں ہوتا، کیونکہ قسم کھانا یا ایسے جملہ کے ساتھ معلق کرنا جس میں اس شخص پر کوئی مشقت لازم ہو، ایلاء کے ثبوت کے لیےشرعاً ضروری ہے ، اور محض شک کی بنا پر یہ باتیں ثابت نہیں ہوتیں ۔اسی طرح ایلاء اور ظہار کا اختیار صرف مرد (شوہر) کو حاصل ہے، لڑکی اگر ایلا ء کے الفاظ کہے تو اس کا اعتبار نہیں ، بالخصوص جب نکاح ہی نہیں ہوا ہو ۔
5۔ جب ایلاء اور ظہار میں محض شک و نسیان ہو اور ذرا سا بھی یاد نہ آئے، تو یہ نہ قضاءً ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی دیانۃً ۔ دیانت میں بھی تحریم ثابت ہونے کے لیے یقینی علم کی حاجت ہوتی ہے، محض شک سے حرمت ثابت نہیں ہوتی، جیسا کہ فقہی ضابطہ ہے"الْحُرْمَةُ لَا تَثْبُتُ بِالشَّكِّ"نیز جو بات انسان بالکل بھول گیا ہو یا جس میں محض وسوسہ ہو، اس پر آخرت میں کوئی پکڑ یا گناہ نہیں ہوگا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ میری امت سے خطا اور نسیان کا گناہ معاف کر دیا گیا ہے۔
حوالہ جات
القرآن الکریم [البقرة: 226 - 228]:
{لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِنْ فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (226) وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (227) }
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 161):
وأما ركنه فهو اللفظ الدال على منع النفس عن الجماع في الفرج مؤكدا باليمين بالله تعالى أو بصفاته أو باليمين بالشرط والجزاء حتى لو امتنع من جماعها أو هجرها سنة أو أكثر من ذلك لم يكن موليا ما لم يأت بلفظ يدل عليه.
الفقه الإسلامي وأدلته. ج 9، ص 6982-6985. دمشق: دار الفكر:
«الشك في الطلاق: الشك لغة ضد اليقين، واصطلاحاً: تردد على السواء... وحكمه باتفاق الفقهاء: أن اليقين لا يزول بالشك، وعدم الشك من الزوج في الطلاق هو شرط الحكم بوقوع الطلاق، فلو شك فيه لا يحكم بوقوعه، ولا يعتزل امرأته... والحاصل: أن النكاح ثابت بيقين فلا يزول بشك... وبناء عليه قرر الفقهاء ما سبق وخلاصته: إن وقع الشك في أصل الطلاق لا يحكم بوقوعه؛ لأن النكاح كان ثابتاً بيقين»
«فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي» (4/ 205):
«(ولو قال لأجنبية والله لا أقربك أو أنت علي كظهر أمي ثم تزوجها لم يكن موليا ولا مظاهرا) لأن الكلام في مخرجه وقع باطلا لانعدام المحلية فلا ينقلب صحيحا بعد ذلك (وإن قربها كفر) لتحقق الحنث إذ اليمين منعقدة في حقه»
«الاختيار لتعليل المختار» (3/ 162):
«وسئل محمد عن المرأة تقول لزوجها: أنت علي كظهر أمي، قال: ليس بشيء، لأن المرأة لا تملك التحريم كالطلاق....
ولو قال: أنت علي مثل أمي أو كأمي، فإن أراد الكرامة صدق، وإن أراد الظهار فظهار، وإن أراد الطلاق فواحدة بائنة، وإن لم يكن له نية فليس بشيء»
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 507):
«لو قال لها: أنت أمي لا يكون مظاهرا وينبغي أن يكون مكروها ومثله أن يقول: يا ابنتي ويا أختي ونحوه»
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار). ج 3، ص 470-471:
«ويكره قوله: أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي... وظهارها منه لغو فلا حرمة عليها ولا كفارة... وبأنت علي حرام كأمي صح ما نواه من ظهار أو طلاق، وإن لم ينو ثبت الأدنى وهو الظهار في الأصح»
(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، 3/ 126):
عدم الشك من الزوج في الطلاق وهو شرط الحكم بوقوع الطلاق حتى لو شك فيه، لا يحكم بوقوعه حتى لا يجب عليه أن يعتزل امرأته؛ لأن النكاح كان ثابتا بيقين ووقع الشك في زواله بالطلاق فلا يحكم بزواله بالشك كحياة المفقود، أنها لما كانت ثابتة ووقع الشك في زوالها لا يحكم بزوالها بالشك حتى لا يورث ماله ولا يرث هو أيضا من أقاربه.
«الأشباه والنظائر - ابن نجيم» (ص53):
«شك هل حلف بالله، أو بالطلاق، أو بالعتاق فينبغي أن يكون حلفه باطلا
، ثم رأيت المسألة في البزازية في شك الأيمان: حلف ونسي أنه بالله تعالى، أو بالطلاق، أو بالعتاق فحلفه باطل»
محمد عمران
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
15/ربیع الثانی /8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عمران بن عبد المطہر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


