| 92340 | معاشرت کے آداب و حقوق کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
اہلیہ کی طبیعت گزشتہ ڈیڑھ سال سے ناساز ہے، اور وہ معذور بھی ہیں، اپنے کام کاج کے لیے وہ بچوں شوہر کو بلاتی ہیں، مگر اتنا اصرار کرتی ہیں کہ بچے اور شوہر جھنجھلا جاتے ہیں، اور ان سے گستاخی ہو جاتی ہے۔ بعد میں افسوس ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں معافی تلافی سے ازالہ ہو جائیگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ شوہر اور بیوی کے معاملے میں باہمی تکرار یا سخت کلامی کو’’گستاخی‘‘ نہیں کہا جائے گا، تاہم شوہر کا اپنی اہلیہ کے ساتھ حسنِ معاشرت سے پیش آنا شرعاً مطلوب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾(النساء: 19)
ترجمہ: ’’اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو۔‘‘
لہٰذا اگر شوہر اہلیہ کی بیماری اور بار بار بلانے کی وجہ سے غصے یا جھنجھلاہٹ میں آکر ان سے سخت کلامی یا تکرار کر بیٹھے تو اسے اپنی زیادتی پر نادم ہوکر اہلیہ سے معذرت کرنی چاہیے اور آئندہ نرمی اختیار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر اہلیہ معاف کردیں تو باہمی حق کی حد تک اس زیادتی کی تلافی ہوجائے گی، تاہم محض ہر مرتبہ معافی مانگتے رہنا کافی نہیں، بلکہ آئندہ اس رویے کو حتی الامکان ترک کرنے کی کوشش بھی ضروری ہے۔
اسی طرح اولاد پر والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا شرعاً لازم ہے، اور ان کے ساتھ سختی، بدکلامی اور بے ادبی کرنا گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا﴾(الإسراء: 23)
ترجمہ: ’’پس انہیں اُف تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑکو اور ان سے عزت و احترام کے ساتھ بات کرو۔‘‘
لہٰذا اگر بچے اپنی بیمار اور معذور والدہ کے بار بار بلانے اور اصرار کرنے کی وجہ سے جھنجھلا کر ان سے سختی یا بے ادبی کرتے ہیں تو یہ شرعاً قابلِ مؤاخذہ ہے، اگرچہ بیماری اور مسلسل خدمت کی وجہ سے طبیعت میں تنگی پیدا ہونا ایک طبعی امر ہے۔ ایسی صورت میں بچوں کو چاہیے کہ والدہ کی مجبوری اور بیماری کو سامنے رکھتے ہوئے صبر و تحمل سے کام لیں، اور اگر کبھی سختی یا بے ادبی ہوجائے تو والدہ سے معافی مانگیں اور آئندہ اس سے بچنے کا پختہ عزم کریں۔ والدہ معاف کردیں تو ان کے حق کی حد تک زیادتی کی تلافی ہوجائے گی، تاہم آئندہ بے ادبی سے بچنا بھی ضروری ہے۔
نیز اس معاملے میں اہلیہ کی طویل بیماری اور معذوری کو خصوصی طور پر ملحوظ رکھنا چاہیے۔ ممکن ہے کہ ان کا بار بار شوہر یا بچوں کو بلانا محض اصرار یا ضد نہ ہو بلکہ اپنی مجبوری، بے بسی اور تنہائی کی وجہ سے ہو۔ اس لیے گھر والوں کو چاہیے کہ ان کی ضروریات کو حتی الامکان پہلے سے پورا کرنے کا انتظام کریں، ان کے ساتھ وقت گزاریں اور گھر کے افراد کے درمیان خدمت کا مناسب نظم بنا لیں، تاکہ کسی ایک فرد پر مسلسل بوجھ نہ پڑے اور جھنجھلاہٹ کی نوبت کم سے کم آئے۔
حوالہ جات
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (3/ 84):
"ومنها استحباب معاشرتها بالمعروف، وعليه حمل الأمر في قوله تعالى، {وعاشروهن بالمعروف} [النساء: 19] ، وهو مستحب لها أيضا والمعاشرة بالمعروف الإحسان قولا، وفعلا وخلقا"
محمدحمزہ بن غلام مصطفی
دار الاِفتاء جامعۃ الرشید کراچی
۱۶/ربیع الثانی/۱۴۴۸ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ بن غلام مصطفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


