03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کپڑے کی نجاست دور کرنے کے بعد نماز کا حکم
92337پاکی کے مسائلجنابت کے احکام

سوال

جنابت والے کپڑے کو  اگر صرف نجاست والی   جگہ  سے اچھی طرح دھو کر صاف کر لیا جائے ، تو کیا اس میں نماز  پڑھ سکتے ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں جنابت والے کپڑے میں جس جگہ نجاست لگی ہو اس جگہ کو تین دفعہ اچھی طرح دھو کر نچوڑ لیا گیا ہو تو اس صورت میں اس کپڑے میں نماز پڑھ سکتے ہیں۔پورے کپڑے کو دھونا ضروری نہیں۔

حوالہ جات

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (1/ 331):

"(و) يطهر محل (غيرها) أي: غير مرئية (بغلبة ظن غاسل) لو مكلفا وإلا فمستعمل (طهارة محلها) بلا عدد به يفتى.(وقدر) ذلك لموسوس (بغسل وعصر ثلاثا) أو سبعا (فيما ينعصر) مبالغا بحيث لا يقطر، ولو كان لو عصره غيره قطر طهر بالنسبة إليه دون ذلك الغير، ولو لم يبالغ لرقته هل يطهر؟ الأظهر نعم للضرورة."

محمدحمزہ بن غلام مصطفی

 دار الاِفتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۶/ربیع الثانی/۱۴۴۸ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ بن غلام مصطفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب