| 92406 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
گنگی خیل کے تین بیٹے: انعام گل، جانی گل اور میر حسن گل تھے۔ 1942ء میں جانی گل نے کسی غیر شخص کو قتل کیا، اور 1943ء میں جانی گل کی ذاتی زمین سرکار نے ضبط کر لی۔ اس وقت تینوں بھائی زندہ تھے، اور جانی گل کی بیوی اور بیٹی بھی زندہ تھیں۔ضبطی کے بعد پہلے انعام گل کا انتقال ہوا، پھر جانی گل کا انتقال ہوا، اور اس کے بعد میر حسن گل کا انتقال ہوا۔ آج 2026ء تک زمین سرکار کے نام ہے۔ نیز، جانی گل کی وفات کے وقت انعام گل کے دو بیٹے، مشال اور سعداللہ، زندہ تھے۔ میر حسن گل اور اس کےپوتے اس زمین پر کاشت کر رہے ہیں۔
اب حقیقی ورثاء کون ہیں؟ کیا انعام گل یا اس کے پوتےحقیقی ورثاء ہیں، کیونکہ وہ ضبطی کے وقت زندہ تھے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ جب غیر مسلم اہل حرب مسلمانوں کی ملکیت پر غالب آ جائیں تو وہ چیز مسلمانوں کی ملکیت سے نکل جاتی ہے اور غیر مسلم کی ملکیت میں داخل ہو جاتی ہے۔ لہٰذا، مذکورہ صورت میں جب انگریز حکومت نے جانی گل سے قتل کی تعزیر میں زمین لے لی تو وہ اس کی ملکیت سے نکل گئی، لہٰذا اب اس میں میراث جاری نہیں ہوگی۔
پھر چونکہ انگریز حکومت نے وہ زمین اس وقت کی مقامی پشتون حکومت کو دے دی تھی اور اب تک حکومت وقت کے قبضہ میں ہے ، لہٰذا اب وہ موجودہ حکومت کی ملکیت ہے۔ البتہ اگر موجودہ حکومت وہ زمین جانی گل کے ورثاء کو یہ کہہ کر دے کہ یہ زمین جانی گل کی وفات کے وقت کے ورثاء میں تقسیم کی جائے، تو نقشے کے مطابق جانی گل کے ورثاء کی تفصیل درج ذیل ہے:
انعام گل چونکہ جانی گل کی وفات کے وقت انتقال کر چکے تھے، اگرچہ ضبطی کے وقت وہ زندہ تھے، لہٰذا جانی گل کی میراث میں انعام گل کا کوئی حصہ نہیں ہے؛ کیونکہ میت کے شرعی ورثاء وہی ہوتے ہیں جو اس کی وفات کے وقت زندہ ہوں۔
اسی طرح انعام گل کے پوتوں کا بھی جانی گل کی میراث میں کوئی حصہ نہیں ہے ۔ نیز، میر حسن گل کی موجودگی کی وجہ سے انعام گل کے مذکورہ دونوں بیٹے بھی جانی گل کی میراث میں حصہ نہیں پائیں گے، یعنی وہ محجوب ہوں گے۔
لہٰذا، اگر میت کے ورثاء واقعی وہی ہیں جو سوال میں ذکر کیے گئے ہیں، تو جانی گل کے شرعی ورثاء ان کی بیوی، بیٹی اور بھائی، میر حسن گل ہوں گے۔
حوالہ جات
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (4/ 160):
«(وإن غلبوا على أموالنا) ولو عبدا مؤمنا (وأحرزوها بدارهم ملكوها) لا للاستيلاء على مباح،لما أن الصحيح من مذهب أهل السنة أن الأصل في الأشياء التوقف، والإباحة رأي المعتزلة، بل؛ لأن العصمة من جملة الأحكام المشروعة وهم لم يخاطبوا بها فبقي في حقهم مالا غير معصوم فيملكونه كما حققه صاحب المجمع في شرحه ويفترض علينا اتباعهم فإن أسلموا تقرر ملكهم»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (6/ 762):
«والمستحقون للتركة عشرة أصناف مرتبة كما أفاده بقوله (فيبدأ بذوي الفروض أي السهام المقدرة وهم اثنا عشر من النسب ثلاثة من الرجال وسبعة من النساء واثنان من التسبب وهما الزوجان (ثم بالعصبات) أل للجنس فيستوي فيه الواحد والجمع وجمعه للازدواج (النسبية) لأنها أقوى (ثم بالمعتق) ولو أنثى وهو العصبة السببية ثم عصبته الذكور) لأنه ليس للنساء من الولاء إلا ما أعتقن (ثم الرد) على ذوي الفروض النسبية بقدر حقوقهم (ثم ذوي الأرحام ثم بعدهم مولى الموالاة) كما مر في كتاب الولاء وله الباقي بعد فرض أحد الزوجين ذكره السيد (ثم المقر له بنسب على غيره (لم يثبت) فلو ثبت بأن صدقه المقر عليه أو أقر بمثل إقراره أو شهد رجل آخر ثبت نسبه حقيقة وزاحم الورثة وإن رجع المقر وكذا لو صدقه المقر له قبل رجوعه وتمامه في شروح السراجية سيما روح الشروح وقد لخصته فيما علقته عليها(ثم) بعدهم (الموصى له بما زاد على الثلث) ولو بالكل وإنما قدم عليه المقر له)»
اسداللہ بن قوت خا
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
17/ ربیع الثانی /8144 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسداللہ بن قوت خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


