| 92214 | قصاص اور دیت کے احکام | متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ،کیا کوئی بھاگتے ہوئے گاڑی کے سامنے آیا اور ٹکرا کر مر گیا ،جس میں ڈرائیو رکا کوئی قصور نہیں ،ڈرائیور پر دیت اور کفارہ دونوں ہیں یا صرف کفارہ یا کچھ بھی نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر گاڑی میں کوئی خرابی نہ تھی اور ڈرائیور ٹریفک قوانین کے مطابق گاڑی چلا رہا تھاکہ کوئی شخص اچانک گاڑی کے سامنے اس طرح آیا کہ ڈرائیور کے لیے گاڑی روکنا ممکن نہ تھا، تو ایسی صورت میں نہ یہ قتل خطاہےاور نہ ہی جاری مجری خطا،کیونکہ یہاں مباشرت ِقتل کی نسبت ڈرائیور کی طرف کرنا درست نہیں ۔بلکہ گاڑی سے ٹکرانے والاشخص خود اس ایکسیڈینٹ کا سبب بنا ہے ،کیونکہ وہ خود آلہ قتل پر آگرا ہے، لہذا ڈرائیور ذمہ دار نہ ہوگااور اس پر دیت اور کفارہ لازم نہ ہوگا ۔
حوالہ جات
بحوث في قضايا فقهية معاصرة(1/302):
والذي يظهر لي في هذه الصورة - والله سبحانه أعلم - أن الرجل الذي قفز أمام السيارة إن قفز بقرب منها بحيث لا يمكن للسيارة في سيرها المعتاد في مثل ذلك المكان أن تتوقف بالفرملة، وكان قفزه فجأة لا يتوقع مسبقا لدى سائق متبصر محتاط، فإن هلاكه أو ضرره في مثل هذه الصورة لا ينسب إلى سائق السيارة، ولا يقال: إنه باشر الإتلاف، فلا يضمن السائق، ويصير القافز مسببا لهلاك نفسه .
بحوث في قضايا فقهية معاصرة(285/1):
حد المباشر:أن يحصل التلف بفعله من غيرأن يتخلل بين فعله والتلف فعل مختار.
محمد وجیہ الدین
دارالافتاءجامعہ الرشید کراچی
15/ربيع الثاني/ 1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد وجیہ الدین بن نثار احمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


